گومل یونیورسٹی بحران

گومل یونیورسٹی بحران، اساتذہ وی سی کے ساتھ کھڑے ہوگئے

ویب ڈیسک :گومل یونیورسٹی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے گومل یونیورسٹی میں رونما ہونیوالے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جامعہ کے حالات خراب کرنیوالے شر پسند عناصر کیخلاف کارروائی عمل میں لاکر انہیں جامعہ سے دور کیا جائے پشاور پریس کلب میں گومل یونیورسٹی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نور محمد، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر حامد مسعود خان اور دیگر عہدیداروں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر محمد افتخار کو ہائیکورٹ کے احکامات و رٹ پٹیشن کے تحت گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے نو جنوری کو سینیٹ کا اجلاس طلب کر کے عہدے پر بحال کیا۔
انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر کی بحالی کے بعد جامعہ کے کچھ شرپسند عناصر دوبارہ وائس چانسلر کیخلاف متحرک ہوگئے ہیں اور اپنی بد عنوانی چھپانے کیلئے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں، علاوہ ازیں جامعہ کے معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے دفاتر کی تالہ بندی، اساتذہ پر حملے اور جھوٹے مقدمات کا اندراج ، وائس چانسلر کے عملے پر تشدد کے ساتھ ساتھ وائس چانسلر کی رہائشگاہ پر مسلح افراد کا حملہ اور ڈپٹی ڈائر یکٹر ایڈمنسٹریشن کو زد و کوب کر کے اسکی ٹانگ توڑ ڈالی جس کے خلاف وائس چانسلر نے تھانہ گومل یونیورسٹی کو اس شرانگیزی اور دہشتگردی سے آگاہ کیا اور ایف آئی آر کے اندراج کی استدعا کی لیکن ابھی تک ایف آئی آر درج نہ ہوسکی جبکہ اساتذہ پر جھوٹے مقدمات درج کئے جا رہے ہیں ان تمام تر واقعا ت میں گومل یونیورسٹی کے مبینہ متنازعہ پر پرو وائس چانسلر تمام شرپسندوں کو مکمل تحفظ اور سپورٹ فراہم کر رہے ہیں اور عدالت عالیہ کے احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے تقرریاں اور غیر قانونی تبادلے بھی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جامعہ کے پاس ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن ادا کرنے کیلئے فنڈز موجود نہیں اور پرو وائس چانسلر سیاسی بنیادوں پر مسلسل غیر قانونی تقرریاں کر رہے ہیں جبکہ حال ہی میں ایک اور اشتہار برائے بھرتی بھی مشتہر کیا ہے جو خلاف قانون ہے، ان تمام تر واقعات کے خلاف گومل یونیورسٹی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن سراپا احتجاج ہے ایسو سی ایشن نے مذکورہ بالا واقعات کا نوٹس لینے اور شر پسند عناصر کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں جامعہ سے دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید دیکھیں :   پشاور سمیت10اضلاع میں ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام میں تاخیر