اپریل میں الیکشن

نئے آرمی چیف سے تعلق نہیں،اپریل میں الیکشن ہوگا،عمران خان

ویب ڈیسک : پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ الیکشن کی تاریخ میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے ہم نے ایسے نام دئیے جن پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ چئیرمین تحریک انصاف عمران کی زیرصدارت لاہور میں الیکشن کی تیاریوں کے حوالے سے پارٹی اجلاس ہوا، تمام تنظیموں نے ڈور ٹو ڈور مہم کے حوالے سے چئیرمین کو بریفنگ دی۔عمران خان نے کہا کہ نگران حکومت کا کام صاف شفاف انتخابات کروانا ہے
الیکشن کی تاریخ میں کسی بھی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ دریں اثناء بی بی سی کو ایک انٹرویو میں عمران خان کا کہنا ہے ان کے نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ساتھ کوئی تعلقات یا رابطے نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج تک کون سا ایسا سیاسی رہنما آیا ہے جو اپنی حکومت گرا دیتا ہے۔ صاف اور شفاف الیکشن کے لیے ہم نے اپنی دو حکومتیں گرائی ہیں۔ پیشگوئی ہے جو کچھ بھی ہو حکومت اپریل میں الیکشن کرانے پر مجبور ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے قانون کی بالادستی کی دھجیاں اُڑا دی ہیں، اپنے آپ کو قانون کے اوپر کر دیا، ساری چوریاں معاف کروا لی ہیں ان پر یہ وہ کیسز تھے جو ان کے اپنے ادوار میں بنے ہوئے تھے۔ شہباز، نواز، زرداری، مریم یہ سب بچ گئے ہیں، ان کا مقصد اپنے کیسز ختم کرانا ہے۔ جنرل باجوہ نے ہمارے اوپر بٹھانے کے لیے ان کی مدد کی ۔
عمران خان کا کہنا ہے ہمیں یہ خطرہ ہے کہ جس طرح ہماری معیشت گِر رہی ہے، ہمارے چار ارب ڈالر کے ذخائر رہ گئے ہیں، بندرگاہ پر 4 ارب ڈالر کی چیزیں پڑی ہیں جو اٹھا نہیں رہے، چیزیں مہنگی ہو رہی ہیں، بے روزگاری ہے، فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں۔ افغان حکومت اور ٹی ٹی پی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں رجیم چینج پر طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی کوپاکستان واپسی کا کہا، اشرف غنی حکومت کی حوصلہ افزائی سے ٹی ٹی پی وہاں سے پاکستان پرحملے کرتی تھی
افغانستان کی طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی کو کہا واپس جا، جب ٹی ٹی پی نے واپس آنا تھا تو پاکستان کے پاس کیا راستے تھے؟ پاکستان میں یا تو ان 40 ہزار جنگجوں کو خاندانوں سمیت گولی مار دی جاتی، اگرگولی نہیں مارنا تھی تو ٹی ٹی پی والوں کا کیا کرنا تھا۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا ساری سیاسی جماعتیں ٹی ٹی پی والوں کی پاکستان میں واپسی کے لیے متفق تھیں مگر ایسا نہ ہوا، شدت پسندی میں تیزی اچانک نہیں آئی بلکہ آہستہ آہستہ بڑھی۔

مزید دیکھیں :   33حلقوں پر16مارچ کوضمنی انتخابات