سامنے ڈھیر ہے ٹوٹے ہوئے پیمانو ں کا

بہت بڑی خبر ہے محارہ ایسا ہی بولا جا تا ہے اگر بڑی نہیں تو بہت ہی اہم خبر تھی جس کو پاکستان میں سرسری طورپر بھی نہیں لیا گیا ، خبر یہ تھی کہ دنیا کے طاقت ور ترین ملک امریکا کے صدر جو بائیڈن کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا اور وہا ں سے امریکن تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے چھاپے میں چھ صفحات پر مشتمل خفیہ دستاویزات برآمد کیں ، امریکی صدر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انھوں نے اپنے سابقہ دور میں جب وہ سینٹربعد ازاں نائب صدر تھے نجی تھنک ٹینک قائم کر رکھا تھا ، خبروںکے مطابق تلاشی کے دوران ان کی لائبریری سے بھی کچھ ایسے ویسے نوٹ بھی برآمد کیے ہیں ، جب کہ جو بائیڈن کو اس چھاپے پرکافی جھنجھلاہٹ ہے ، خدشہ ہے کہ اگر برآمد شدہ دستاویز سے کچھ اورہی آشکار ہ ہوجائے گا تو ان کا اگلا 2024ء کا صدارتی انتخاب مشکو ک ہوجائے گا ،گو کہ اس چھا پے اورجو بائیڈن کے بارے میں اس سلسلہ میں کافی مو اد ہے مگر صرف چھا پے کو ہی دیکھا جائے تو کیا پاکستان سمیت کسی ترقی پذیر ملک میں ایسا ممکن ہے کہ کوئی سرکا ری ادارہ کرسی نشین بااختیار تر ین شخصیت کے گھر چھاپہ مار سکے ، پاکستان میں تو کوئی ادارہ طاقت وروں نے اپنی خواہشات سے الگ نہیں چھو ڑا ہے یہاں جو کام آئین اور قانون کے دائر ے میں ہو بھی جائے تو اس کا ستیا ناس کرنے پر تل جاتے ہیں ہیںحال ہی میں سند ھ بلدیا تی انتخابات ہوئے ، پہلے ایک سیاسی جماعت نے اس لیے بائیکا ٹ کیا کہ اس کی خواہشات پوری نہیں کی جارہی تھیں اب انتخابات ہوگئے ہیں آئین قانو ن اور عدالتی فیصلے کے مطا بق ہوئے تب بھی اس سیاسی جما عت کی جانب سے مطالبہ ہورہا ہے کہ ڈیجیٹل مر دم شماری کے فوری بعد بلدیا تی انتخابات کا لعدم قرار دئیے جائیں اور نئی حلقہ بندیو ںکے مطا بق انتخابات کرائے جائیں کیسا بے تکا مطالبہ ہے ۔ یہ ہی نہیں آئین میں ہے کہ عبوری دور کے لیے وزیر اعلیٰ کی تقرری قائد حزب اختلا ف اور کر سی نشین وزیر اعلیٰ کی مشاورت سے ہوگی اگر اتفاق رائے نہ پایا جا ئے تو پھر ایوا ن کی پارلیمانی کمیٹی برابری کی نما ئندگی کی بنیا د پر وہ فیصلہ کرے گی پھر بھی کوئی اتفاق نہ ہوسکے تو پھر آئین کے مطابق الیکشن کمیشن فیصلہ کر ے گا چنانچہ صوبہ کے پی کے میں فیصلہ پہلے ہی مر حلے میں ہوا لیکن پنجا ب کا فیصلہ آئینی طور پر آخری مر حلے میںطے پایا مگر
اس پر بھی لے دے کی جا رہی ہے ، سوال یہ ہے کہ کسی آئینی فیصلے سے روگردانی کیا آئین کی خلا ف ورزی قرار نہیں پاتا ،افسوس اس بات کا یہ ہے کہ جن شخصیات نے اس ملک کو دنیا میں کوئی مقام دینا تھا وہ ملک اور آئین وقانون کو اپنی معمولی معمولی حریصانہ خواہشات کے بھینٹ چڑھا ئے ہوئے ہیں ، جبکہ بھارت جس نے ہمیشہ پاکستان کو ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا ہے اس یہ ایسے ہی نیتا ملک کو کہا ں سے کہا ں لے گئے ہیں وہا ں کبھی سیا ست میں ذات کا حریصانہ پن نظر نہیں آیا ، اس وقت بھار ت دنیا کی دسویں نمبر پر صنعتی طاقت شما ر ہو رہا ہے ، پاکستان کی صنعتیں پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے سابقہ دور میں جس حالت میں تھیں اس کے بعد کے ادوار میں اس سے بھی گئی گذری پڑی ہیں ، بھار ت نے اپنے سیاسی استحکام کی