پختونخوا میں دس سالہ پراجیکٹ کی تکمیل

دس سالہ پراجیکٹ کا خاتمہ خیبرپختونخوا میں قریبا نو سال پانچ ماہ پورے کرکے ختم ہوا۔ لگ بھگ ان دس سالوں میں دو بڑے پراجیکٹ تحریک انصاف حکومت کے ماتھے کا جھومر بنے ایک بی آر ٹی پشاور اور ایک صحت کارڈ جس سے حقیقتاً عوام کو ریلیف ملا۔ لیکن دوسری جانب یہ بھی دیکھیں کہ ان جیسے پراجیکٹ کی بدولت صوبہ لگ بھگ ایک ہزار ارب روپے کا مقروض ہوا۔ اس طرح عوام کو ایک مستقل غذاب میں مبتلا کردیا گیا۔ عوام کو اس سے کیا تکلیف؟ ظاہری بات ہے کہ جب صوبہ ان قرضوں کی واپسی اور ادائیگی کرے گا تو پرویزخٹک اور محمود خان تو نہیں کریں گے چونکہ عوام نے مزے لوٹے ہیں تو عوام ہی ادائیگی کریں گے۔ پختونخوا پولیس فنڈز کا رونا رو رہی ہے۔ یہ جو ہر مہینے کسی نا کسی یونیورسٹیز کے اساتذہ تنخواہ نا ملنے کا رونا رو رہے ہیں۔ یہ جو اساتذہ تنخواہیں بڑھانے کے لئے احتجاج پر احتجاج کرتے ہیں۔ یہ جو صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں انستھیزیا تک ناپید ہوگئی ہے تو یہ کیوں؟ پیسے درختوں پر تو نہیں اگتے کہ ہر سال فصل ہو اور اچھی فصل ہوجائے کہ ہم اپنے قرضے اتار لیں۔ یہ تحریک انصاف نے آنے والی حکومت کے لئے ایسا زیرزمین بم رکھا ہے کہ جس نے بھی پیر رکھا اس کے چھیتڑے اڑیں گے۔ دراصل ان دس سالوں میں ہم نے دیکھا کہ تحریک انصاف کو تو طاقتور بنا دیا گیا تھا لیکن ان کے خلاف جمہوری قوتوں کو اس حد تک کمزور کردیا گیا کہ اب وہ سیاست بھول چکے ہیں۔ صوبے کے عوام کو تو لگتا ہے کہ کبھی اس صوبے میں کسی اور کی حکومت رہی ہو۔ باقی سیاسی جماعتوں تک کو لوگ بھول چکے ہیں۔ حزب اختلاف کا کردار پختونخوا میں نا ہونے کے برابر رہا۔ دوسری جانب ملک کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کے لئے خیبرپختونخوا جیسے افغانستان کا صوبہ بن چکا تھا۔ اٹک کے اس پار ان کی سرگرمیاں غائب رہیں۔ صوبے کو جیسے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے حوالہ کر دیا گیا تھا (بلکہ اب تو باضابطہ ہو چکا ہے)ایسے میں تحریک انصاف کے لئے کھل کر کھیلنے کا موقعہ تھا۔ خود ہی بالنگ اور خود ہی بیٹنگ کرتے رہے۔ ایک آئوٹ ہوتا تو وہ خود ہی بائولنگ شروع کردیتا یہاں تک کہ پھر اس کی باری آتی۔ کہا گیا کہ گورنر ہائوس کو یونیورسٹی بنائیں گے۔ وہاں ”ماوتھ ٹو ماوتھ کنورسیشن”تو چلتی رہی لیکن کبھی یونیورسٹی نہیں بنی۔ کہا گیا کہ پٹوار کا نظام ٹھیک کریں گے۔ شروع میں روایتی ہتھکنڈہ استعمال کرتے ہوئے بیانات دے کر ریٹ بڑھا دیئے گئے۔ جو کام پہلے پٹواری پچاس ہزار میں کرتا تھا اس کے تین لاکھ لے کر کہنے لگا ”بھائی سختی بہت ہو گئی ہے اس لئے اس کام میں رسک بھی بڑھ گیا ہے۔ اب پچاس ہزار میں کام نہیں ہوتا”کہا گیا کہ پولیس کا نظام بہتر کر دیا ہے۔ مثالی پولیس کو جاتے جاتے قبر میں اتارنے کا سلسلہ شروع کیا۔ پہلی مرتبہ پشاور پولیس کی جانب سے شہریوں پر تشدد کے وڈیوز منظر عام پر آئے اور خود تحریک انصاف کے منتخب اراکین اسمبلی نے پولیس کے خلاف اپنی حکومت میں احتجاجی جلوس نکالے۔سڑکوں کی یہ حالت کر دی ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان سے پشاور انے والے اب پہلے پنجاب جاتے ہیں اور پھر اسلام آباد ٹو پشاور موٹروے سے پشاور پہنچتے ہیں۔ صوبے کی اقتصادی بربادی کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے اوسطا ہر سال ایک ہزار کروڑ جی ہاں آپ نے صحیح سنا ہر سال لگ بھگ ایک ہزار کروڑ کا قرضہ لے کر اب تک آپ کو نوسوارب روپے کا مقروض کر دیا ہے۔ آپ نے آنے والے دنوں میں یہ رقم واپس کرنی ہے ۔ اب کیسے واپس کرنی ہے یہ آپ کا کام ہے۔ جاتے جاتے تو تحریک انصاف کے ڈی فیکٹو وزیر اعلی تیمور جھگڑا نے کہہ دیا کہ وفاق نے پیسے نہیں دیئے اس لئے اب تنخواہوں کے حصول میں مشکلات ہیں۔ حالانکہ وہ یہ بھول گیا ہے کہ بھائی چار سال تو وفاق میں آپ کی حکومت تھی آپ نے صوبے کو کیا دیا؟ اس صوبے کو جس نے دو بار آپ کو پختونخوا میں تحت حکمرانی پر بٹھایا۔
