چیئرمین نیب مستعفی

جھوٹے کیس نہیں بناسکتا،چیئرمین نیب مستعفی

ویب ڈیسک:نیب کے چیئرمین آفتاب سلطان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین نیب آفتاب سلطان پر ایک ماہ سے شدید دبائو تھا۔ آفتاب سلطان کو 21 جولائی 2022ء کو چیئرمین نیب لگایا تیا تھا۔دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین نیب آفتاب سلطان کا ذاتی وجوہات کی بنا پر دیا گیا استعفیٰ منظور کرلیا۔
وزیراعظم نے آفتاب سلطان کی اپنے فرائض کی انجام دہی میں ایمان داری اور فرض شناسی کی تعریف کی۔ وزیراعظم ہائوس کے پریس ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین نیب آفتاب سلطان کے اصرار پر وزیراعظم نے ان کا استعفیٰ منظور کیا۔مستعفی ہونے والے چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے کہا ہے کہ کسی کے خلاف جھوٹا مقدمہ نہیں چلا سکتا۔ آفتاب سلطان نے نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں الوداعی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین کے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے
بہت خوش اور مطمئن ہوں کہ اپنے اصولوں پرکاربند ہوں اور کسی دبائو کے سامنے نہیں جھکا۔ آفتاب سلطان نے کہا کہ اپنی زندگی اور پیشہ ورانہ کیریئر میں قانون کے مطابق کام کرنے کی کوشش کی اور اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، میں کسی کے خلاف جھوٹا مقدمہ نہیں چلا سکتا، نہ ہی کسی کے خلاف قائم ریفرنس محض اس بنیاد پر بند کرسکتا ہوں کہ مجرم کسی بااثر شخص کا رشتہ دارہے۔ آفتاب سلطان کا کہنا تھا کہ ہمارا آئین ہمارے تمام مسائل کا حل فراہم کرتا ہے، آئین پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے آج ہم سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہیں، اعلیٰ اخلاقی اقدار اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کو برقرار رکھنے کے لیے نیب کے نوجوان افسران پر مکمل اعتماد ہے۔دوسری طرف قومی احتساب بیورو(نیب)نے توشہ خانہ کیس کی تحقیقات کیلئے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 9 مارچ کو طلب کرلیا ۔
ذرائع کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ کو 9 مارچ کی صبح نیب راولپنڈی میں طلب کیا گیا ہے۔ نیب کے نوٹس میں عمران خان سے توشہ خانہ سے لیے گئے 7 تحفوں کے بارے میں پوچھا گیا ہے۔ عمران خان کے بنی گالہ کے پتے پر نیب حکام کی طرف سے بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نیب حکام کی طرف سے ایسے افراد کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جو توشہ خانہ سے تحائف کم قیمت پر خرید کر انھیں فروخت کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو بطور وزیراعظم غیر ملکی دوروں کے دوران ان ملکوں کے سربراہانِ مملکت سے جو تحائف ملے ہیں ان کے بارے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے نو مارچ کو پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروائیں۔اس نوٹس میں ان تحائف کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو کہ عمران خان کو بطور وزیر مختلف سربراہان مملکت نے تحفے میں دیے تھے۔اس میں چھ گھڑیاں بھی شامل ہیں جس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے عمران کو تحفے میں دی گئی وہ گھڑی (کعبہ ایڈشن) بھی شامل ہے جس کے بارے میں مقامی میڈیا پر یہ خبریں بھی چلتی رہی ہیں کہ عمران خان نے مبینہ طور پر یہ گھڑی پانچ کروڑ روپے میں فروخت کی تھی جبکہ مارکیٹ میں اس کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے۔دیگر اشیا میں سونے کا پین، کف لنکس اور ایک بغیر سلہ ہوا سوٹ بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ عمران خان کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ اس آئی فون کے بارے میں بھی بتائیں جو انھیں قطر کی مسلح افواج کے سربراہ نے تحفے میں دیا تھا۔ نیب حکام کی طرف سے اس معاملے کی تحقیقات 22 نومبر سے شروع کی گئی تھیں اور اس میں متعلقہ افراد کے بیانات بھی قلم بند کیے گئے ہیں۔علاوہ ازیں نجی ٹی وی کے مطابق توشہ خانہ کیس میں7 مارچ کو تحریک انصاف کے رہنما پرویز خٹک اور شاہ محمودقریشی کو بھی طلب کیا گیا ہے جبکہ فواد چوہدری کو 8 مارچ کو طلب کر لیا گیا ہے۔
دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ چیئرمین نیب آفتاب سلطان کے مستعفی ہونے کے بعد نیب میں تبدیلیاں شروع کردی گئی ہیں اور ڈی جی نیب لاہور علی سرفراز کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:  مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی