خود میاں فضیحت

شہید بینظیر بھٹو وومن یونیورسٹی پشاور اور ریڈیو پاکستان پشاور کے مابین مفاہمتی یادداشت کے تحت یونیورسٹی اپنی تشہیری مہم ریڈیو پاکستان پشاور سے کمرشل بنیادوں پر نشر کرے گیشہیدبینظیربھٹو ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر کی ریڈیوپاکستان پشاور کی خاتون سٹیشن ڈائریکٹر کے ساتھ تشہیری مہم چلانے بارے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط اس بناء پر خندہ استہزا کا باعث امر ہے کہ یونیورسٹی اپنے تدریسی عملے کو اکتوبر کی اکتیس تاریخ کے بعد کوئی چیک جاری نہیں کر سکی ہے جس کے باعث مستعفی اساتذہ نے یونیورسٹی کی طالبات کے پرچے روک رکھی ہیں۔ تشہیر اورنیک نامی کا اولین اصول اپنے داخلی ناطقین سے اپنے انجمن اور ادارے کی تعریف کروانے کا ہے داخلی طورپرکھوکھلے پن اور غصب حقوق کے ساتھ ریڈیائی لہروںپرکتنا بھی پراپیگنڈہ کیا جائے اس کے اثر پذیری سے قطع نظر یہ سرکاری ریڈیو کے سامعین کو گمراہ کرنے کا باعث امر قرارپائے گا جس کی ریڈیو پاکستان کی پالیسی میں گنجائش نہیںجس ادارے کی داخلی صورتحال بارے منفی تاثرات کاباعث بننے والے درجنوں عوامل موجود ہوں وہاں ضرورت اس امرکی ہوتی ہے کہ پہلے ان نقائص اور خامیوں کودور کیاجائے جو منفی اثرات کا باعث ہوں۔ شہید بینظیربھٹوویمن یونیورسٹی خواتین کی تعلیم کا اہم ادارہ ہے اور اس کی وقعت اور تاریخ ہے جسے بے وقعت ہونے سے بچانے کا تقاضا ہے کہ جامعہ کے داخلی معامات میں چلنے والی کشمکش کو ملازمین سے ناانصافی کا مرتکب ہونے کا باعث نہ بنایاجائے ادارہ جاتی اصلاحات کی جائیں جس کے ساتھ ساتھ دیہاڑی دار تدریسی عملے کی بھرتی و رخصتی کے گھن چکر سے طالبات کودرپیش مشکلات دور کی جائیں اس کا تقاضا ہے کہ مزید وزیٹنگ فیکلٹی سے کام چلانے کی بجائے مستقل بنیادوں پرمیرٹ پراور شفاف انداز میں تدریسی عملہ کی بھرتی کی جائے تاکہ جوہر قابل ہاتھ آسکیں اور آئے روز عملہ تدریس کے آنے جانے کا سلسلہ بند ہو۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وائس چانسلر خارجی طور پرجامعہ کومتعارف کرانے کی اس تازہ احسن سعی کے ساتھ ساتھ داخلی خامیوں پربھی توجہ دیں گی اور ان خامیوں کے جو منفی اثرات خاص طور پر شعبہ تدریس پرمرتب ہو رہے ہیں ان کو دورکرکے ایک اعلیٰ تعلیمی ماحول کے قیام کی سعی کریں گی تاکہ طالبات جو خواب آنکھوں میں سجائے جامعہ آتی ہیں ان کی تعبیرادھوری اور نامکمل نہ رہ جائے ۔

مزید دیکھیں :   پرویز مشرف، تاریخ کا ایک متنازعہ کردار