واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب

بات نہلے پہ دہلے سے بھی آگے جا چکی ہے ‘تحریک انصاف کی جانب سے ”جواب آں غزل” کے طور پر وزیر اعظم شہباز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے ارادے سامنے آنے کے بعد اور خاص طورپر آنے والے دنوں میں یعنی ممکنہ طور پرمجوزہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں بقول تحریک رہنمائوں کے وفاق میں نگران سیٹ اپ پرراجہ ریاض کے ساتھ مل کرپسند کا نگران وزیر اعظم لانے کوروکنے کے لئے تحریک انصاف قومی اسمبلی میں واپسی کی جوراہیں تلاش کر رہی تھی اورجس کے نتیجے میں عمران خان کو قائد حزب اختلاف بنوانا لازم تھا ‘ساتھ ہی تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں واپسی کے لئے اخباری اطلاعات کے مطابق تین عہدے بھی مانگ لئے یعنی اپوزیشن لیڈر ‘چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی اور پارلیمانی لیڈر کا عہدہ ‘ اس حوالے سے فواد چوہدری کاایک بیان سامنے آیا ہے کہ اب ہمارا فوکس وفاقی حکومت کوگھر بھیجنا نہیں ‘ خواہش ہے کہ مل بیٹھ کرانتخابی معاملات طے کریں ‘ جہاں تک باقی کے دوعہدوںکاتعلق ہے ممکن ہے کہ اس حوالے سے معاملات کسی نہ کسی طورطے ہو ہی جاتے لیکن جہاں تک چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی کا تعلق ہے اگر ماضی میں جھانکا جائے تو بطور اپوزیشن لیڈر شہبازشریف محولہ عہدے کے حقدار تھے لیکن رعونت ‘تکبر ‘ غرور اور نفرت کے جذبات عمران خان میں اس قدر کوٹ کوٹ کربھرے ہوئے تھے کہ انہوں نے شہباز شریف کو اس عہدے پر قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے چور ‘ ڈاکو ‘لٹیرے وغیرہ وغیرہ جیسے القابات سے نوازتے ہوئے مرزا غالب کی یاد دلا دی تھی کہ
واں گیا بھی میں توان کی گالیوں کا کیا جواب؟
یاد تھیں جتنی دعائیں صرف درباں ہوگئیں
بہرحال وزیراعظم شہبازشریف کے خلاف جس تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاریوں کی بازگشت سنائی دے رہی تھی اور ایم کیو ایم نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کا جو”ڈھونگ” رچایا تحریک انصاف کی”امیدیں” رنگ آمیزی سے خوش امیدی اور خوش گمانی سے دوچار تھیں ادھرالبتہ ایم کیو ایم کے دھڑوں نے ایک بارپھراکٹھا ہونے کے باوجود حکومت سے علیحدہ ہونے کی سوچ تج دینے کااعلان ضرور کیا لیکن ماضی کے تلخ تجربات کودیکھ کر صورتحال میں ایک بارپھر پلٹا کھانے کی صورتحال سے دوچار ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا تھا ‘ اس لئے تحریک کے نہلے پہ دہلا مارتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی نے تحریک انصاف کو ”35 پنکچر” لگاکر ششدر کردیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک اس دہلے پرآگے تاش کا کونسا پتا مار کرنئی چال چلتی ہے؟ اس موقع پر کرنل شفیق الرحمان کی دو کتابیں یاد آرہی ہیں یعنی حماقتیں اور مزید حماقتیں ‘ یاد نہیں پڑتا کہ یہ واقعہ دونوں میں سے کس کتاب کاحصہ ہے ‘ ہماری یادداشت تو جواب دے چکی ہے کیونکہ یہ دونوں کتابیں ہم نے 60ء کی دہائی میں پڑھی تھیں گویا تقریباً ساٹھ سال یا کچھ مزید پہلے ‘ اس میں ایک جلہ منے میاں کے کردار سے ٹیوشن پڑھانے والے استاد کی جانب سے گنتی گننے کے جواب میں منے میاں ایک دو تین سے دس تک گنتی سناتے ہوئے آگے یہ کہتا ہے یعنی نودس کے بعد غلام بیگم بادشاہ۔۔ آگے اس کی وضاحت کرتے ہوئے مضمون نگار لکھتا ہے ”اس میں منے میاں کابھی کوئی قصور نہیں تھا اسلئے کہ ا ن دنوں گرمی کی چھٹیوں کی وجہ سے گھر میں تاش خوب کھیلی جاتی تھی”۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے ایک کے نہلے پر دوسرے کے دہلے کے بعد استفسار کیا ہے کہ آگے کونسا پتا مارا جائے گا؟ یعنی
