پنجاب میں قبل از وقت الیکشن

پختونخوا اور پنجاب میں قبل از وقت الیکشن میں تکنیکی مسائل

ویب ڈیسک : خیبر پختونخوا اورپنجاب میں صوبائی اسمبلیوں کیلئے 90 روز میں انتخابات کرانے میں بے شمار تکنیکی مسائل سامنے آ گئے ہیں اس تناظر میں اکتوبر سے قبل الیکشن کے آثار نظر نہیں آ رہے اور نگراں مدت 8 مہینے تک جانے کا امکان ہے بصورت دیگر دو صوبوں کیلئے الگ انتخابات پر سوالات اٹھیں گے اور سیاسی جماعتیں نتائج قبول نہیں کریں گی جس سے ملکی حالات مزید خراب ہوں گے واضح رہے کہ یکم فروری سے ڈیجیٹل مردم شماری کا آغاز کیا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ مارچ کے اختتام تک مکمل ہوگا جس کے بعد حلقہ بندیوں کیلئے بھی کم از کم تین مہینے کا وقت درکار ہوگا اسمبلیوں کی اپنی مدت رواں برس16اگست کو پوری ہونی ہے
اس لئے اس حساب سے اکتوبر میں انتخابات ہوں گے اور نئی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیاں بھی مکمل ہوں گی لیکن چونکہ اسمبلیوں کو مدت سے قبل فارغ کیا گیا ہے اس وجہ سے انتخابات کیلئے 90 روز کی مدت اپریل میں مکمل ہوگی
یعنی آئینی اور قانونی طور پر اپریل کے وسط میں انتخابات ہوں گے تاہم تکنیکی طور پر اگر خیبر پختونخوا اور پنجاب میں صوبائی انتخابات وقت سے قبل کرائے جاتے ہیں تو یہ الیکشن پرانی مردم شماری اور سابقہ حلقہ بندیوں کی بنیاد پر ہوں گے جبکہ وفاق ، سندھ اور بلوچستان میں الیکشن مقررہ مدت یعنی اکتوبر میں ہوں گے تو اس کیلئے نئی مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر ووٹنگ ہوگی اور اس کے نتیجے میں ملک بھر میں ایک نیا تنازع پیدا ہوجائے گا اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے ہنگامہ کیا جائے گا اس لئے امکان ہے کہ اکتوبر سے قبل عام انتخابات نہیں ہوں گے اور نگران مدت کم ازکم 8 ماہ تک ہوگی۔

مزید دیکھیں :   ہم دہشت گردوں سے کب تک ڈرتے رہیں گے؟جسٹس فائزعیسیٰ