آٹا کے بعد تیل کے بحران کی باری

ملک میں ایک بار پھر تیل کے بحران کے خدشات کے اظہارکی وجوہات کاجائزہ لینے کی ضرورت ہے جس کے بحران کے خدشات کے اظہار میں تیزی آگئی ہے عوام میں بے چینی پھیلانے کی بڑی وجہ بن سکتی ہے ۔ امر واقع یہ ہے کہ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے معاملے کی حساسیت پر حکومت کو خط لکھ کر کہا ہے کہ بروقت ایل سیز نہ کھلنے سے ملک میں تیل کے بحران کا خدشہ ہے صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ بینکوں کی جانب سے ایل سیز نہ کھلنے سے کچھ آئل کارگوز منسوخ ہوچکے ہیں اور ایل سیز نہ کھلنے سے تیل کی سپلائی میں تعطل پیدا ہورہا ہے جسے فوری طور پر ختم کرنا ناگزیر ہے۔اس خدشے کا اظہار بے جا نہیں کہ ایک مرتبہ سپلائی چین متاثر ہو تو اس کی بحالی میں 6 سے 8 ہفتے لگیں گے۔جس کا متحمل نہیں ہو ا جا سکتااوگرا کی جانب سے اس کی تردید کافی نہیں بلکہ وزیر خزانہ اور وزیرپٹرولیم کواس کا بروقت نوٹس لیا جانا چاہئے اورجن رکاوٹوں کا ذکر کیا جارہا ہے ان کو دور کرنے کے لئے اقدامات کئے جانے چاہئیں اس طرح کی صورتحال کا عموماً مافیافائدہ اٹھاتی ہے اور ذخیرہ اندوزی و قلت پیدا کرنے کو منافع کمانے کاموقع گردانتی ہے جس سے پورے ملک پربحران کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور سارا ملکی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے خوراک کی قلت اور ایندھن کی قلت سے پیدا بحران سے ہر آدمی متاثر ہوتا ہے حکومت کے لئے آسان نہ ہوگا کہ ایک مرتبہ بحران کی نوبت آئے تو اس پر جلد قابوپایا جا سکے بہتر ہوگا کہ جن تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے اور جورکاوٹیں ہیں ان کو دور کرنے میں تاخیر نہ کی جائے تاکہ نظام حیات اور کاروبار متاثر نہ ہوں۔

مزید دیکھیں :   ضمنی نہیں عام انتخابات