کراچی پولیس آفس پر حملہ، آپریشن مکمل، تمام دہشت گرد مارے گئے

کراچی پولیس آفس پر حملہ، آپریشن مکمل، تمام دہشت گرد مارے گئے

کراچی کے علاقے شارع فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشتگروں کے حملے میں دو پولیس اہلکاروں اور رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد شہید ہوگئے جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی کارروائی میں 3 دہشتگرد مارے گئے اور عمارت کو تقریباً 4 گھنٹے بعد کلیئر کرالیا گیا۔
ویب ڈیسک: پولیس حکام کے مطابق کلیئرنس آپریشن کے دوران پولیس اور رینجرز اہلکاروں سمیت چار افراد شہید ہوئے جن میں سویلین خاکروب بھی شامل ہے جبکہ ڈی ایس پی ایس ایس یو سمیت 16 زخمی ہوئے، جن میں 6 رینجرز اہلکار اور ایک ایدھی کا رضاکار بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس میں دہشت گرد شام 7 بجے کے قریب داخل ہوئے اور انہوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کی،حملے کے بعد اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی جبکہ دیگر تھانوں سے نفری بھی طلب کی اور اہلکار مورچہ زن ہوئے۔ واقعے کے بعد علاقے کو سیل کر کے شاہراہ فیصل کو عام ٹریفک کیلیے بند کردیا گیا۔
دہشت گردوں کے داخل ہونے کے بعد پولیس آفس میں شدید فائرنگ کے ساتھ ساتھ دستی بم کے متعدد دھماکے ہوئے، واقعے کے بعد علاقے کو سیل کر کے شاہراہ فیصل کو عام ٹریفک کیلیے بند کردیا گیا۔
بعد ازاں پولیس اہلکار، پولیس کمانڈوز، رینجرز اور پاک فوج کے دستے کلیئرنس آپریشن کیلیے پہنچے اور مربوط حکمت عملی سے عمارت پر سے دہشت گردوں کا قبضہ ختم کرایا.
اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشتگرد مارے گئے جبکہ 1 دہشتگرد خود کش جیکٹ پھٹنے سے ہلاک ہوا۔
ڈی آئی جی ایسٹ مقدس حیدر نے تصدیق کی کہ رات دس بجے کے قریب کلیئرنس آپریشن مکمل کرلیا گیا،
انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران سندھ رینجرز کے 6 جوان جبکہ سندھ پولیس کے 7 اہلکار زخمی ہوئے۔
دو پولیس اہلکاروں اور رینجرز جوان نے جام شہادت نوش کیا جبکہ ایک خاکروب بھی فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوا۔

مزید پڑھیں:  وانا بم دھماکے میں 2 افراد جاں بحق ہونے پر وزیراعلیٰ کا اظہار افسوس