آواز دوست

مسلم لیگ( ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہمارے سیاسی نظام میں وہ صلاحیت نہیں کہ عوام کے مسائل حل کرے، ملک جن مسائل کا شکار ہے ان حالات کے سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ سب ذمہ دار ہیں۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمارے سیاسی نظام میں وہ صلاحیت نہیں کہ عوام کے مسائل حل کرے، آج سیاست اصل میں انتقام، گالیاں دینے اور ایک دوسرے کی بے عزتی کرنے کا نام ہے، ہماری کوشش ہے کہ ایسے غیر سیاسی فورم پر ان مسائل کا حل عوام کے سامنے رکھا جائے۔ اگرچہ مختلف سیاسی جماعتوں کے زعماء اور قدرے ناراض رہنمائوں کی جانب سے کسی مشترکہ پلیٹ فارم یا گروپ کا باضابطہ اعلان تو نہیں کیا گیا ہے لیکن ان زعماء کی ہم خیالی اور ملکی معاملات بارے ان کا موقف سنجیدہ اور قابل غور ہے انہوں نے جن جن امور کی نشاندہی کی ہے اور نبض پر ہاتھ رکھا ہے وہ اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں جن پرملکی سطح پر توجہ اور غور کرنے کی ضرورت ہے ان سیاسی رہنمائوں کے اس موقف سے انکار کی گنجائش نہیں کہ سیاسی کشمکش اورایک دوسرے کو مطعون کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے اور نہ ہی معاشی مسائل کا حل اتنا سادہ اور قلیل المدت ہے اگرچہ ان کی جانب سے اس کے سیاسی حل کے لئے کوئی واضح تجویز تو پیش نہیں کی گئی ہے لیکن وہ جن جن مسائل جس میں ملکی ‘ قومی اور صوبائی مسائل شامل ہیں قابل غور اور قابل حل ہیں لیکن مشکل امر یہ ہے کہ اب جبکہ تقریباً تقریباً ملک میں انتخابات کا نقارہ بج چکا ہے دو صوبوں میں بہرحال یقینی ضمنی انتخابات ہونے جارہے ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں بھی تحریک انصاف کے ممبران کے استعفوں کی منظوری سے سیاسی خلا مزید بڑھ گیا ہے ایسے میں ان درد مند عناصر کی سننے والا شاید کوئی نہ ہو یا پھر یہ عمائدین اپنا ہوم ورک مکمل کرکے اور رابطوں کی تکمیل کے بعد ممکن ہے کوئی پلیٹ فارم تشکیل دیں یا پھر کوئی ٹھوس لائحہ عمل سامنے لائیں قطع نظر کہ ان کی یہ کاوشیں کیا رخ اختیار کرتی ہیں وہ جن امور اور عوامل کی نشاندہی کر رہے ہیں ساری سیاسی جماعتوں اور حکومت کے لئے قابل توجہ ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرکے مشترکہ لائحہ عمل وضع کیا جائے تو ملک کے بہتر مفاد میں ہو گااور ملک کو موجودہ صورتحال سے نکالنے کی راہ ہموار ہو۔

مزید دیکھیں :   نامعلوم معلوم ہیں