نئے مواقع سے خود کفالت پروگرام تک

کورونا کی وجہ سے جہاں پوری دنیا کی معیشت تباہی سے دوچار ہوئی ہے وہیں پاکستان جیسے ملک کے مسائل میں دوچند اضافہ ہوگیا ہے، محتاط اندازے کے مطابق ایک کروڑ لوگ بیروزگار ہوئے ہیں جبکہ کارخانے، فیکٹریوں اور نجی دفاتر میں ملازمت سے برخاست ہونے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے، اس کیساتھ ہی بے شمار نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں لیکن ان مواقع سے صرف بیدار مغز لوگ ہی مستفید ہوسکیں گے۔ لاک ڈاؤن کے ایام میں انٹرنیٹ کی اہمیت اور اس کے صارفین میں اضافہ ہوا ہے لوگوں کو پہلی مرتبہ اندازہ ہوا ہے کہ گھر پر بیٹھ کر بھی کام نمٹائے جا سکتے ہیں اسلئے کہا جا رہا ہے کہ آنے والے وقت میں آئی ٹی کے کام میں تیزی آئے گی۔ آن لائن ہونے والے کام زیادہ ہونے لگیں گے، جس سے جہاں نئے روزگار کے مواقع ملنے کا امکان ہے، وہاں یہ خدشات بھی ہیں کہ بہت سے لوگ بیروزگار ہو جائیں گے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال نے فیکٹریوں کی بندش کی وجہ سے برآمدی آرڈرز کی تکمیل میں رکاوٹیں پیدا کر دی ہیں تو اس کیساتھ ملک میں بیرون سرمایہ کاری کی آمد بھی رک چکی ہے۔ سوائے روزمرہ اور سبزی وفروٹ کی دکانوں کے ہر کاروبار بند کر دیا گیا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ لارج سکیل مینوفیکچرنگ کمپنیوں میں سے ساٹھ فیصد سے زائد کمپنیاں اس وقت مکمل بند ہیں اور باقی چالیس فیصد میں جزوی طور پر کام جاری ہے۔ مکمل طور پر بند کمپنیاں آٹو، ٹیکسٹائل، انجنیئرنگ، سیمنٹ، کیمیکلز وغیرہ کے شعبوں سے متعلق ہیں۔ حکومتی ادارے بھی لاکھوں افراد کے بیروزگار ہونے کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
پاکستان میں منصوبہ بندی کی وزارت کے ذیلی ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے ایک کروڑ سے زائد افراد کے بیروزگار ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے لیکن یہ ایک اندازہ ہی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں حکومتی ادارے اعداد وشمار سے محروم ہیں اور اس بارے میں کوئی سنجیدہ پیش رفت بھی ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ کورونا سے پہلے جاری کردہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دنیا میں پچاس کروڑ سے زائد افراد بیروزگار ہیں یا وہ جز وقتی ملازمت کر رہے ہیں۔ کورونا کے دوران اور اس کے بعد یہ صورتحال مزید خوفناک ہوگی۔ پوری دنیا میں لاک ڈاؤن نے معاشی سرگرمیوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ بہت سے ممالک حالات کی سنگینی کے باوجود اب صنعتی اور معاشی سرگرمیاں بحال کر رہے ہیں، بیروزگاری ایک سنگین مسئلہ ہے، یہ جرائم کی ماں ہے، بھوک، جرائم خودکشی، سماجی بدامنی اور معاشرہ میں توڑ پھوڑ سب اس کے بطن سے جنم لیتے ہیں۔ جوں جوں بیروزگاری بڑھ رہی ہے، کام کرنے والے کروڑوں افراد کیلئے بہتر زندگی گزارنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ بہت بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو کام کرنے کے قابل ہیں اور کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں کام نہیں ملتا۔ پاکستان میں اس وقت بیروزگاری کی شرح79فیصد ہے اور شرح غربت56فیصد۔ یہ اعداد وشمار کورونا کے لاک ڈاؤن سے پہلے کے ہیں۔ صرف سندھ میں گزشتہ پانچ برس میں 1300افراد نے خودکشی کی ہے۔ خودکشی کرنے والوں میں 1300افراد کی عمریں21 سے40 سال کے درمیان تھی۔ ظاہر ہے یہ افراد کے کام کرنے کی عمر ہوتی ہے، ان میں سے اکثریت بیروزگاری، بھوک اور غربت کا شکار تھی۔
ملک کی معاشی ترقی کے اعشاریوں میں تنزلی کی وجہ سے پہلے ہی بیروزگاری کی شرح بلندی کی طرف گامزن تھی اور اس میں مزید اضافہ کورونا وائرس کے نتیجے میں معاشی پہئے کے رک جانے کی وجہ سے ہوا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے پیش کردہ اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں جی ڈی پی کی شرح میں اس مالی سال دو سے ڈھائی فیصد رہنے کی توقع ہے۔ کورونا وائرس سے پہلے جی ڈی پی تین فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ پاکستانی معیشت کے تازہ ترین جائزوں میں ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک اور موڈیز نے ملکی معیشت کے کورونا وائرس کے جھٹکوں سے مزید خراب ہونے کی پیشگوئی کی ہے، اس لئے موجودہ صورتحال میں ہمیں اپنے حالات اور ضرورت کے مطابق ایک ایسا لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے، جس سے ہم ملک میں بیروزگاری کے سیلاب کو روکنے میں کامیاب ہوں اور ملک میں دوبارہ سے معاشی، صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کرسکیں۔ کورونا کی وبا کب ختم ہوگی اور کیسے ہوگی، اس بارے میں کوئی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا لیکن عوام کی زندگیوں کو آسان اور سہولت فراہم کرنا بھی ضروری ہے، یہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ان حالات میں بنیادی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو وقتی امداد فراہم کرنے کی بجائے مستقل بنیادوں پر سوچے، اس پیدا شدہ صورتحال سے جو نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں عوام میں سے صرف ایک خاص طبقہ ہی اس سے فائدہ اُٹھا سکے گا یا جن کے پاس وسائل ہوں گے وہ وسائل کو بروئے کار لاکر فائدہ اُٹھائیں گے، اس لئے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مقصد کیلئے ماہرین کی ٹیم اور باقاعدہ بجٹ مختص کرے، ماہرین کی ٹیم مختلف سروے کروائے، سروے کی روشنی میں حکومت عوام کو نئے مواقع سے آگاہ کرنے کیساتھ ساتھ پلیٹ فارم بھی مہیا کرے تاکہ عوام حکومتی امداد پر انحصار کرنے کی بجائے خود کفیل ہو سکیں۔