خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

ہمارے مہربانوں نے پشاور کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے عوامی تفریح کے مقامات ہمارے شہر میں نہ ہونے کے برابر ہیں وہ عوام جسے ہم کوئی سہولت نہیں دے سکے لوڈ شیڈنگ کے ہاتھوں اکتائے ہوئے عوام ،مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام،کرونا کے ہاتھوںمرتے ہوئے لوگ ،جو سسک سسک کر زندگی گزار رہے ہیں پاکستانی کرنسی کی قدر روز بروز گرتی چلی جارہی ہے زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جارہی ہے کل ہم ایک رکشے والے سے الجھ رہے تھے کہ پچاس روپے کا راستہ ہے اور آپ ستر روپے طلب کر رہے ہیں تو وہ اپنی داستان غم لے بیٹھا ۔کہنے لگا کہ کرونا وبا کی وجہ سے اب سواریاں نہیں ملتیں میں بی ایس سی کا طالبعلم ہوں صبح کالج جاتا ہوں اور بعد از دوپہر رکشہ چلاتا ہوں۔ ہم نے کہا کہ پھر آپ کو پڑھائی کا وقت کیسے ملتا ہو گا ۔کیا کروں مجبوری ہے مہنگائی کا عفریت آسمان سے باتیں کررہا ہے حکمران عوامی مسائل سے باخبر ہوتے ہوئے بھی ہمارے بارے میں نہیں سوچتے والد صاحب بھی سرکاری ملازم ہیں ان کی تنخواہ بھی اب روز بروز بڑھتے ہوئے اخراجات کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔ رات آٹھ بجے تک رکشہ چلاتا ہوں پھررات بارہ بجے تک مطالعہ کرتا ہوں ۔ اس نوجوان کے شائستہ لہجے نے ہمیں بڑا متاثر کیا اس کی محنت اور قابلیت اپنے والدین اور چھوٹے چھوٹے بہن بھائیوں کے کام آرہی ہے ہم نے اسے کہا بیٹا اسی کو زندگی کہتے ہیں محنت اور دیانتداری تو ایسی خوبیاں ہیں جو تمھیں زندگی میں بڑی بڑی کامیابیوں سے ہمکنار کریں گی۔ زندگی میں اچھے برے دن سب پر آتے ہیں لیکن انسان کو ہمت نہیں ہارنی چاہیے اللہ پاک پر بھروسہ کرنا چاہیے۔آج وطن عزیز بھی ایسے ہی حالات سے دوچار ہے ہم سب بہت سے اندرونی و بیرونی محازوں پر الجھے ہوئے ہیں مسائل کا ایک انبارہے جن سے نبٹنے کیلئے اتحاد واتفاق کی اشد ضرورت ہے سیاستدانوں کا اخلاص اور حب الوطنی بہت ضروری ہے انھیں اپنے ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دینی ہوگی بے بدل لکھاری مختار مسعود اپنی کتاب آواز دوست میں لکھتے ہیں کہ زوال کی ساری وجوہات کو اکٹھا کیجیے تو صرف ایک وجہ بنتی ہے یعنی ملک میں اتفاق اور یک جہتی کا فقدان۔ مشہور زمانہ مورخ ٹائن بی لکھتا ہے کہ زوال تہذیب محض ایک سنگ میل ہے یہاں پہنچ کر اونچائی ختم ہو جاتی ہے باقی راستہ نشیب میں طے کرنا پڑتا ہے یہاں تک کہ انتشار تہذیب کی منزل آجاتی ہے جہاں اس تہذیب کی تاریخ ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد اس تہذیب کے قصے اسا طیر الاولین کہلاتے ہیں۔ جب معاشرہ ٹکڑے ٹکڑے اور روح عصر فگار ہو تو جان لیجیے کہ انتشار مکمل ہو چکا ہے۔ معاشرے کے تین ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔ جابر اقلیت، بیزار عوام ، اور نا مہرباں ہمسائے۔ روح جب فگار ہو تی ہے تو لوگوں کا رویہ احساسات اور طرز زندگی بالکل بدل جاتے ہیں معاشرہ جب پارہ پارہ ہوتا ہے تو وہ محض اس داخلی حقیقت کا اظہار ہے کہ معاشرے کی روح زخمی ہوچکی ہے اور زخم اس معاشرے کے ہر فرد کے دل پر لگ چکے ہیں۔ تین آیات قرآنی فلسفہ تاریخ سے متعلق ہیں اور ان میں وہ اصول بیان کیے گئے ہیں جو اٹل ہیں کوئی قوم ، ملک، ملت، امت ، تہذیب، معاشرہ یا کلچر ان اصولوں سے مستثنیٰ نہیںسبھی ان کے تابع ہیں۔ پہلا اصول یہ ہے کہ
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
انسان کو بغیر کوشش کے کچھ بھی نہیں ملتا۔ دوسرا اصول شکست وفتح یا عروج و زوال کے بارے میں ہے۔ قرآن مجید میں آیا ہے۔ اگر ہم بعض کو بعض پر فوقیت نہ دیتے تو معبدوں ، مسجدوں، گرجوں میں خدا کا نام لیوا کون رہ جاتا؟ تیسرا اصول فنا کا ہے یعنی کسی قوم ، سلطنت یا اقتدار کو دوام نہیںسب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ آج جب ہم اپنے معاشرے کی طرف دیکھتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم بڑی تیزی سے زوال کی طرف روز بروز بڑھتے چلے جارہے ہیں ایک چینی کہاوت ہے کہ ہم چھوٹے چوروں کو سزا دیتے ہیں اور بڑے چوروں کو سلام کرتے ہیں کچھ اسی قسم کی صورتحال سے ہم بھی دوچار ہیں جب کوئی بڑا آدمی جرم کرتا ہے اور اس کے شواہد بھی مل جاتے ہیں تو ہم عدالت عظمٰی کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسے ناکوں چنے چبوانے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں عدالت کے احکامات بار بار ماننے سے صرف اسلئے انکار کرتے ہیں کہ ہمارے مفادات پر ضرب پڑتی ہے ادارہ ٹوٹتا ہے تو ٹوٹ جائے لیکن ہمارا بندہ سزا سے بچ جائے۔ دیانت دار افسروں کو کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے۔ تاریخ اقوام عالم اٹھا کر دیکھ لیجئے جب کسی معاشرے میں انصاف کی پاسداری نہیں کی جاتی عوام کو سستا انصاف گھر کی دہلیز پر فراہم نہیں کیا جاتا تو پھر اس معاشرے کی سلامتی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن جایا کرتی ہے۔