بھارت میں ہم جنس پرست جج کی تقرری روک دی گئی

ویب ڈیسک :مودی سرکار نے سپریم کورٹ کی سفارش کے باوجود ہم جنس پرست وکیل سوربھ کرپال کو جج نامزد کرنے سے انکار کر دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق اعلانیہ ہم جنس پرست وکیل سوربھ کرپال ایک سینئر وکیل ہیں اور ان کے جج بننے کا بھی امکان تھا، سپریم کورٹ نے بھی سفارش کی تھی لیکن مودی سرکار نے ایسا نہ ہونے دیا۔
حکومت نے سوربھ کرپال کو جج بنانے سے انکار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو لکھا کہ انٹیلی جنس اداروں نے سوئس شہری کے ساتھ سوربھ کرپال کے رہنے اور اعلانیہ ہم جنس پرستی پر اعتراض کیا ہے۔مودی سرکار نے سپریم کورٹ کو اپنے خط میں مزید لکھا کہ اپنے غیرملکی پارٹنر کے ساتھ بیس سال سے رہ رہے ہیں اور اعلانیہ ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے عدالت کا امیج بھی خراب ہوگا۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے ہی 2018 کے آخر میں ہم جنس پرستی کو قانونی حیثیت دیدی تھی تاہم اب بھی لوئر کورٹس میں ہم جنس پرستوں کو تسلیم کرنے کی درخواستوں کی مودی حکومت نے شدید مخالفت کی ہے۔

مزید دیکھیں :   سرکاری ادویات اور ایکسرے فلم مارکیٹ میں فروخت