قاصد کے آتے آتے خط اک اورلکھ رکھوں
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
وزیراعظم کے خلاف ممکنہ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ عمران صاحب کو 35پنکچر کا نعرہ تواچھے سے یاد ہو گا فی الحال پنکچر لگائیں اورضمنی الیکشن لڑنا نہ بھولنا ‘ ٹوئیٹر پراپنے پیغام میں وفاقی وزیر نے استعفوں کی منظوری پررد عمل میں کہا اگلے موڑ پرپھرملیں گے پیارے ‘ گویا بقول فلمی شاعر
ہاں اسی موڑ پر
اس جگہ بیٹھ کر
ہم نے وعدہ کیا تھا
اس کے بعد کی صورتحال کسی تبصرے کی خوگرنہیں ہوسکتی ‘ اسی طرح وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے بھی اپنی ٹویٹ میں طنزکرتے ہوئے تحریک انصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”سرپرائز کیسا لگا ؟ ” ہم آرہے ہیں مشاورت کرنے ‘ یہ لو مشاورت!! بہرحال اب باری تحریک انصاف کی ہے اور پتوں کاکھیل تو اب شروع ہوا ہے ‘ یقینا سرپرائز کے بعد سرپرائز کایہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے ‘ خاص طور پر یہ جو مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے 35ارکان کے استعفوں کی منظوری اور ان کی خالی نشستیں خالی قرار دیئے جانے کے بعد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی پی ڈی ایم ضمنی الیکشن میںحصہ نہیں لے گی ‘ انہوں نے کہا کہ الیکشن نہ لڑنے کی وجوہات کابھی جلد اعلان کیاجائے گا ‘ وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے بھی کچھ اسی قسم کے خیالات کاا ظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوتین ماہ کے لئے کون الیکشن لڑے گا؟ ہمیں ضمنی الیکشن نہیں لڑنے چاہئیں ۔ مولانا صاحب ضمنی الیکشن نہ لڑنے کی کیا توجیح پیش کرتے ہیں اس بارے میں توان کی جانب سے یاپھر پی ڈی ایم کا مشترکہ موقف سامنے آنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکے گا تاہم سوشل میڈیا پربعض پوسٹوں میں یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ پی ڈی ایم ان خالی نشستوں پرصرف عمران خان ہی کو الیکشن لڑنے کاموقع دے کرقومی خزانے پر بوجھ ڈالنے سے گریز کرے’ کیونکہ ان پوسٹوں میں یہ خیال ظاہرکیاگیا ہے کہ اب کے بار بھی عمران خان اکیلے ہی ان35 نشستوں پراکیلے ہی الیکشن لڑنے کی سوچ اپنا سکتا ہے اورانہیں بلا مقابلہ جیتنے کا موقع دے کرالیکشن پراٹھنے والے کروڑوں کے اخراجات بچائے جاسکتے ہیں ‘ ممکن ہے کہ مولانا صاحب کی بھی یہی سوچ ہو کہ عمران خان گزشتہ بار کی طرح اس دفعہ بھی اکیلا ا میدوار بن کر 35 نشستوں پرانتخاب لڑتے ہوئے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنے نام کا اندراج کرائے تاہم یہی وہ پتا ہوگا جو عمران خان کی جانب سے کھیلتے ہوئے ترپ چال کے طور پرپھینکا جا سکتا ہے یعنی اچانک ہی تمام 35 نشستوں پر کورنگ کینڈیڈیٹس کو ا لیکشن لڑنے کاکہہ کر بلا مقابلہ انتخابی معرکہ سر کیا جا سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا توپی ڈی ایم والوں کولگ پتہ جائے گا یعنی اس کے بعد وہ یہ بھی کہنے پرمجبور ہو سکتے ہیں کہ
میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پہ زباں رکھ دی
اس لئے ہوشیاریار جانی ‘ یہ دیس ہے ٹھگوں کا والا گانا گنگنانے سے بہتر ہے کہ پی ڈی ایم بھی اعلانیہ نہیں تغیر اعلانیہ طور امیدوار پہلے سے تیارکرکے میدان میں”شب خون” مارنے کے لئے اتار دیں تاکہ بعد میں کف افسوس ملنے کی نوبت نہ آئے۔ کہ بقول شاد عظیم آبادی
یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جوبڑھ کرخود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے

مزید دیکھیں :   تصور پاکستان اور سیاسی قائدین