مشرقیات

آگ آگ آگ۔۔۔ ہر طرف ایک شور مچا تھا گھر کا ایک ایک فرد پریشان ادھر سے ادھر بھاگا بھاگا پھر رہا تھا لیکن صدر خاندان جہاں کھڑے تھے وہیں کھڑے رہے جس کام میںلگے تھے دل لگائے اسی میں مشغول رہے ذرا اس بات کا خیال نہ کیا کہ آگ کے شعلے دم بھرمیں بڑھ کر ان کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیںگے گھروالے تھے کہ چیخ چیخ کر ان کو خبردار کر رہے تھے ایک ایک شخص آواز دے رہا تھا کہ اٹھئے ‘ نکلئے ‘ بھاگئے آگ بڑھ رہی ہے مگر وہ اللہ کے نیک بندے اپنی جگہ سے ذرا نہ ہلے ۔ آخر لوگوں نے آگ بجھائی تو گھروں والوں کی جان میں جان آئی۔ سب اپنے بزرگ کے پاس سمٹ آئے مگر وہ بدستور نماز پڑھتے رہے اور اطمینان سے اپنی نماز پوری کرکے پلٹے گھر والوں نے کہا ۔۔ ہم چیختے رہے آپ نے ذرا توجہ نہ دی ۔ سارے گھر میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔
ابن جوزی نے لکھا ہے انہوں نے جواب دیا ۔۔ ایک دوسری آگ کے خیال نے اس طرف میرادھیان جانے ہی نہیںدیا۔ یہ تھے حضرت علی کے پوتے سیدنا حضرت حسین کے صاحبزادے حضرت زین العابدین ہم جونماز پڑھتے ہیں تودل کہیں ہوتا ے نظر کہیں ‘نماز کیا ہوتی ہے بس فرض ٹالنے کا ایک بہانہ ہوتا ہے ۔ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے صحابہ کرام بھی تشریف فرما تھے ایک صحابی نے ایک طرف ہوکر نماز پڑھی اور آکر صحابہ کے ساتھ بیٹھ گئے امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ۔۔ تم نے نماز پڑھ لی؟ انہوں نے عرض کیا۔۔ ۔جی یا رسول اللہ آپۖ نے فرمایا نہیں تم ن نماز نہیں پڑھی ۔ جائو پھر نماز پڑھو۔
انہیں یہ سن کر بڑا عجب ہوا تعمیل حکم میں اٹھے جا کر نماز پڑھ آئے آکے بیٹھے ہی تھے کہ پھر سوال ہوا۔ کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! فرمایا۔۔ نہیں جائوپھر نماز پڑھو جب تیسری مرتبہ واپس کرنے پربھی انہوں نے ٹھیک طریقے سے نماز نہیں پڑھی تو آپۖ نے انہیں نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ سکھلایا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ دل جما کر ایک ایک رکن ادا کرنا چاہئے ۔ ارشاد نبویۖ ہے ۔۔۔کہ آدمی ساٹھ سال تک نماز پڑھتا ہے مگر پھربھی اس کی نماز نہیں ہوتی عرض کیا گیا کہ کیوں؟ آپۖ نے فرمایا۔۔ وہ رکوع پورا کرتا ہے نہ سجدہ!۔حضرت زین العابدین فرماتے ہیں ۔۔ ایک نماز خوف سے پڑھی جاتی ہے یہ غلامانہ بندگی ہے کہ ڈر کے مارے نیکی کی جاتی ہے ایک نماز صلے کی خاطر پڑھی جاتی ہے تاکہ جنت میں جگہ ملے یہ تاجرانہ عبادت ہے کہ لالچ کے مارے نیکی کی جاتی ہے مجھے وہ لوگ پسند ہیں جو صرف شکرانے اور تحدیث نعمت کے لئے نماز پڑھتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔۔ نماز پڑھو تو یہ خیال رکھو کہ تم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہوں ۔ عرض کیاگیا۔۔ اگرایسا ممکن نہ ہو تو پھر کیاکیا جائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد ہوا۔ یہ بات ذہن میں رکھا کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو دیکھ رہا ہے ۔

مزید دیکھیں :   کتنے سجدوں کا قتل عام ہوا؟