تیمور جھگڑا کی بھی کیا بات ہے۔ وہ بات ایسے کرتے تھے کہ جیسے امریکہ اور یورپ آج جس مقام پر ہے اس کے پیچھے انہی کا ویژن ہے۔ ڈاکٹرز برادری نے جس طرح تحریک انصاف کے ورکرزبن کر اپنا کردار ادا کیا عمران خان نے ان کے ساتھ وہی کیا جو وہ اپنے محسنوں کے ساتھ کرتے آئے ہیں۔ اپنے قریبی رشتہ دار نوشیروان برکی کو میڈیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا پراجیکٹ دے کر بقول ہائی کورٹ انگریز کے قائم کردہ صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال لیڈی ریڈنگ کو ویران کردیا۔ تالیاں۔ایم ٹی آئی کے نظام کے ذریعہ ہسپتال کی خودمختاری کے نام پر سرکار کے پیسوں سے اپنے من پسند افراد کو بھرتی کیا۔ چٹھیوں پر باہر سے بڑی بڑی تنخواہوں پر ڈاکٹرز کو لا کر کہا گیا کہ یہ اب پاکستان کی محبت میں مبتلا قوم کا علاج کرنے آئے ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے جو ڈیوٹی ایک سینئر نرس ستر اسی ہزار میں کرتی تھی چار چار لاکھ میں بھرتیاں کرکے اس ڈیوٹی کو نا کرنے کے لئے سٹاف بھرتی کیا گیا۔ جب متعلقہ سیکٹریز سے بات ہوتی تھی تو وہ ایک بابو کی طرح کہتے ہسپتالوں کا بیڑہ غرق کیا جا رہا ہے لیکن ہم کیا کریں۔ ان سے تو بس یہی عرض کرنی ہے کہ جناب ہم پختونخوا کے عوام نے آپ کا کیا بگاڑا تھا کہ آپ نے ہماری بربادی کی قسم اٹھا رکھی تھی۔ عجیب بات ہے نوشہرہ میں قاضی حسین احمد میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں ڈین کے عہدے پر ڈینٹل ڈاکٹر کو تعینات کیا گیا تھا۔ مطلب جس کے ہاتھ جو بھی لگا لپک کر چپک گیا۔ حال میں مردان میڈیکل کمپلیکس کے ایک بڑے عہدے دار کے بارے میں سنا کہ وہ مردان سے ریٹائر ہو کر پنشن اور مراعات سمیت صوابی میں دوبارہ بھرتی ہوئے۔اس طرح گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان میں تعلیم، تحقیق اور غنڈہ گردی کے جو معیار مقرر کیئے گئے اس پر محمودخان کو تو ایک اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینی بنتی ہے۔
یاد آیا اس صوبے میں بلین ٹریزسونامی کے نام پر جنگلات کی بربادی کا جو منصوبہ تکمیل کو پہنچایا گیا اس کی عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی لیکن یہ بتایا جائے کہ دریا کے بیچوں بیچ ہوٹلوں کو تعمیر کی اجازت دینے کے سکینڈل کا کیا ہوا۔ اس پر تو فوج کی جانب سے بھی سخت تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔تحریک انصاف کے اس طرح تین بڑے پراجیکٹ تھے ان دس سالوں میں بی آر ٹی، بلین ٹری اور صحت کارڈ ان تینوں پراجیکٹ میں اربوں روپے ہی کرپشن کے مقدمات ہیں۔ کیا سیاسی قوتیں اور طاقتور حلقے واقعی اپنی موت مر گئے ہیں یا اس لوٹ کھسوٹ کی رقم کی برامدگی کا بھی کوئی بندوبست کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایک ہزار ارب روپے ان سے وصول کرنے ہیں جس کی ادائیگی کھانے کے بعد بل ہمارے نام پھاڑنے سے ہمیں ہی کرنی ہے۔

مزید دیکھیں :   اتفاق رائے کی کوئی صورت پیدا کی جائے