انفاق فی سبیل اللہ

انفاق فی سبیل اللہ

(ڈاکٹر میمونہ حمزہ)اسلام ہر مسلمان میں انفاق فی سبیل اللہ کا جذبہ پیدا کرتا ہے،تاکہ وہ مال کی محبت کا اسیر نہ بن جائے، بلکہ اس میں اللہ اور بندوں کے حقوق کو پہچانے، اور ضرورت سے زائد مال کو اللہ کی راہ میں اور دوسروں کی بہتری کے لئے خرچ کر دے۔انفاق فی سبیل اللہ خیر اور برکت کے بڑے دروازوں میں سے ہے، جو شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ تعالی اس کی شان بڑھا دیتے ہیں، اور اس کی قدرو منزلت میں اضافہ ہو جاتا ہے، یہ نہ صرف منفق کے درجات کو بلند کرتا ہے، بلکہ اس کے مال و دولت کی نشو نما بھی کرتا ہے۔
اللہ تعالی کی اطاعت کے دائرے میں داخل ہونے والاوسعتِ دل کا مالک ہوتا ہے۔ وہ نہ زر پرست ہوتا ہے نہ تنگ دل۔ وہ اپنے مال کو سمیٹ سمیٹ کر نہیں رکھتا، بلکہ اس میں اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کرتا ہے، اسے ایمان سب چیزوں سے بڑھ کر عزیز ہوتا ہے، اور وہ اس کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔ اللہ تعالی نے متقین کی صفت بیان کی ہے کہ:
جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔(البقرہ)
یعنی انفاق فی سبیل اللہ ، بخشش اور مغفرت پانے والوں کا لازمی وصف ہے۔
یقینا فلاح پائی ایمان لانے والوں نے جو: زکواة کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں۔ (المومنون، )
اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرنا متقین کے بنیادی اوصاف میں سے ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ عملی طور پر بندگی کو اپنا شعار بنائیں۔ نماز عملی اطاعت کی اولین اور دائمی علامت ہے، اور انفاق اسے اللہ کی خاطر مالی قربانی پر ابھارتا ہے۔
انفاق فی سبیل اللہ کا حکم
اللہ تعالی نے اپنے مخلص بندوں کو انفاق فی سبیل اللہ کی تلقین کی ہے:
ایمان لاو اللہ اور اس کے رسولۖ پر اور خرچ کرو ان چیزوں میں سے جن پر اس نے تمہیں اپنا خلیفہ بنایا ہے۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے ان کے لئے بڑا اجر ہے۔(الحدید،)
اس کے دو مطلب ہیں اور دونوں ہی مراد بھی ہیں۔
1۔ تمہارے مال ، جو تمہارے پاس ہیں، یہ دراصل تمہارا ذاتی مال نہیں بلکہ اللہ کا بخشا ہوا مال ہے۔ تم بذاتِ خود اس کے مالک نہیں ہو، اللہ نے اپنے خلیفہ کی حیثیت سے یہ تمہارے تصرف میں دیا ہے۔ نائب کا یہ کام نہیں کہ مالک کے مال کو مالک ہی کے کام میں خرچ کرنے سے جی چرائے۔
2۔ یہ مال نہ ہمیشہ سے تمہارے پاس تھا، نہ ہمیشہ تمہارے پاس رہنے والا ہے۔ کل یہ کچھ دوسروں کے پاس تھا، آج تمہارے ہاتھ میں ہے، اللہ نے تمہیں اس کا جانشین بنا کر تمہارے حوالے کیا ، پھر ایک وقت آئے گا، جب یہ تمہارے پاس نہ رہے گا، کچھ دوسرے لوگ تمہارے جانشین بن جائیں گے۔ اس عارضی جانشینی کے وقت میں اسے اللہ کے کام میں خرچ کرو، تاکہ آخرت میں اس کا مستقل اور دائمی اجر تمہیں حاصل ہو۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے: اپنے مال خرچ کرو، یہ تمہارے ہی لئے بہتر ہے۔ جو اپنے دل کی تنگی سے محفوظ رہ گئے بس وہی فلاح پانے والے ہیں۔(التغابن)
جو کوئی خرچ کرتا ہے تو در اصل اپنے لئے ہی کرتا ہے۔ اور اللہ تعالی کا حکم بھی یہی ہے کہ بندہ جو کام بھی کرے اپنے لئے کرے، کیونکہ اس کا بہتر اجر اسی کے لئے ہے۔ گویا یہ خرچ اس کے اپنے لئے ہی ہے۔ اللہ تعالی اہلِ ایمان کو بتاتا ہے کہ انفاق کی راہ میں رکاوٹ بخیلی اور تنگ دلی ہے، اور یہ ایسی مصیبت ہے جو انسان کے ساتھ لگی رہتی ہے۔ سعادت مند وہ ہے جو اس بخل سے نجات پا گیا۔ جو اس سے بچا لیا گیا وہ سمجھ جائے کہ اس پر فضل و کرم ہو گیا ہے۔

مزید پڑھیں:  جاپان میں ریکون نامی جانور کی بڑھتی تعداد نے خطرے کی گھنٹی بجا دی