سیاست میں مذہب کارڈ

سیاست اپنے معانی و مفاہیم اور تاریخی پس منظر کے حوالے سے بہت ہی اعلیٰ و ارفع کام ہے اور ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ عین عبادت بھی ہے کیونکہ اس میں خدمت خلق کا جذبہ پایا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی اسرائیل کے انبیاء علیھم السلام کے بارے میںفرمایا ہے ”کہ بنی اسرائیل کی سیاسی قیادت انبیاء کرام کرتے تھے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے ان کونبوت بھی دی تھی ‘ بادشاہت بھی اورحکمت بھی دی تھی ‘ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد یوشع بن نون سے لے کر حضرت ذکریا علیہ السلام تک اکثر انبیاء علیھم السلام حاکم اور قاضی تھے ۔حضرت دائود علیہ السلام کو خلافت ارضی دی تھی تاکہ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کریں ‘ حضرت سلیمان علیہ السلام نے تو دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا تھا کہ ”اے رب مجھے ایسی بادشاہت دے جو میرے بعد کسی کو نہ ملے ‘ اور واقعتاً اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی بادشاہت عطا فرمائی جو بعد میں کسی کو نہیں ملی۔
بنی اسرائیل کے انبیاء کے بعد خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشریف لائے تو فرمایا ۔ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا” لہٰذا سیکون بعدی خلفاء میرے بعد خلفاء سیاسی قیادت کرتے رہیں گے”۔ اور یہ تسلسل قائم رہے گا۔لہٰذا اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ انبیاء کے زمانے میں تو سیاست نبوت کی بنیاد پر چلتی تھی اور انبیاء کرام ہی امام ‘ قاضی ‘ معلم ‘ حکمران اور سیاستدان سبھی کچھ ہوتے تھے ‘ گویا کہ اکثرابنیاء سیاست کرتے آئے ہیں۔
جناب خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں حکومت و ریاست بنائی اور جو کچھ سیاست میں ہوتا ہے وہ سب کچھ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور کہا ‘ سیرت النبیۖ کی روشنی میں یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ سیاست کا سب سے بڑا اور بنیادی مقصد ریاست و حکومت قائم کرنا ہوتا ہے مگر ایسی حکومت جس میں بنی نوع انسان سے لے کر چرند پرند اور ساری کائنات و مخلوقات کی بھلائی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ طیبہ کی ساحلی پٹی پر جو ریاست قائم فرمائی اس کی بنیاد وہاں کے مختلف قبائل کے درمیان اخوت و بھائی چارے کی بنیاد پہ میثاق مدینہ پر رکھی تھی ۔ انصارکے دوقبائل اوس اور خزرج جو بعد میں انصار مدینہ کہلائے کے ساتھ بیعت عقبہ کے نام سے تین دفعہ مذاکرات ومعاہدے کئے ۔ تب جا کر ہجرت مدینہ کے لئے حالات ساز گارہوئے ‘ اور وہاں دس برسوں کے اندرایک ایسی ریاست و حکومت قائم ہوئی جس کے معاملات وحی الٰہی ‘ مشاورت اور اخوت و باہمی اعتماد پرچلتے تھے ۔ آپۖ کی رحلت کے بعد جب وحی کا سلسلہ بند ہوا اور خلفائے راشدین کی حکومت شروع ہوئی تو پہلے خلیفہ راشد باہمی مشاورت بلکہ ایک قسم کے انتخاب کے عمل کے ذریعے سے منتخب ہوئے کیونکہ آپ کے مقابلہ میں سیدالانصار حضرت سعد بن عبادہ جو خزرج کے سردارتھے ‘ بطور امیدوار خلافت سامنے آئے ‘ لیکن تفصیلی بحث مذاکرات دلائل کے بعد حضرت ابوبکر پہلے خلیفہ بن گئے اور پھر یہ سلسلہ خلافت عثمانیہ تک کسی نہ کسی صورت چلتا رہا
