احتیاط احتیاط اور احتیاط

ج ہم کرونا کے عہد میں جی رہے ہیں، ہماری صبح کا آغاز کرونا کی دل شکن خبروں سے ہوتا ہے، آج صبح سویرے اخبار پر نظر ڈالی تو سب سے پہلے یہ خبر منہ چڑا رہی تھی: پشاور میں شرح اموات 9.3، ملک بھر میں2.3 اور مزید یہ کہ پاکستان میں ہونے والی اموات میں سے 47فیصد کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے! اب اس خبر پر کیا تبصرہ کیا جائے؟ ہم تو اب تک اس پر کئی کالم لکھ چکے ہیں کہ ہمارے یہاں کرونا کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا، جو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں وہ نہیں کی جارہی ہیں، ایک طرف تو موت کا رقص شروع ہو چکا ہے اور دوسری طرف افطار پارٹیوں کا سلسلہ بڑے تواتر کیساتھ جاری ہے، فیس بک پر تصاویر لوڈ کی جارہی ہیں جن میں لوگ احتیاط کے ہر تقاضے کو بالائے طاق رکھ کر ایک دوسرے سے گلے ملے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح لاک ڈاؤن میں ذرا سی نرمی ہوتی ہے تو لوگوں کی فوج ظفر موج بازاروں میں عید کی خریداری کیلئے اُمڈ آتی ہے، بازاروں میں کھوے سے کھوا چھل رہا ہوتا ہے۔ ارے بھائی! کیسی عید اور کہاں کی عید؟ لاک ڈاؤن کی وجہ سے غریب لوگوں کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں ان کیلئے گھر کا چولہا جلانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوچکا ہے اور آپ عید کی خریداری کیلئے بے چین ہیں، ابھی تو عید کی آمد میں کچھ وقت ہے ذرا سوچئے! اگر عید تک کرونا کے وار اور تیز ہوگئے اور شرح اموات مزید بڑھنے لگی تو پھر آپ عید کیسے منائیں گے؟ اس وقت ملک میں جتنے لوگ جاں بحق ہوئے ہیں ان میں سب سے زیادہ خیبر پختونخوا میں 180 لوگ زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے ملک بھر میں پشاور کی شرح دوسرے شہروں سے کئی گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے، پشاور میں 1191افراد کرونا سے متاثر ہوئے اور 111مریض فوت ہوچکے ہیں، اس تناسب سے یہ شرح 9.3فیصد ہوگئی ہے پشاور اور خیبر پختونخوا میںاموات کی شرح روزبروز بڑھتی ہی چلی جارہی ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ابھی تک محکمہ صحت کی جانب سے کسی بھی قسم کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ محکمہ صحت کی طرف سے اس کی وجوہات بتائی جاتیں کہ کرونا تو وہی ہے جس کے بارے میں چینی سفیر کا کہنا ہے کہ پاکستان جڑی بوٹیوں سے بھی کرونا پر قابو پالے گا، یہ عارضی چیلنج ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر مریض جوان ہیں اور ان میں علامات بھی ہلکی ہیں اس لئے علاج آسان ہے۔ جب جڑی بوٹیوں سے بھی کرونا کا مقابلہ کیا جانا ممکن ہے تو پھر پشاور میں اتنی زیادہ اموات کیوں؟ محکمہ صحت کو اس حوالے سے چپ کا روزہ توڑنا چاہئے اور اس حوالے سے کھل کر بات کی جائے تاکہ اس سنگین مسئلے کا کوئی مناسب حل تلاش کیا جاسکے۔ سننے میں تو یہ آیا ہے کہ آئسولیشن وارڈ میں خاطر خواہ انتظامات دیکھنے میں نہیں آرہے، ڈاکٹروں کی مجبوری یہ ہے کہ انہیں مکمل طور پر حفاظتی کٹس دستیاب نہیں ہیں اس لئے وہ مریضوں سے فاصلہ رکھ کر چیخ چیخ کر بات کرتے ہیں، پشاور میں بڑے پیمانے پر ڈاکٹروں کا کرونا سے متاثر ہونا اس بات پر شاہد ہے کہ یہاں ڈاکٹروں کیلئے مناسب حفاظتی انتظامات نہیں ہیں، اگر کرونا کی ویکسین ابھی تک تیار نہیں ہوسکی تو احتیاط تو کی جاسکتی ہے، دوسری حفاظتی تدابیر تو اختیار کی جاسکتی ہیں۔ چین، سپین، اٹلی اور دوسرے ممالک جہاں کرونا کی وجہ سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں ان کو بھی اسی قسم کے مسائل کا سامنا تھا لیکن انہوں نے اپنے ڈاکٹروں کو ہر قسم کی سہولت مہیا کی یوں کہئے کہ انہوں نے اپنے طبی سپاہیوں کو سب سے پہلے پوری طرح مسلح کیا اور پھر اس کے بعد محاذ پر بھجوایا اور وہ کامیاب بھی ہوگئے۔ اب ان ممالک میں آہستہ آہستہ تفریح گاہیں کھولی جارہی ہیں، کاروبار زندگی معمول پر آرہا ہے۔ ہمیں اپنے گھر میں قرنطینہ کی گئی ایک ڈاکٹر کے حوالے سے پتا چلا ہے کہ وہ ادرک، دارچینی، لیموں اور کلونجی سے بنے ہوئے قہوے سے اپنا علاج کر رہی ہیں، اگر ویکسین نہیں ہے تو ان جڑی بوٹیوں کے علاج سے بھی فائدہ ممکن ہے لیکن جناب سب سے پہلے احتیاط احتیاط اور بس احتیاط! جب پاکستان کے دوسرے شہروں میں کرونا متاثرین کی شرح اموات کم ہے اور ہمارے یہاں زیادہ ہے تو اس کی کچھ وجوہات تو یقینا ہوں گی؟ اور یہ ہم سب کو معلوم ہیں، یہاں جو احتیاط کی بات کرتا ہے اس کا مذاق اُڑایا جاتا ہے اسے ڈرپوک ہونے کے طعنے دئیے جاتے ہیں، کرونا سے لڑنے کی باتیں کی جاتی ہیں۔ اللہ کے بندو! اگر ہم اس خدائی آفت سے نہیں ڈریں گے تو پھر کس سے ڈریں گے؟ ستم ظریفی کی انتہا تو یہ ہے کہ ہم لڑ کسی سے نہیں سکتے لیکن لڑنے کے دعوے سب سے کرتے ہیں۔ اب بھی بچت کی گنجائش ہے کھیل مکمل طور پر نہیں بگڑا، اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل سلیم عطا کر رکھی ہے اگر ہم مہذب ہونے کے دعویدار ہیں تو ہم نے اسے ثابت بھی کرنا ہے۔ انسانی زندگی تو اللہ کریم کا عطا کردہ عطیہ اور بہت بڑی نعمت ہے ہمیں اس کی قدر اور حفاظت بھی کرنی چاہئے اس سے کون انکار کرسکتا ہے کہ رہے گا نام اللہ کا لیکن جان بچانی فرض ہے۔