خیبرپختونخوامیں ضمنی انتخابات

خیبرپختونخوامیں ضمنی انتخابات کے خلاف حکم امتناع برقرار

ویب ڈیسک: پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کے 24 حلقوں میں 16 اور 19 مارچ کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے خلاف حکم امتناع برقرار رکھتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی اور الیکشن کمیشن سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔ عدالت نے سپیکر کی جانب سے کیس میں 15 دن کی مہلت دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے جواب ایک ہفتے کے اندر جمع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ سپیکر صاحب سے کہیں کہ کوئی دوسرا وکیل کر لیں۔ اگر اس کا وکیل ملک سے باہر ہے تو ہم اس کیس کو نہیں سنیں گے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر سپیکر نے اپنا جواب جمع نہیں کیا تو ہم اس میں دوسرے فریق کو سن کر کیس فیصلہ کر دیں گے۔
درخواست گزاروں ارباب شیر علی اور عمران خٹک نے رٹ میں موقف اپنایا ہے کہ سپیکر نے بغیر تصدیق ممبران کے استعفے منظور کئے ہیں۔ پی ٹی آئی قیادت نے کہا کہ 123 ممبران کے استعفے ایک ساتھ منظور کئے جائیں اس وقت سپیکر نے منظور نہیں کئے ۔ سپیکر نے خود کہا کہ ایک ایک ممبر کو بلا کر تصدیق کرے گا تاہم 14 جنوری کے بعد حالات تبدیل ہوئے تو پی ٹی آئی نے دوبارہ اسمبلی جانے کا فیصلہ کیا۔ ہماری استدعا ہے کہ انتخابات کو ملتوی کیا جائے۔ اس موقع پر سیکشن آفیسر قومی اسمبلی نے عدالت کو بتایا کہ سپیکر کا وکیل ملک سے باہر ہے، جواب جمع کرنے کے لئے کچھ وقت دیا جائے جس پر چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ آپ لوگوں کو کتنا وقت چاہیے۔ سیکشن آفیسر نے بتایا کہ سپیکر صاحب نے 15 دن کا کہا ہے،15روز کا وقت دیا جائے۔
چیف جسٹس نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوری، 15 دن تک ہم انتظار نہیں کر سکتے۔ آپ 7 دن میں جواب جمع کریں۔ سپیکر سے کوئی اور وکیل کر لیں ۔ وکیل باہر گیا ہے تو کوئی اور وکیل کر لیں ۔ عدالت نے ضمنی الیکشن کا شیڈول اگلی سماعت تک کے لئے ملتوی کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15 مارچ تک کے لئے ملتوی کردی اور اگلی پیشی پر سپیکر قومی اسمبلی و الیکشن کمیشن سے جواب طلب کرلیا ہے۔

مزید پڑھیں:  آپریشن عزم استحکام کیخلاف قرارداد منظور، وفاق صوبے کو اعتماد میں‌لے