معاشی بحران سے نجات؟

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد ہم نے ملک کو سنبھالا دیا، ہم نہیں چاہتے کہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالیں، غریب عوام کا احساس ہے،ہماری کوشش ہے کہ جو بھی قدم اٹھائیں اس سے غریب آدمی کو نقصان نہ ہو، وزیر اعظم کی زیر صدارت موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاملات جلد حل ہو جائیں گے اور عنقریب ہم معاشی بحرانی کیفیت سے نکل آئیں گے، وزیر اعظم نے کہا کہ سابق حکمران جماعت کی خرابی کو درست کرنے میں وقت لگتا ہے، ہر طرح سے معاملات کنٹرول میں ہیں، کوئی فکر کی بات نہیں ہے، جہاں تک وزیر اعظم کے خیالات کا تعلق ہے، ان پر اظہار اطمینان تب ہی ممکن ہے جب معروضی حالات بھی ان کے بیانیہ کی تصدیق کر رہے ہوں، تاہم موجودہ معاشی صورتحال پر وزیر اعظم سے کلی اتفاق مشکل دکھائی دیتا ہے، اور اس کا کارن اگر سابق حکمران جماعت کی جانب سے معاشی کمزور صورتحال کی جانب اشارے کرنیکے بیانات سے ایک لمحے کیلئے تعرض بھی کیا جائے پھر بھی خود موجودہ حکمران اتحاد کے اپنے ہی اہم رہنمائوں کی باتوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مثلاً سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے اس بیان کو کیسے مسترد کیا جا سکتا ہے کہ عوام کے مسائل ان کے باہر نکلنے سے پہلے حل کئے جائیں۔ انہوں نے بالکل درست کہا کہ ملک میں نئے سوشل کنٹریکٹ پر بات کرنے کی ضرورت ہے، کوئٹہ میں پاکستان کے تصور نو پر قومی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جس اہم نکتے کو موضوع سخن بنایا وہ سنجیدہ فکر کا متقاضی ہے، انہوں نے کہا کہ سیاست دشمنی میں تبدیل ہو جائے تو عوام کے مسائل رہ جاتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم سب حکومتوں میں رہے مگر ہم ملک کے مسائل حل نہیں کر سکے، ہمیں دیکھنا ہے کہ75سال کے بعد کس طرح پاکستان کے مستقبل کو بہتر بنائیں، پاکستان اپنے مسائل کی انتہا پر پہنچ چکا ہے، ہم اس سے زیادہ سیاسی انتشار کے متحمل نہیں ہو سکتے، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ملکی حالات کا جو تجزیہ پیش کیا ہے اگرچہ اس کے اندر تحریک انصاف حکومت کی اختیار کی ہوئی پالیسیوں کی جانب بھی اشارے موجود ہیں جن کی وجہ سے ملکی معیشت آج تقریباً وینٹی لیٹر پر کھڑی دکھائی دیتی ہے، سابق حکمران عمران خان نے جس طرح اپنے دور اقتدار میں حزب اختلاف کی جماعتوں کو دیوار سے لگانے اور ان سے ملکی معاملات پر بات کرنے سے مسلسل انکار کا رویہ اختیار کیا، اس سے ملک کو موجودہ مشکلات سے دوچار کرنے کی راہ ہموار کی، اور آج اگر تحریک انصاف کے ساتھ موجودہ حکومت کا رویہ بھی غیر مناسب دکھائی دیتا ہے تو شاہد خاقان عباسی کی یہ بات بالکل درست ہے کہ کوئی ایسا فورم موجود نہیں جہاں مسائل کی بات ہو، حالانکہ پارلیمنٹ ہی ایسا فورم ہوتا ہے جہاں ملک و قوم کو درپیش مسائل کا حل تلاش کیا جاتا ہے جبکہ تحریک انصاف حکومت نے اپنے دور حکومت میں جس قدر ہو سکا نہ صرف پارلیمان کو بے توقیر کیا بلکہ عمران خان بطور وزیر اعظم اور قائد ایوان اپنے مخالفین کے ساتھ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی رابطہ رکھنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے رہے، یہاں تک کہ عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے محرومی کے بعد تو ان کا رویہ بہت ہی سخت ہو گیاتھا اور وہ کسی بھی صورت پارلیمنٹ میں آنے کیلئے تیار ہی نہیں تھے، جبکہ درون خانہ وہ اپنی جماعت کے صدر عارف علوی( جنہیں آئینی تقاضوں کے مطابق غیر جانبدار ہونا چاہئے تھا) کے ذریعے مبینہ طور پر حکومت کے خلاف سازشیں کرتے دکھائی دیتے اور ان سازشوں کو روکنے کیلئے سپیکر قومی اسمبلی نے یکے بعد دیگرے تحریک انصاف کے35/35ارکان کوڈی سیٹ کر کے جوابی حکمت عملی اختیار کی۔ یوں عمران خان کی واپسی کو روک دیا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومتی اتحاد کی جانب سے اختیار کی جانے والی یہ حکمت عملی بھی اگرچہ مناسب قرار نہیں دی جا سکتی مگر سیاست میں دائو پیچ ہی چلتے ہیں۔ ادھر ایک اور سابق وزیر خزانہ اور ن لیگ کے ایک اہم رہنما مفتاح اسماعیل بھی وزارت خزانہ کے قلمدان سے علیحدہ کئے جانے کے بعد تواتر کے ساتھ خود اپنی ہی حکومت کی معاشی پالیسیوں کے بارے میں جو منفی بیان بازی کر رہے ہیں اس پر تو ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسمان کیوں ہو والا مصرعہ منطبق کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ان کی بات کو غلط بھی قرار نہیں دیا جا سکتا کہ قرضوں کی بجائے اپنے پائوں پر کھڑا ہونا ہو گا، ہم ایک ملک سے قرض پکڑ کر دوسرے کو دے رہے ہیں۔ مطلب ٹوپی تھما رہے ہیں، مفتاح اسماعیل کی باتیں کڑوی ضرور ہیں تاہم حقیقت پر مبنی ہیں اور اصولی طور پر ان پر سیخ پا ہونے کی ضرورت ہے نہ ان پر منفی رد عمل آنا چاہئے بلکہ ان سوالات پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ جبکہ حکومتی حلقوں کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کرنے کی جو باتیں ہو رہی ہیں، ان کے بعد اگرچہ وزیر اعظم اور وزارت خزانہ کی کوششیں بار آور ہونے اور آئی ایم ایف کے ساتھ روابط بحال ہونے کی خبریں ضرور آ رہی ہیں، تاہم جس طرح کی سخت شرائط پر مذاکرات بحال ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں ان کے بعد مہنگائی کا جو نیا طوفان آنے خدشات سر اٹھا رہے ہیں ان سے عوام کو محفوظ رکھنے کیلئے حکومت کیااقدام کر رہی ہے اس حوالے سے بھی عوام کو آگاہ کیا جائے تو بہتر ہو گا۔