احتیاط کا دامن تھام کے

قومی اسمبلی سے صحابہ کرام اہلبیت عظام،و امہات المومنین کی توہین پر عمر قید کی سزا کے بل کی منظوری ایک احسن عمل اور دیرینہ مطالبے کی تکمیل ہے صحابہ کرام ، اہلبیت عظام و امہات المومنین کی توہین روکنے سے متعلق بل 2022ء کو ارکان نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ نئے قانون کے تحت صحابہ و اہلبیت عظام اور امہات المومنین کی توہین پر کم سے کم سزا10سال جبکہ زیادہ سے زیادہ عمر قید ہوگی جب کہ پرانے قانون میں یہ سزا 3سال تک تھی۔توہین رسالت اور اس طرح کے دیگر دینی شعائرکے حوالے سے قانون کوسخت سے سخت بنانے کے ساتھ ساتھ اسطرح کے مقدمات میںباریک بینی سے مقدمہ ثابت کرنے اور شواہدکوبھی ٹھوس اورسخت رکھنے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی ہے کہ بعض اوقات ان قوانین کے غلط استعمال کے باعث مخالف عناصر کو پراپیگنڈا کرنے کا موقع ملتا ہے اس طرح کی کراچی میں ایک حالیہ کوشش میں اگر آڈیو ویڈیو ثبوت نہ ہوتے تو ایک بے گناہ پرالزام لگنے کاپورا امکان تھاقانون کی ایوان سے متفقہ منظوری سے اس بارے اختلاف رائے اور ترامیم کی گنجائش اور ضرورت نہ ہونے پرارکان کا اتفاق نظر آتاہے جو خوش آئند ایمانی جذبہ ہے جید علمائے کرام اس امرپرزور دیتے ہیں کہ یہ جس طرح کا الزام ہوتا ہے اس کے لگانے اور اس کے تحت سزا دینے میں نہایت احتیاط کی ضرورت ہے تاکہ اس کا غلط استعمال نہ ہو اور کسی بے گناہ کوسزا نہ ہو۔ بہرحال قانون سازی اور قوانین کوسخت بنانے کی ذمہ داری ایوان نے پوری کی اس کے بعد پولیس اور عدلیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس قانون کے دفعات لگانے اور اس پر چلنے والے مقدمے میں پوری احتیاط کامظاہرہ کریں علمائے کرام کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بارے میں عوام کی رہنمائی کریں کہ وہ اس طرح کے الزامات کو سوچے سمجھے بنا نہ لگائیں اور چونکہ یہ معاملہ دین کا ہے لہٰذا جوبھی صورتحال ہو اس بارے جید علمائے کرام کوآگاہ کیا جائے اور صورتحال کے پیش نظر وہ اگر مناسب سمجھیں تبھی معاملے کو قانونی طور پراٹھایا جائے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی کا امکان باقی نہ رہے اور نہ ہی قانون کے غلط استعمال کا الزام آئے۔ جس قانون کی منظوری دی گئی ہے بلاشبہ یہ بطور مسلمان ہمارے لئے نہایت عقیدت کی حامل ہستیوں کے بارے میں ہے جس بارے حساس ہونا فطری امر ہے باوجود اس کے احتیاط کو لازم گرداننا احسن ہوگا۔

مزید دیکھیں :   ضم اضلاع کے عوام کی محرومیاں