وی آئی پی ڈیوٹیزس

وی آئی پی ڈیوٹیزسے پولیس کی واپسی کیلئے حکمت عملی تیار

ویب ڈیسک :دہشتگردی کی شکار خیبر پختونخوا پولیس کے وی آئی پی ڈیوٹیز پر تعینات 18سو سے زائد اہلکاروںکی واپسی کیلئے حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔ پشاور پولیس اس وقت نفری کی شدید کمی کا شکار ہے75 لاکھ آبادی کی حفاظت کیلئے صرف 24 سو اہلکار تعینات ہیں جن میں دو سو سے زائد جسمانی معذوری کا شکار ہیں۔ ایم این ایز، ایم پی ایز، سابق وزرائ، بیوروکریٹس اور دیگر اعلی شخصیات کے ساتھ پرسنل ڈیوٹیوں پر 18سو زائد اہلکار موجود ہیں جبکہ31 تھانوں اور ملحقہ چوکیوں میں صرف 24 سو اہلکار دہشتگردی، جرائم کے تدارک اور امن و امان کی بحالی پر مامور ہیں۔
وی آئی پی ڈیوٹیوں پر تعینات اہلکاروں کی واپسی کیلئے سی سی پی او پشاور کی صدارت میں ایک اعلی سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان اہلکاروں کو پرسنل ڈیوٹیوں سے واپس بلوا کر تھانوں میں تعینات کیا جائیگا۔ قوانین کے مطابق پولیس فورس کو کسی کی ذاتی حفاظت کیلئے تعینات نہیں کیا جا سکتا اور پولیس ایکٹ کے مطابق ذاتی حفاظت کیلئے سپیشل پولیس فورس کی بھرتی کر کے انہیں قانون کے مطابق پرسنل گارڈ کی ڈیوٹی پر تعینات کیا جا سکتا ہے تاہم تاحال اس حوالے سے سابق حکومت نے کسی قسم کے اقدامات نہیں اٹھائے تھے
نتیجے میں سیاسی دبائو اور دیگر وجوہات کی بنا پر موجودہ پولیس فورس میں سے اہلکاروں کو وی آئی پیز کی ڈیوٹیوں پر تعینات کیا گیا۔ پشاور پولیس کی موجودہ فورس 8 ہزار کے لگ بھگ ہے جس میں سے 24 سو تھانوں میں تعینات ہے، دہشتگردی، جرائم کے خلاف جنگ میں شدید زخمی ہونیوالے 2 سو اہلکاروں کو بھی فیلڈ میں لائٹ ڈیوٹیوں پر تعینات کیا گیا ہے، دہشتگردی کی حالیہ لہر میں اتنی کم فورس کے ساتھ شہر کا دفاع کرنا اور دہشتگردی کا مقابلہ کرنا پولیس فورس کیلئے دشوار سے دشوار تر ہوتا جا رہا ہے۔

مزید دیکھیں :   ویلنٹائن پرگائے کو گلے لگائیں،بھارتی شہریوں سے انوکھی اپیل