یہاں تک کہ 1923ء میں خلافت عثمانی کے اختتام پر قومی ریاستیں وجود میں آئیں اور مسلمانان عالم حصوں بخروں میں تقسیم ہوکربادشاہت ‘ آمریت اور برائے نام نام جمہوریتوں کے تحت رلتے رہے اگرچہ بعض امر تیں بعض حوالوں سے آج کی پاکستان میں رائج جمہوریت سے بہتر بھی ہیں لیکن بہرحال وطن عزیز کی بعض امریتیں بعض حوالوں سے آج کی پاکستان میں رائج جمہوریت سے بہتر بھی ہیں لیکن بہرحال وطن عزیز میں 75برس کے بعد یہ معاملہ آج تک طے نہیں ہوا کہ پاکستان جب اسلام کے نام پروجود میں آیا ہے تو یہاں حکومت کس طرز کی ہو گی۔ پاکستان کے سیاسی علماء میں سے کئی ایک بڑے نام تحریک پاکستان کے مخالف اور ناقد رہے یں اوربعض تو اب بھی بہت فخر کے ساتھ اپنے آپ کو کانگریسی عالم کہلواتے ہیں لیکن قیام پاکستان کے بعد بہرحال جب کبھی ضرورت پڑی یہ ضرورت اکثر ان کی ذاتی ہوتی ہے اور کبھی کبھی بڑی طاقتوں کی ایماء پر بھی تو اسلام یعنی مذہب کو بہت موثرانداز میں استعمال کیاگیا۔ خود تحریک پاکستان کے دوران قائد اعظم محمد علی جناح جیسی شخصیت نے پاکستان کے آئین اور نظام حکومت کواسلامی اصولوں مطابق چلانے کا عندیہ اپنی تقاریر میں بہت واضح انداز میں دیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ایک وقت میں مذہبی کارڈ کے استعمال سے گریز نہیں کیا۔ 1979ء میں افغانستان میں روسی جارحیت کے خلاف تو مذہب کااستعمال ایک دنیا نے تسلیم کیا ضیاء الحق تو اس کے چیمپیئن تھے ۔ آج کے پاکستان میں عمران خان پہلے سیاستدان ہیں جنہوں نے پاکستان میں ریاست مدینہ کی طرز
پرحکومت قائم کرنے کانعرہ دیا۔ پاکستان میں ایک خطرناک اور بعض دفعہ بہت ناپسندیدہ عمل یہ رہا کہ مذہب کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بہت بھونڈے انداز میں استعمال کیا جاتا ہے اور اسی بناء پر توہین رسالت کے واقعات میں پاکستان پر بڑی طاقتیں اکثرمعترض ہوتی ہیں پچھلے دنوں عمران خان پر حملہ کرنے والے کو بھی یہی پٹی پڑھائی گئی تھی اپنے مولانا صاحب توکب سے عمران خان اور ان کے ہمنوائوں کو مغربی تہذیب کے نمائندے اور اسلام کے لئے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم سب کو مغرب کی ایجادات و تعیشات بہت اچھی لگتی ہیں ان سے دن رات مستفید ہوتے رہتے ہیں اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ وطن عزیز کو معاشی دلدل سے سب مل کر نکالیں ورنہ یاد رکھیں کہ پچھلے دنوں ہیتھر ایئرپورٹ پر یورینیم کا جو پارسل پکڑا گیا ہے اس کے ڈانڈے پاکستان سے ملائے جارہے ہیں لہٰذا آئین پاکستان میں قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں اس سیاست کی شروعات کریں جس میں باہمی مشاورت ‘ اخوت اور عوام و وطن عزیز کی فکر ہو ‘ ہم سب اس وقت 274 ارب ڈالر کے مقروض ہیں اور یہ ہماری جی ڈی پی کے90فیصد کے برابر ہے یہ ہولناک و گھمبیر معاشی مسئلہ جنیوا کانفرنس میں کئے گئے وعدوں سے حل ہونے والا نہیں اس کے لئے چین ‘ سعودی عرب اور امارات وقطر جیسے دوست ملکوں کے سامنے توبہ تائب ہونا پڑے گا کہ بس اس دفعہ یہ قرض کی عیاشیوں اور کرپشن کی بلا سے ہماری گردن چھڑائیں آئندہ کے لئے ہم سب بحیثیت قوم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم محنت مزدوری کرکے اپنے ہاتھ کی کمائی ہی کھائیں گے کہ اس سے بہتر کام کوئی دوسرا نہیں۔

مزید دیکھیں :   ترکیہ کا تباہ کن زلزلہ اورہم