معاشی صورتحال’خطرے کی گھنٹیاں بج گئیں

پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)پروگرام کی بحالی کے لیے اس کی چار بڑی شرائط قبول کرنے پر رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے جلد از جلد اپنا وفد پاکستان بھیجنے کی درخواست کی ہے۔کہا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف کا بیل آئوٹ پیکج ہی پاکستان کو درپیش تمام مشکلات کا حل ہے دریں اثناء ورلڈ بینک نے پاکستان کے لیے ایک ارب10کروڑ کے دو قرضوں کی منظوری آئندہ مالی سال تک موخر کر دی ہے جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے قرض کی قسط بھی تین ماہ سے تاخیر کا شکار ہے۔پاکستان کو سعودی عرب سے امداد ملنے میں تاخیر کی وجہ بھی سامنے آگئی ہے۔ سعودی عرب نے گرانٹ، ڈیپازٹ اور سرمایہ کاری سب کی سب معاشی اصلاحات سے مشروط کردی ہے۔ سعودی وزیرخزانہ محمد بن عبداللہ الجدان کا اس حوالہ سے کہنا ہے کہ پہلے کسی شرط کے بغیر پیسے دے دیا کرتے تھے، اب ایسا نہیں ہوگا، سعودی عرب اپنے لوگوں سے ٹیکس لیتا ہے، جو ہم سے امداد لیتے ہیں، انہیں بھی یہی کرنا ہوگا۔ ٹیکس نظام میں اصلاحات لانا ہوں گی۔تمام حالات سے یہی نتیجہ نکلتاہے کہ پاکستان اپنے دور کے سب سے مشکل معاشی حالات سے گزر رہا ہے ملک کو اسی دلدل سے نکالنے کے لئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے جس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔حکمرانوں کا ادھر ادھر سے رقم ملنے کی امیدوں کا اظہار قوم کو طفل تسلی دینے کے سوا کچھ نہیں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نازک ترین موڑ پرمعیشت پہنچ چکی ہے 22 کروڑ کی آبادی والے ملک میں تین ہفتے کے امپورٹ کے پیسے رہ گئے ہیں 18,17 دن کا پٹرول موجود ہے تیس دن کا ڈیزل باقی ہے ایکسرے کی فلمیں ختم اور جان بچانے والی ادویات کی قلت پیدا ہو رہی ہے اب یہ حتمی فیصلہ لینے کا وقت ہے جس میں چند ہفتے ہیں مہینے بھی نہیں جوبھی فیصلہ ہونا ہے اب چند دن دور رہ گیا ہے صورتحال یہ ہے کہ آئی ایم ایف حکومت کے معاشی اقدامات سے مطمئن نہیں۔ تقاضا کیا جارہا ہے کہ حکومت پچھلے جائزہ پروگرام کی شرائط پر عمل کرے۔ ان ماہرین کے بقول اگر حکومت ایسا کرتی ہے تو مہنگائی بڑھنے کے ساتھ صنعتی عمل مزید متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ حکومت دونوں معاملات کو سنبھال نہیں پائے گی۔ سیاسی عدم استحکام سے پیدا ہوئے مسائل سے صرف نظر غیر مناسب ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سیاسی استحکام کے لئے جس سنجیدگی اور اقدامات کی ضرورت ہے اسے اہمیت نہیں دی جارہی۔یہ امر بجا طور پر درست ہے کہ پی ڈی ایم کی موجودہ وفاقی حکومت جن دعوئوں اور وعدوں کے دھوم دھڑکے کے ساتھ برسراقتدار آئی تھی ان میں سے ایک دعوی پورا ہوا نہ وعدہ بلکہ اس عرصہ میں معاشی ابتری اور مہنگائی کے ساتھ بیروزگاری میں ہونے والے خوفناک اضافے نے تجربہ کاری کے دعویداروں کی اہمیت کا بھانڈا پھوڑدیا۔ متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے بیرونی امداد کے حالیہ اعلانات کو معاشی استحکام کے طور پر پیش کرنے والے حکومتی ماہرین کے پاس بھی اس سوال کا جواب بہرطور نہیں ہے کہ33ارب ڈالر کے مجموعی نقصان کی تلافی لگ بھگ 9 ساڑھے 9 ارب ڈالر کی امداد کے اعلانات سے کیسے ہوگی۔ بہرطور اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جب تک غیر پیداواری شعبوں کے اخراجات میں کمی نہیں لائی جاتی اصلاح احوال کی صورت ممکن نہیں۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ جس منتخب ایوان میں معاشی و سیاسی عدم استحکام پر کھل کر بحث ہونی چاہیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں سیاسی و معاشی استحکام لانے کے لئے حکمت عملی وضع کی جائے۔ اندریں حالات اگر لوگوں کا ایک طبقہ یہ کہتا دکھائی دیتا ہے کہ سیاسی و معاشی استحکام کی حکمت عملی وضع کرنے کی اہلیت ہی نہیں ہے تو اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ رائے کیوں بنی۔ پچھلے دس ماہ کے دوران پی ڈی ایم کی وفاقی حکومت نے سیاسی اور معاشی استحکام کے لئے کیا کیا اس سوال کا جواب عوام کو ضرور دیا جانا چاہیے کیونکہ اسی عرصہ میں جنم لینے والی سیاسی و معاشی ابتری نے عام آدمی کو مستقبل کے حوالے سے شدید مایوس کیا ہے۔ اس مایوسی کا ازالہ اگر سیاسی مفاہمت اور وقت سے پہلے انتخابات سے ممکن ہے تو اس سے صرف نظر نہ کیا جائے بلکہ حقیقت پسندی کے مظاہرہ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اسی طرح حکومت کا فرض ہے کہ وہ روزمرہ کے مسائل کے حل کے لئے بھی موثر اقدامات کرے تاکہ کم از کم عوام کو کچھ تو بہتری کے آثار دکھائی دیں۔ امید واثق ہے کہ ارباب اختیار عوام سے حقائق چھپانے کی بجائے انہیں اعتماد میں لیں گے اور اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ سیاسی عمل اور نظام کسی انہونی سے دوچار نہ ہونے پائے۔ ہم امید ہی کر اور رکھ سکتے ہیں۔

مزید دیکھیں :   ڈریم پارٹی