مشرقیات

دجلہ کے کنارے جاتے جاتے نظر اٹھی تو دیکھا کہ ایک عورت لیٹی تھی اور ایک مرد اس کے پاس بیٹھا تھا مرد کے ہاتھ میںایک بوتل تھی کبھی وہ بوتل سے خہد پیتا کبھی اس عورت کوپلاتا دور سے تو بس یہی کچھ نظرآتا تھا وہ کون تھے کس عمر کے تھے کچھ معلوم نہ ہوتا تھا۔
دجلہ سے اس وقت گزرنے والے اللہ کے نیک بندے تھے حضرت حسن بصری! وہ ام المومنین حضرت ام سلمہ کی گود کے کھلائے تھے ان کی ماں حضرت ام سلمہ کی خادمہ تھیں وہ کام میں ہوتیں تو حضرت ام سلمہ اپنی خادمہ کے بچے حسن کوگود میں اٹھا لیتیں۔ حضرت حسن بصری حضرت عمر فاروق کے دور خلافت میں پیدا ہوئے اور انہوں نے ہی حضرت ام سلمہ کی خادمہ کے بیٹے کا نام رکھا ۔ حضرت حسن بصری کو یہ شرف حاصل رہا کہ اور بھی امہات المومنین نے انہیں گودوں کھلایا ‘ تیرہ چودہ برس کی عمرتک وہ امہات المومنین کی تربیت میں رہے بہت سے جلیل القدر صحابہ کو دیکھا ۔
اتفاق کی بات ہے کہ عین اس وقت جب حضرت حسن بصری بوتل والے مرد کے پاس سے گزر رہے تھے چیخ و پکار کی آوازیں انہیں سنائی دیں جانے کیا ہوا کہ ایک کشتی جو دریا میں رواں تھی الٹ گئی دریا زوروں پر تھا موجوں کی اچھاڑ پٹک میں کشتی کے مسافروں کے ڈوبنے ابھرنے سے قیامت کا سماں پیدا ہو گیا۔حضرت حسن بصری نے دیکھا کہ حبشی مرد اپنی جگہ سے اٹھادریا میں کودپڑا نہ دریا کی طغیانی کی اس نے پروا کی نہ اپنی جان کا خیال کیا اللہ نے ایسی ہمت اسے دی تھی اور ایسا بڑا پیراک وہ تھا کہ ایک کے بعد ایک نو آدمیوں کی جان بچا کر وہ دریا سے نکال لایا کشتی میں کل دس مسافرتھے صرف ایک مسافر ابھی دریا میں ہاتھ پائوں مار ہا تھا اسے کچھ تیرنا آتا تھا لیکن فوری خطرہ کوئی نہ تھا حبشی اسے دریا میں سے نکالنے کے بجائے سیدھا حضرت حسن بصری کے پاس آیا بولا۔ حضرت ان نو کو تو میں نے اللہ کے فضل سے بچا لایا ہوں اب ذرا ایک کو آپ ڈوبنے سے بچایئے۔
حضرت خاموش رہے وہ جانتا تھا کہ یہ کام ان کے بس کانہیں خیر خود ہی دوڑا اسے بھی بچا لایا جب مسافر حواسوں میں آئے تو حبشی چپکے سے حضرت کے پاس آیا ۔ بولا وہ جس عورت کو آپ نے میرے ساتھ دیکھ کر منہ پھیر لیا تھا وہ میری ماں ہے ۔ بہت سخت بیمار ہے میں اسے اٹھائے لئے جا رہا تھا کہ اس کی حالت بگڑ گئی تو میں نے اسے یہاں لٹا دیا وہ جوبوتل آپ نے میرے ہاتھ میں دیکھی تھی اور جسے دیکھ کر آپ نے نفرت سے منہ پھیر لیاتھا اس میں دجلہ کا پانی ہے جو میں اپنی ماں کو پلا رہا تھا۔ پیاس سے میرا بھی برا حال تھا اس لئے میں خود بھی اس سے ایک ایک گھونٹ پی رہا تھا حضرت حسن بصری پہلے ہی اس کی نیکی دیکھ کر تجسس و آفریں کر رہے تھے اب یہ تفصیل سنی تو انہیں بہت افسوس ہوا کہ خواہ مخواہ انہوں نے بدگمانی کی۔ آپ نے اس حبشی سے معافی مانگی اور اللہ تعالیٰ کے حضور گڑا گڑا کر توبہ کی۔

مزید دیکھیں :   کشمیری تحریک حریت اور سلامتی کونسل