آٹا پھر مہنگا

چندروزاستحکام کے بعدآٹاپھرمہنگا،تقسیم میں سیاسی مداخلت کی شکایات

ویب ڈیسک:پشاور میں چند روز کے استحکام کے بعد آٹے کی قیمت میں دوبارہ اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے اور آٹے کا 20کلو کا تھیلا 200روپے بڑ ھ کر 2ہزار 700روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے پشاور کی مارکیٹ میں آٹے کے 20کلو تھیلے کی قیمت ڈیڑھ ہفتہ قبل 3ہزار روپے سے بھی تجاوز کر گئی تھی تاہم بعد میں گندم کی درآمد اور فلور ملز کا کوٹہ 30فیصد بڑھانے پر آٹے کی قیمت میں کمی آنا شروع ہوگئی اور جمعہ کے روز تک 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت اڑھائی ہزار روپے ہوگئی تھی آٹے کی قیمت پر پشاور ہائی کورٹ میں بھی کیس زیر سماعت ہے ہفتہ اور اتوار کے روز آٹے کی قیمت میں دوبارہ سے اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ قیمت 200روپے بڑھ گئی
جس کے بعد پشاور کی مارکیٹ میں 20کلو آٹے کا تھیلا دو ہزار 700روپے میں فروخت کیاجارہا ہے شہریوں کی جانب سے پشاور سمیت خیبر پختونخوا میںآٹے کی قیمت کنٹرول کرنے کیلئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اقدامات اٹھانے کی درخواست کی گئی ہے جبکہ محکمہ خوراک کو بھی اس ضمن میں سخت کارروائیاں کرنے کی اپیل کی گئی ہے ۔دوسری طرف آٹاڈیلرزایسوسی ایشن کی جانب سے پشاور میں سرکاری آٹا کے کوٹہ میں سیاسی مداخلت اور کوٹہ لسٹ تبدیل کرنے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی دھمکی دی ہے اور مسئلہ حل کرنے کیلئے چیئرمین فلور ملز، آٹا ڈیلرز اور ڈپٹی کمشنر راشنگ کنٹرولرپر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی بھی تجویز پیش کی ہے ۔
آٹا ڈیلر ایسوسی ایشن پشاورکے صدر منور خان کے مطابق ڈی سی پشاور کے نئے آٹا ڈیلرز لسٹ پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اور سیکرٹری محکمہ خوراک نوٹس لیں ۔ بدقسمتی سے سابق ارکان اسمبلی اور بلدیاتی نمائندوں کی وجہ سے سرکاری آٹا کا کوٹہ سیاسی بنیادوں پر تقسیم کی جاتا رہا تاہم 20’20سال سے آٹا کاروبار کرنے والوں کو کوٹہ نہیں دیا جارہا حالانکہ آٹا انڈسٹری ہم چلارہے ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے پر مجبوراً خیبر پختونخوا فلور ملز سے اسپیشل و فائن آٹے کی خریداری بند کر کے پنجاب سے خریداری شروع کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جسے آٹا ڈیلرز درخواست دیں تاکہ محکمہ خوراک کے ذریعے ان کی تصدیق ہوسکے اْسکے بعد کوٹہ دیاجائے ۔ ڈی سی کی جانب سے آٹا کوٹہ لسٹ میں تبدیلی کی گئی تو وہ ہائیکورٹ میں رٹ دائر کریں گے۔

مزید دیکھیں :   پی ٹی آئی کاگورنرپراختیارات کے ناجائزاستعمال کاالزام