پختونخوا حکومت ختم

پختونخواحکومت ختم،نگران سیٹ اپ پرمشاورت

ویب ڈیسک :وزیر اعلیٰ محمود خان کی جانب سے بھیجی گئی سمری گورنر نے11 گھنٹے کے اندر منظور کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کو تحلیل کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں چند روز سے اطلاعات تھیں کہ گورنر غلام علی سمری پر دستخط نہیں کریںگے انہوں نے خود بھی اس کو غیر آئینی عمل قرار دیتے ہوئے سمری پر خاموش رہنے کا عندیہ دیا تھا جس کے بعد پنجاب کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی اسمبلی 48گھنٹوں میں خود بخود تحلیل ہونے کا امکان تھا لیکن گورنر نے بدھ کے روز اسمبلی کی تحلیل کی منظوری دے کر یہ کشمش ختم کر دی ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ محمود خان کی جانب سے صوبائی اسمبلی کی تحلیل کی سمری منگل کو رات کے9 بجے دستخط کی گئی تھی اور 10بجے رات کو یہ سمری گورنر سیکرٹریٹ کو موصول ہوئی تھی بدھ کی صبح 9 بجکر 15منٹ پرگورنر نے بغیر کسی تنازع اور تاخیر کے دستخط ثبت کرتے ہوئے اسمبلی کی تحلیل کا بکھیڑا ختم کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کی جانب سے تحلیل کیلئے بھیجی گئی سمری میں وزیراعلیٰ نے آئین کے آرٹیکل112شق1 کے تحت صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کی تھی جس پر گورنر سیکرٹریٹ سے صوبائی اسمبلی کو تحلیل کرنے اور نگراں وزیر اعلیٰ کے تقرر تک روزمرہ دفتری امور کیلئے محمود خان کی بطور وزیر اعلیٰ خدمات انجام دیتے رہنے کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے
اس اعلامیہ کی روشنی میں آئین کے آرٹیکل 224 ون اے کے تحت نگران وزیر اعلیٰ کیلئے سی ایم محمود خان اور اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی کو تین روز کے اندر نامزدگی کا عمل مکمل کرنے کی سفارش کی گئی ہے واضح رہے کہ گورنر کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا کابینہ بھی تحلیل ہوگئی ہے لیکن وزیر اعلیٰ آئندہ چند روز تک مزید اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ ادھر خیبر پختونخوا اسمبلی کی تحلیل کے بعد نگران وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کیلئے مشاورت کا مرحلہ شروع ہوگیا ہے سردست یہ معلوم نہیں کہ نگراں مدت کیلئے کس شخصیت کے نام کا قرعہ نکلے گا تاہم سیاسی جماعتوں کی جانب سے وزیراعلیٰ ہائوس کیلئے بیوروکریٹس اور سابق ججز تلاش کئے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبہ میں گورنر کا عہدہ چونکہ جمعیت علماء اسلام کے پاس ہے اس لئے وزیراعلیٰ کے لئے جمعیت کے سوا پی ڈی ایم میں شامل دوسری جماعت سے وزیراعلیٰ آسکتا ہے ۔
سوشل میڈیا اور نجی ٹی وی چینلز پر بھی ایک وش لسٹ شیئر کی گئی ہے۔ ایک اعلیٰ سیاسی عہدیدار نے دعویٰ کرتے ہوئے مشرق کو بتا یا کہ پی ڈی ایم کی جانب سے سابق چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، سابق انسپکٹر جنرل اور ایڈیشنل آئی جی پولیس سمیت سابق بیورو کریٹس کے نام لئے جا رہے ہیں ۔ تاہم کوئی بھی نام فی الحال سرکاری طور پر سامنے نہیں آیا ۔

مزید دیکھیں :   وزارت دفاع کی ضمنی انتخابات کیلئے سیکیورٹی کی فراہمی سے معذرت