گراوٹ ہی گراوٹ ہے

ادارہ برائے ترقی اقتصادیات پاکستان جو منصوبہ بندی کی وزارت کا ایک ذیلی ادارہ ہے اس نے کرونا وائرس کے ملک میں اثرات کے بارے میں ایک جائزہ رپورٹ تیار کی ہے جس میں یہ اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے دباؤ کی وجہ سے ہولناک منظرنامہ پیش ہوتا نظر آرہا ہے، اگر فعالیت بندش (لاک ڈاؤن) کا سلسلہ دوماہ تک بھی دراز ہو گیا تو ایک کروڑ افراد کے روزگار کے لالے پڑسکتے ہیں، اسی طرح حکومت اس بارے میں اپنی موجودہ پالیسی پر گامزن رہی تو پچاس لاکھ سے زائد افراد کا روزگار ڈگمگا جائے گا جبکہ پاکستان پہلے ہی سے غیرملکی قرضوں میں گھیرا ہوا ہے اور عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کو کرونا وائرس کی طرح چمٹے ہوئے ہیں، ترقی اقتصادیات کے ادارے کے مطابق ترقی پذیر ممالک کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنے قرضوں کی ادائیگی کیلئے مدت میں توسیع حاصل کریں تاکہ پہلے وہ اپنی معیشت بحال کر سکیں اس کے بعد قرضہ لوٹانے کے قابل ہو کر ادائیگیاں کر پائیں۔ کرونا وائرس کے بچاؤ کی جو پالیسی ہے اس میں چھوٹا تاجر بری طرح متاثر ہو رہا ہے کیونکہ رمضان میں یہ تاجر اپنے سال بھر کی کمی کو پورا کر لیا کرتے تھے، اب دوسرے حالات سے دوچار ہے جو ان کے مستقبل کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں، موجودہ حکومت نے ماہرین معیشت واقتصادیات کا ایک جھمگھٹا لگا رکھا ہے ان کو ٹاسک دیا جانا چاہئے کہ وہ فوری طور ملک کیلئے ایسی پالیسی بنائیں کہ ملک کو معاشی بحران سے بچایا جا سکے، اس بارے بہتر ہے کہ پی ٹی آئی اپنی روایاتی سیاست کو ایک کنارے رکھ کر تمام قومی سیاسی جماعتوں کیساتھ مشاورت کا عمل جاری کرے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے یہ نہیں کہ صرف پاکستان متاثر ہو رہا ہے بلکہ پوری دنیا کو اس نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، ترقی یافتہ ممالک بھی نشانہ بنے ہوئے ہیں اور اس وقت تیل کی معیشت کی زد میں بری طرح پھنس کر رہ گئیں ہیں، امریکا میں تیل پیدا کرنے والی کمپنیاں خریداروں کو تیل کی ترسیل کے اخراجات بھی ادا کرنے کو تیار بیٹھی ہیں تاکہ وہ ان کے ذخائر سے تیل اُٹھا لیںکیونکہ ان کے پاس اب گنجائش ہی نہیں بچی ہے کہ مزید تیل کو ذخیرہ کر پائیں، کرونا وائرس کے پھیلنے سے پہلے دنیا میں تیل کی کھپت نو کروڑ ستر لاکھ بیرل تھی اور پیداوار دس کروڑ بیرل کے لگ بھگ تھی، اسی وجہ سے مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ تھا، رواں سال کے شروع میں تیل کی قیمتوں میں پچپن ڈالر سے لیکر ساٹھ ڈالر فی بیرل کا استحکام نظر آرہا تھا لیکن جونہی بندش فعالیت (لاک ڈاؤن) کا سلسلہ دراز ہوا تو تیل کی کھپت یکایک دس کروڑ بیرل سے چھ کروڑ پر آگئی، تاہم چین جو پہلے بھی دنیا میں تیل کا سب سے بڑا خریدار تھا ہنوز وہ اب بھی اسی مقام پر ہے چنانچہ تیل کی گراؤٹ سے بچنے کیلئے تیل پیدا کرنیوالے ممالک کے درمیان چین کی منڈی کو حاصل کرنے کیلئے مخاصمت شروع ہوئی جس میں سعودی عرب اور روس فرنٹ لائن پر دیکھے گئے جس وجہ سے دنیا کے حالات نے ایک نیا رخ بھی اختیار کر لیا۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس نے نئی پالیسی اختیار کرنے کی غرض سے کہ تیل کی کساد بازاری سے خود کو محفوظ کر لیا جائے، مارچ میں ایک اجلاس منعقد کیا تھا مگر اس اجلاس میں کوئی فیصلہ کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ عرب ویب سائٹ کے مطابق اس رابطے کے دوران دونوں لیڈر ایک دوسرے سے شاکی پائے گئے، سعودی عرب تیل کی پیداوار کم کرنے کے حامی نظر آرہے تھے حتیٰ کہ ولی عہد سعودی عرب نے ولادی میر پیوٹن کو یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اگر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو پاتا ہے تو اس سے تیل کی قیمتوں میں مسابقت کی جنگ چھڑ سکتی ہے، ویب سائٹ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پیوٹن سے رابطہ سے قبل امریکی صدر کے داماد کشنر سے بھی صلاح مشورہ کیا تھا چونکہ روسی صدر سعودی رہنماء سے متفق نہ ہوئے جس کی وجہ سے تیل کی پیداوار میں مجموعی طور پر پندرہ لاکھ بیرل یومیہ کی کمی نہیں لائی جاسکی چنانچہ سعودی عرب نے جواباً تیل کی پیداوار میں اضافہ کر دیا، یوں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا ستیا ناس ہوگیا، تیل کی اس ساری سیاست میں امریکا کے وارے نیارے ہوگئے کیونکہ امریکا نے اپنے تیل کی پیداوار کم کر کے سستے سعودی تیل سے اپنے ذخائر بھرنا شروع کر دئیے لیکن امریکی تیل کمپنی شیل کے احتجاج پر امریکا نے اپنی پالیسی تبدیل کی تاہم اس کشمکش میں تیل کی گراوٹ کے نتیجے میں تیل کے سودے بھی ذخائر نہ ہونے کی گنجائش کی بناء پر واپس ہونا شروع ہوئے۔ پاکستان میں اس وقت یہ صورتحال ہے کہ جب تیل کی قیمتوں میں گراوٹ مسلسل ہوئی تو اس وقت عوام جو کرونا وائرس کی وجہ سے بیروزگاری کا شکار ہو رہے تھے ان کو ریلیف کی اشد ضرورت تھی مگر حکومت نے اس جانب سے آنکھیں موندھ رکھی تھیں جب عالمی سطح پر قیمتوں کا غل اُٹھا تو وزیراعظم کی جانب سے تیل کی قیمتوں پر نظرثانی کا اعلان کیا مگر ماہرین اقتصادیات اس کو ناکافی قرار دے رہے ہیں جس مشکل میں اہل پاکستان پھنسے ہوئے ہیں ان کو سیدھے بھاؤ سہولیات میسر ہو جانا چاہئے تھیں مثلاً جب بھی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر بڑھوتی ہوتی ہے تو حکومت سیدھی طرح بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیتی ہے، اب جبکہ حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میںکمی کردی ہے تو اس کے بعد کوئی جواز باقی نہیں رہتا کہ عوام کو بجلی کی قیمتوں میں ریلیف سے محروم رکھا جائے چنانچہ بجلی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے والے ادارے کو چاہئے کہ وہ بھی صارف کے حقوق کے تحفظ کیلئے کوئی اقدام کرے۔