غیرجانبدار افسران کے تقرری کی ضرورت

خیبر پختونخوا میں سیاسی بنیادوں پر تعینات تمام انتظامی افسروں کو عہدوں سے تبدیل کرنے کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ سابق حکومت جاتے جاتے جگہ جگہ ایسے افسران کواہم عہدوں پرتعینات کرگئی ہے جواس پورے دور میں بھی اہم عہدوں پرتھے ان کی قربن بے وجہ نہیں ہوسکتی خیبر پختونخوا میں درجنوں کی تعداد میں سرکاری افسران کو سابق صوبائی حکومت نے سیاسی بنیادوں پر انتظامی عہدوں پر تعینات کیا تھا ان میںچیف سیکرٹری، کمشنرز، سیکرٹریز، آر پی اوز، ڈی پی اوز، ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور مختلف محکموں میں انتظامی عہدوں پر تعینات افسران شامل ہیں اس کے علاوہ دیگر اداروں میں بھی سیاسی بنیادوں پر افسروں کی تعیناتیاں کی گئی ہیں اس ضمن میں نئے افسران کی تعیناتی کے لئے چھان بین اور مجوزہ افسران کی فہرست کی تیاری کا کام شروع کر دیا گیا ہے محکمہ انتظامیہ کی رپورٹ کی روشنی میں یہ افسران جلد تبدیل کر دئیے جائینگے۔نگران حکومت کے پاس اس حوالے سے اختیارات محدود ہیں اور ان کو تبادیوں کے لئے الیکشن کمیشن کی منظوری درکار ہو گی اصولی طور پر ایک حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں جو نگران حکومت قائم ہوئی ہے ان کو یہ پوری طرح اختیارملناچاہئے کہ اولاً وہ پورے ملک اور صوبے میں اہم اور انتخابات پرکسی نہ کسی صورت اثر انداز ہونے والے تمام افسران اور انتظامیہ کو تبدیل کرے اس کے بعد الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرکے تبادلوں پرپابندی عائد کی جائے تاکہ شفاف انتخابات میں کوئی کسرباقی نہ رہے اس عمل کاایک فائدہ بیورو کریسی کو بھی ہوگا کہ جو ناپسندیدہ یا پھرسفارش نہ رکھنے والے افسران اور عملہ برسوں نظرانداز ہونے کا شکار چلے آرہے تھے ان کو آگے آنے کاموقع ملے گا عموماً نظر انداز اور پوسٹنگ سے محروم رہنے والے اصولی اور اوپر والوں کو ”خوش”نہ رکھنے والے ہوتے ہیں یا پھر وہ کسی نہ کسی وجہ سے کسی کے غضب کا شکار ہو کر حالات کو بھگت رہے ہوتے ہیں اور ناپسندیدہ کہلائے جاتے ہیں جن کی پوسٹنگ نگران دور ہی میں ممکن ہے اگر نہ نئی حکومت میں بھی ان کا کوئی پرسان حال نہ ہو گا۔ بہرحال بنا بریں محولہ قسم کے افسران کی تقرری گویا نگران حکومت کی ذمہ داری اور انتظامی ضرورت ہوتے ہیں اس ضمن میں نگران حکومت کو غور کرنے اور صوبے میں گزشتہ حکومت سے پیوستہ سرکاری مشینری کو مکمل طور پرتبدیل کرکے غیر جانبدار افسران کی تقرری کرنی چاہئے اور اس ضمن میں الیکشن کمیشن سے اجازت اوران کواعتماد میں لینے کی ضرورت بھی پوری ہونی چاہئے۔

مزید دیکھیں :   یہ بیل منڈھے چڑھے بھی تو۔۔۔