غیرجانبدار افسران کی تقرری ضروری ہے

مختلف محکمہ جات کی جانب سے پوسٹنگ ٹرانسفر کیلئے اجازت دینے کی درخواست پر الیکشن کمیشن کی جانب سے تبادلوں پر عائد پابندی سے استثنیٰ کی درخواست کی منظوری کے بعد صوبے میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کا ا مکان واضح ہو گیا ہے محکمہ ابتدائی تعلیم، محکمہ صحت اور محکمہ انتظامیہ کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو مراسلہ میں گذشتہ مہینے سلیکشن بورڈ کے اجلاس میں درجنوں افسروں کی اگلے سکیل میں ترقی ہونے اور عدالتی مقدمات میں تعیناتیوں کی سفارشات پر عمل در آمد موخر ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی اور ضرورت کی بنیاد پر ملازمین کے تبادلوں کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی تھی ۔ الیکشن کمیشن نے مذکورہ وجوہات پر ہر قسم کے تبادلہ، تعیناتی اور تقرری پر عائد پابندی کو نرم کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو مختلف محکمہ جات میں ملازمین کے تبادلوں کی اجازت دے دی ہے۔نگران حکومت کے آنے کے بعد سابقہ حکومت میں اہم عہدوں پر تعینات افراد کا تبادلہ بہرصورت ضروری ہے تاکہ ایسے غیرجانبدار افسران کی نگرانی میں انتخابی عمل شروع ہو جو کسی جماعت سے قربت نہ رکھتے ہوں تاکہ کسی کو بھی مداخلت اور جانبداری کی شکایت کا موقع نہ ملے۔خیبر پختونخوا میں سیاسی بنیادوں پر تعینات تمام انتظامی افسروں کو عہدوں سے تبدیل کرنے کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ سابق حکومت جاتے جاتے جگہ جگہ ایسے افسران کواہم
عہدوں پرتعینات کرگئی ہے جواس پورے دور میں بھی اہم عہدوں پرتھے ان کی قربت بے وجہ نہیں ہوسکتی خیبر پختونخوا میں درجنوں کی تعداد میں سرکاری افسران کو سابق صوبائی حکومت نے سیاسی بنیادوں پر انتظامی عہدوں پر تعینات کیا تھا ۔ اصولی طور پر ایک حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں جو نگران حکومت قائم ہوتی ہے ان کو یہ پوری طرح اختیارملناچاہئے کہ اولاً وہ پورے ملک اور صوبے میں اہم اور انتخابات پرکسی نہ کسی صورت اثر انداز ہونے والے تمام افسران اور انتظامیہ کو تبدیل کرے اس کے بعد الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرکے تبادلوں پرپابندی عائد کی جائے تاکہ شفاف انتخابات میں کوئی کسرباقی نہ رہے اس عمل کاایک فائدہ بیورو کریسی کو بھی ہوگا کہ جو ناپسندیدہ یا پھرسفارش نہ رکھنے والے افسران اور عملہ برسوں نظرانداز چلے آرہے تھے ان کو آگے آنے کاموقع ملے گا عموماً نظر انداز اور پوسٹنگ سے محروم رہنے والے اصولی اور اوپر والوں کو ”خوش”نہ رکھنے والے ہوتے ہیں یا پھر وہ کسی نہ کسی وجہ سے کسی کے غضب کا شکار ہو کر حالات کو بھگت رہے ہوتے ہیں اور ناپسندیدہ کہلائے جاتے ہیں جن کی پوسٹنگ نگران دور ہی میں ممکن ہو سکتی ہے ۔ بہرحال بنا بریں محولہ قسم کے افسران کی تقرری گویا نگران حکومت کی ذمہ داری اور انتظامی ضرورت ہوتے ہیں اس ضمن میں نگران حکومت کو غور کرنے اور صوبے میں گزشتہ حکومت سے پیوستہ سرکاری مشینری کو مکمل طور پرتبدیل کرکے غیر جانبدار افسران کی تقرری کرنی چاہئے تاکہ سبھی کو مقابلے کے لئے برابر کا میدان میسر آئے اور کسی بھی جانب انتخابات اور اس کے نتائج پر انگشت نمائی کا موقع نہ ملے۔

مزید دیکھیں :   مہنگائی کا ''بائیکاٹ''