قدرتی گیس کے معاملات….نئی بحث

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے بقایاجات نہ ملنے پر وفاق کو گیس کی فراہمی بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق بلوچستان کے صوبائی وزیر خزانہ زمرک خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت مشکل میں ہے جس کیلئے وفاق فوری مدد کرے، انہوں نے کہا کہ ہم خیرات نہیں اپنا حق مانگ رہے ہیں اگر75ارب روپے کے بقایاجات مل جائیں تو بحران حل ہو سکتا ہے، تاہم اگر بقایا جات نہ ملے تو بلوچستان سے گیس کی سپلائی کو بھی بند کرنے کا آپشن موجود ہے، ہم وفاق کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں، اکائیاں کمزور ہوں گی تو وفاق کمزور ہو گا۔ اگر گوادر، سینڈک اور ریکوڈیک ہمیں دیدیں تو ہم پورا ملک چلا سکتے ہیں، ادھر بنوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اتماتزئی اور احمدزئی قبائل نے بھی اعلان کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں دریافت ہونے والی گیس کے ذخائر بنوں ریجن سے ہوتے ہوئے دائود خیل منتقل ہونے نہیں دیں گے، جب تک بنوں ریجن کو اس گیس میں برابر کا حصہ اور رائلٹی نہیں دی جاتی، دوسری جانب میریان کے علاقے میں گیس پائپ لائن پر بند کام پولیس کی نگرانی میں شروع کرنے پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی کیونکہ اہل علاقہ کے مساجد میں اعلانات کے بعد پولیس کو جائے وقوعہ سے واپس جانے پر مجبور ہونا پڑا، اس حوالے سے علاقے کے مختلف طبقات کی جانب سے احتجاج اور دھرنا دیا گیا، اہل علاقہ کا مطالبہ ہے کہ شمالی وزیرستان، لکی مروت، بنوں کے شہریوں کو گیس کی سپلائی ممکن بنانے کیلئے عملی طور پر ایس ایم ایس(گرڈ) تعمیر کیا جائے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل158کے تحت قدرتی گیس کی تقسیم میں اس صوبے کو فوقیت حاصل ہونی چاہئے جہاں سے قدرتی گیس کے منابع دریافت ہوں گے، مگر بد قسمتی سے جیسا کہ شروع دن ہی سے بلوچستان کے علاقے سوئی سے حاصل ہونے والے گیس کے ذخائر آج تک سوئی کے عوام کو نہیں مل سکے حالانکہ پورا پاکستان اس سے مستفید ہو رہا ہے اسی طرح خیبر پختونخوا کے جنوبی اور قبائلی اضلاع سے ملنے والے گیس کے ذخائر پر صوبے کے لوگوں کو فوقیت دینے کے بجائے اس کی تقسیم کا نظام میانوالی کے علاقے دائود خیل میں قائم کر کے پہلے گیس وہاں پہنچائی جاتی ہے اور بعد ازاں وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت اسے پہلے پنجاب کو فراہم کیا جاتا ہے اور بڑی مشکل سے انتہائی کم مقدار میں خیبر پختونخوا کو فراہم کر کے آئین کی محولہ شق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے ۔چند برس پہلے پشاور ہائی کورٹ نے اس حوالے سے سی این جی سیکٹر کی شکایت پر صوبے کی اپنی قدرتی گیس کو ترجیحی بنیادوں پر صوبے کو پہلے فراہم کرنے کا حکم صادر کیا تھا مگر پھر اس کو روک لگا دی ہے یہ رویہ ظاہر ہے قانون اور آئین کے خلاف ہے جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، امید ہے وفاقی حکومت اس حوالے سے مثبت رویہ اختیار کر کے شکایات کو دور کرنے کی کوشش کرے گی۔

مزید دیکھیں :   آنسو ایک نہیں کلیجہ ٹوک ٹوک