ترقیاتی بجٹ پر پابندی

ترقیاتی بجٹ پر پابندی، ٹھیکیداروں کے 50ارب روپے پھنس گئے

ویب ڈیسک: الیکشن کمیشن کی جانب سے ترقیاتی فنڈز کے استعمال پر پابندی نے ٹھیکیداروں کے50ارب سے زائد کے بلز روک دئیے صوبے میں تین ماہ سے منجمد ترقیاتی بجٹ کے بعد اب الیکشن کمیشن کی جانب سے عائد پابندی نے مسائل میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے جبکہ ٹھیکیدار اپنے مزدوروں کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی نہیں کر سکتے ۔ ذرائع کے مطابق اکتوبر پر ترقیاتی منصوبوں پر ہونیوالے اخراجات کی ادائیگی کیلئے 40ارب روپے سے زائد کے فنڈز درکار تھے تاہم صوبائی حکومت نے نومبر میں فنڈز منجمد کر دئیے۔ نومبر ، دسمبر اور جنوری میں انتہائی سست رفتاری سے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری رہا اور ٹھیکیداروں نے مزید 10ارب سے زائد کے بل بھی جمع کرادئیے۔
ان بلز کو کلیئر کرنے کیلئے صوبائی حکومت نے جانے سے قبل فنڈز کی تخصیص نو کی تھی تاہم حکومت کے جاتے ہی وہ واپس کردی گئی اور اب الیکشن کمیشن نے بھی فنڈز کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے جس سے ٹھیکیداروں کے 50ارب سے زائد پھنس گئے ہیں اور اب ان کی ادائیگی مستقبل قریب میں نظر نہیں آرہی۔
فنڈز پھنس جانے کے باعث بیشتر ترقیاتی منصوبوں پر اب مکمل طور پر کام رک جائے گا جبکہ ٹھیکیداروں کی مطلوبہ رقم بھی ان کیلئے خسارے کا باعث ہوگی۔ مہنگائی تیزی سے بڑھنے اور پیسے کی قدر کم ہونے کی وجہ سے اس وقت لگائے گئے 50ارب روپے چند ماہ بعد شاید اتنی قدر نہ رکھیں جتنی اس وقت ہے۔ ذرائع کے مطابق نگراں حکومت میں یہ تمام فنڈز استعمال نہیں ہوسکیں گے اور صرف اور صرف روزمرہ کے امور بھی دیکھے جائیں گے ۔

مزید دیکھیں :   قومی اسمبلی کی 31 نشستوں پر ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری