پاکستان کا معاشی مستقبل چین کیلئے اہم کیوں؟

بظاہر ایسا محسو س ہوتا ہے کہ داخلی طور پر اس وقت کئی طرح کے سنگین نوعیت کے مسائل سے دوچار پاکستان نے علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت یا واقعات سے اپنی سٹرٹیجک مطابقت کھو دی ہے، اندرونی سطح پر سیاسی حوالے سے جاری غیر یقینی کی صورتحال، معاشی ابتری اور دہشت گردی کے واقعات میں حالیہ اضافے نے پاکستان کی بیرونی طور پر رونما ہونے والی پیشرفت یا واقعات کے تناظر میں مناسب انداز میں کام کرنے کی استعداد کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے، لیکن اس تمام تر صورت حال کے باوجود22 کروڑ سے زائد کی آبادی کا حامل یہ ملک ، جو سٹرٹیجک(تذویراتی) لحاظ سے ایک اہم خطے میں واقع ہے، دوستوں اور دشمنوں کے لیے یکساں طور پر اہمیت رکھتا ہے۔
بلاشبہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی اور سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری طویل مدتی اور آزمودہ ہے، اگرچہ افغانستان میں پائیدار بنیادوں پر استحکام لانا اور بھارت کو علاقائی برتری سے روکنا دونوں ممالک کے درمیان اس دیرپا شراکت داری کی بعض بنیادی جزئیات میں شامل ہے، لیکن دیکھا جائے تو افغانستان مسلسل عدم استحکام کا شکار ہے اور وہاں طالبان کی حکومت نے بظاہر ایسا طرز عمل اختیارکیا ہے جسے علاقائی امن کے لیے غیر موافق سمجھا جا رہا ہے، اسی طرح بھارت نے بھی عالمی سطح پر اپنی مصروفیات یا سرگرمیوں کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔اگر دیکھا جائے تو عالمی نظام کے حوالے سے کوئی بھی پیشگوئی اب یک قطبی میلان پر نہیں کی جا سکتی کیونکہ چین بھی ایک طاقت کے طور پر ابھرکر سامنے آیا ہے اور وہ اب امریکہ اور یورپ کے ساتھ برابری کی بنیاد پر روابط قائم کر رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ بھارت بھی کثیر قطبی (طاقت کے مختلف مراکز کی حامل) دنیا میں مرکزی میز پر نشست کے حصول کے لیے ہاتھ پاؤںمار رہا ہے، اسی طرح جاپان، آسٹریلیا کے ساتھ ساتھ روایتی یورپی طاقتیں امریکہ اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو اقتصادی تعاون اور تذویراتی مسابقت کی بنیاد پر متوازن بنا رہی ہیں، پھر روس کو بھی کسی طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جو اس وقت یوکرین کے خلاف مہم جوئی میں الجھا ہوا ہے، درحقیقت اس وقت امریکہ اور چین کے درمیان بالادست طاقت کی کشمکش جاری ہے اور دوسرے ممالک اس وسیع تر اسٹریٹجک منظر نامے میں اپنے لئے مطابقت یا موزوں آپشن تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اگرچہ بھارت کے عروج یا ایک بڑی معاشی طاقت کے طور پر ابھرنے کی پیشگوئیاں تو کی گئی ہیں لیکن یہ امر مکمل طور پر یقینی نہیں ہے، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت اس سال کے اندر آبادی کے لحاظ سے چین کو پیچھے چھوڑ دے گا اور بھارتیوں کی ایک بڑی اکثریت ابھی بھی بمشکل گزر بسر کر رہی ہے، چنانچہ اندرونی طور پر بھارت کے لئے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔
بلاشبہ چین کی معیشت کورونا وائرس کی وبائی صورتحال سے شدید متاثر ہوئی ہے اور اب اسے ٹھیک ہونے میں چند برس لگ سکتے ہیں، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ چین شاید اب اپنی کرشماتی شرح نمو کا سلسلہ جاری نہیں رکھ پائے گا لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ورلڈ آرڈر یا عالمی نظام کو نئے سرے سے تشکیل دینے والی بنیادی حرکیات امریکہ اور چین کے درمیان جاری مسابقت اور روس اور یوکرین کی جنگ ہیں، پاکستان کے پڑوس میںواقع بھارت کے ساتھ امریکہ کی تذویراتی شراکت داری نے ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر بھارت کی ساکھ میں اضافہ کیا ہے، ہند بحرالکاہل لائحہ عمل واضح طور پر چین کے خلاف محاذ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، مثال کے طور پر آسٹریلیا، بھارت، جاپان اور امریکہ (کواڈ)،آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ( AUKUS ) اور سٹرٹیجک تعاون کے اس جیسے دیگر پلیٹ فارمز کا بنیادی مقصد چین کو روکنا ہے، بھارت کھلے عام ان اتحادوں میں مصروف عمل ہے، پھر جنوبی اور وسطی ایشیا میں پرامن علاقائی اقتصادی تعاون کے وژن میں افغانستان میں ہونے والی پیش رفت سے رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
پاکستان میں داخلی سطح پر ہونے والی پیشرفت ایک حد تک ان تمام تر وسیع تر تبدیلیوں کی وجہ سے ہی رونما ہو رہی ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان حالات میں پاکستان اور چین جیسے دیرینہ دوست ممالک اپنی اسٹریٹجک مطابقت کو اسی انداز میں برقرار رکھ سکیں گے، دیکھا جائے تو پاکستان اپنی معاشی بقاء کے لیے مغرب پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور سنگین حالات میں ہمیشہ معیشت کو ہی فوقیت دی جاتی ہے، اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار مغربی ممالک میں مقیم تارکین وطن کی طرف سے بھجوائی جانے والی ترسیلات پر ہے، عالمی مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) اور عالمی بینک سمیت بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں امریکہ کا بہت زیادہ اثرورسوخ ہے اور پاکستانی برآمدات کے لئے بھی بڑی منڈیاں امریکہ اور یورپ میں ہیں، دراصل یہ وہ حقائق ہیں جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تعین میں براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں، اگرچہ پاکستان اور چین کی شراکت داری کے حوالے سے دعوے تو بہت کئے جاتے ہے لیکن دو ممالک یعنی امریکہ اور چین کی عالمی سطح پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی حقیقت اور ان کے درمیان کے اسٹریٹجک مقابلے کی جزئیات مستقبل قریب میں چین کے ساتھ پاکستان کی تعلق پر اثر ضرور ڈال سکتی ہیں، چنانچہ جب تک چین پاکستان کے معاشی مستقبل میں مزید سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا تب تک پاک چین شراکت داری ایسی پیش رفت یا تبدیلیوں سے متاثر ہوتی رہے گی، دونوں ممالک نے اپنے مؤقف کی بنیاد اس اصول پر رکھی ہے کہ اندرونی حالات اور دنیا کی تبدیلیوں سے قطع نظر ان کا باہمی تعاون آگے بڑھتا رہے گا، لیکن اب اس مفروضے کو جانچنے کا وقت آ گیا ہے، محض پاکستان کے اسٹیٹ بینک میں رقوم رکھنے یا ان فنڈز کو رول اوور (توسیع دینے) کرنے سے معاشی تباہی کا باعث بننے والے وہ اسباب دور نہیں ہوتے جن کا آج پاکستان کو سامنا ہے اور معاشی طور پر خود مختار ریاست کے طور پر ملک کی بقاء داو پر لگی ہوئی ہے۔
(بشکریہ، عرب نیوز، ترجمہ: راشد عباسی)

مزید دیکھیں :   آئی ایم ایف ''پھنس گئی جان شکنجے اندر''