بدولت دنیا میں ایک مقام بنا لیا ہے ، برصغیر پاک وہند کے لیے عالمی سطح پر جو قوتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ان میں روس ، چین ، برطانیہ اور امریکا سرفہرست ہیں چین کو چھوڑ کر بھارت کی سب سے زیا دہ مضبوط ترین لابی باقی تینو ں طاقت ور ترین قوتوں میں پائی جاتی ہے ، سوویٹ یونین کا شیرازہ جب بکھر ا تو اس نے ایشیا میں ایک خاص کر وٹ بدلی جس میںبھارت کا امریکا طرف پلٹاکھا جا تا تھا ،بھارت جو اس سے قبل روس کا اسٹریجک شراکت دار تھا وہ امریکا کا اس سے بھی زیا دہ شراکت دار بن بیٹھا ، جب کہ قربانیا ں پاکستان سے امر یکا وصول کر تا رہا تھا ، پاکستان اپنے سیا سی عدم استحکا م اور غیر جمہو ری یا غیر سیاسی نظام میںملفوف ہونے کی بناء پر گھاٹے میں چلا جا تا رہا ، بھارت کی یورپ اور امریکا میں جو مضبوط لابی ہے پاکستان کی اس کے مقابلے میں عشرے عشیر نہیں ہے ، اس کے باوجو د بھارت میںیہ محسو س کیاجارہا ہے کہ جو بائیڈن بھارت کو نظر انداز کررہا ہے کیو ںکہ جو بائیڈن کا اقتدار کانصف سے زیادہ دور ختم ہو چلا ہے لیکن جو بائیڈن نے بھارت میں امریکی سفیر کی تعیناتی نہیں کی ہے کوئی تین مرتبہ نگران مقرر کیا جا چکا ہے اس کے باوجود امریکا کے اس روئیے خلا ف کوئی بڑا رد عمل بھارت میں نظر نہیں آرہا ہے جبکہ پاکستان میں جوبائیڈن کے ٹیلی فون نہ آنے پر ہا ہاکار مچادی گئی تھی جس کے منفی اثرات مرتب ہو تے چلے گئے ، س وقت امریکا اور برطانیہ کی عالمی سطح پر اہم ترین کمپنیوں اور اداروں میں بھارتی اہم اور اہم ترین عہد و ں پر فائز ہیں ، جو باقاعدہ وہا ں اثر رسوخ بھی رکھتے ہیں ، برطانوی وزیر اعظم رشی سنگھ اینگو انڈین نژاد ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت یو رپ میں کس پوزیشن پر کھڑا ہے نہ صرف یہ کہ امریکا کے پچھلے انتخابات کو کچھ اس انداز سے منظم کیا گیا کہ بائیڈن اپنی چار سالہ مدت کے دوران کینسر جیسے مو ذی مر ض کی بناء پر کھپ نہ پائیں گے اور ان کو صدارت کی کرسی نشینی سے دستبردار ہونا پڑجائے گا ، ا ن کی جگہ نائب امریکی صدر کمیلا حارث لے لیں گی ، جب جوبائیڈن دور کے چار سال مدت پوری ہوجائے گی تو کمیلا حارث جو بھارتی نژاد ہیں صدارت کا انتخاب لڑیں گی یو ں امر یکا پر ایک بھارتی نژاد حکمرانی قائم ہو جائے گی کمیلاحارث کے آباؤاجداد کا تعلق افریقہ اوربھارت سے ہے ، اگر بھارتی لابی کی منصوبہ بندی کا میا ب ہو جا تی ہے تو جہاں امریکا میں کی پہلی افروایشیا خاتون کو صدر بننے کا اعزا ز حاصل ہو جائے گا وہا ں امریکا میں مضبوط بھارتی لا بی کو مزید مضبوطی و تقویت حاصل ہو جائے گی ، یہاں یہ بھی یاد رہے کہ کمیلا حارث پہلی خاتون ہیںجو امریکی نائب صدر کے عہد ے پر فائز ہیں اور ا ن کے بارے میںبتایاجا تا ہے کہ وہ موذی مرض میںمبتلا ہونے کی بناء پر پورا ہفتہ تندہی سے کام کرنے سے بھی قاصر ہیں اس وقت بھی امریکا اور برطانیہ میں بھارتی لابی بہت مضبوط و متحرک ہے امریکی کا نگر س ، سینٹ اور امریکی انتظامیہ کاکوئی ایسا شعبہ نہیں جہا ں بھارتی نہ چھائے ہوئے ہو ں اور بھارت کے مفادات کی نگرانی نہ کررہے ہوں ، معتدد ملٹی نیشنل کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹیو بھی ہیں ۔جوظاہرہے اپنے ملک کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں ۔

مزید دیکھیں :   مشرقیات