نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

صوبے کے مالی مسائل،امن وامان کامسئلہ وفاق کے ساتھ اٹھانے کافیصلہ

ویب ڈیسک :نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد اعظم خان کی زیر صدارت پہلا باضابطہ اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جس میں نگران وزیراعلیٰ نے صوبے کو درپیش مالی مسائل اور امن و امان سے متعلق امور وزیراعظم کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ کیا ۔نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخو ا محمد اعظم خان کی زیر صدارت صوبے میں امن و امان، معاشی صورتحال اور مالی مسائل سے متعلق اہم اجلاس منگل کے روزمنعقد ہوا۔ متعلقہ حکام کی جانب سے نگران وزیراعلیٰ کو صوبے میں امن و امان کی تازہ صورتحال اور صوبے کو درپیش مالی مشکلات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر شہزاد بنگش ، انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور پولیس کے دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
نگران وزیراعلیٰ نے اس موقع پر صوبے کو درپیش مالی مسائل اور امن و امان سے متعلق معاملات وزیراعظم کیساتھ اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اگلے چند دنوں میں وزیراعظم سے باضابطہ ملاقات کرکے صوبے کو درپیش مذکورہ مسائل سے انہیں آگاہ کریں گے۔ نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی موجودہ صورتحال اور مالی مسائل دونوں نہایت اہمیت کے حامل ہے۔ نگران صوبائی حکومت ان مسائل کو حل کرنے پر خصوصی توجہ دے گی اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت سے ہر ممکن تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ محمد اعظم خان نے صوبے میں آئے روز امن و امان کے بڑھتے ہوئے واقعات اور پولیس پر حملوں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو خاطر خواہ حد تک بہتر بنانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور صوبے کے معروضی حالات کے تناظر میں پولیس کو مزید مستحکم کرنے اور اسے جدید آلات سے لیس کرنے کیلئے وفاق سے بات کی جائے گی۔
اجلاس میں امن و امان سے متعلق موجودہ چیلنجز سے نبردآزما ہونے کیلئے پولیس کی موجودہ استعداد کو بھر پور طریقے سے بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سابق عوامی نمائندوں ، سابق بیوروکریٹس اور دیگر شخصیات کی سکیورٹی کیلئے پولیس اہلکاروں کے تعیناتی کے موجودہ طریقہ کار پر نظر ثانی کرنے کا اُصولی فیصلہ کیا گیا اور متعلقہ حکام کو اس مقصد کیلئے نئی پالیسی تشکیل دینے کے سلسلے میں باضابطہ تجاویز تیار کرنے کی ہدایت کی گئی جو باضابطہ منظوری کیلئے نگران کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی۔
اس موقع پر مختلف شعبوں میں شخصیات کے ساتھ غیر ضروری طور پر تعینات اضافی پولیس اہلکاروں کوواپس بلانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اس وقت 4000 سے زائد پولیس اہلکار مختلف شخصیات کی سکیورٹی پر تعینات ہیں۔ نگران وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ہم سکیورٹی کی موجودہ صورتحال میں افراد کو غیر ضروری پولیس گارڈ فراہم کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے، جن افراد کو واقعتا سکیورٹی کی ضرورت ہو ، انہیں پولیس گارڈ فراہم کیا جائے گا۔

مزید دیکھیں :   پشاورمسجددھماکا، ڈی آئی جی سی ٹی ٹی جاوید اقبال عہدے سے برطرف