جارگو آبشار۔سوات

شہر کے رہنے والے ہر باسی کی طرح مجھے بھی قدرتی حسن بہت بھاتاہے یوں گاہے بہ گاہے پاکستان کے خوبصورت پہاڑی علاقوں کا چکر لگتارہتاہے اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ ہر شہری کی ضرورت بھی ہے کہ شہر کا دھوئیں اور دھول سارا سال اپنے سینوں میںپھانک کر سال میں ایک دفعہ شہرکے شور سے دور قدرتی ، خوبصورت اور پرفضاء مقام کا چکرفرض ہوجاتاہے تاکہ پھیپھڑوں کی صاف صفائی بھی ہوجاتی ہے اور پر فضاء مقام سے دل بھی معطر ہوجاتاہے۔ شہر کے رہنے والے کاروباری حضرات کے ساتھ ساتھ ملازمت پیشہ لوگ بھی یہ فرض پورے خشوع و خضوع کے ساتھ نبھاتے ہیں۔یہ ذکر کسی ایک شہر یا کسی ایک علاقہ کے بارے میں نہیں بلکہ پورے پاکستان کے باسیوں کا ہے۔ اس کااندازہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیرکو آنے والے لاکھوں سیاحوں سے لگایا جاسکتاہے ۔آج سے چند برس قبل تک پاکستان کے ہر شہری کی طرح میرا بھی پہلا انتخاب معروف علاقہ جات تھے جن میں سب سے پہلے کوہسار مری اور اگرزیادہ دنوں کا پروگرام ہوتو پھر ناران کاغان وغیرہ اب جبکہ انٹرنیٹ کی بدولت ہر آدمی سیر کے لئے نکلنے سے پہلے گوگل کے ذریعے خوب ڈھونڈکر جگہ کا انتخاب کرتاہے بلکہ ہر آدمی یہ بھی دیکھتاہے کہ وہ خاندان کے ساتھ جارہاہے توایسی منزل کا انتخاب کیا جائے گا کہ جہاں حتی المقدور گاڑیوں پر جایا جاسکے کیونکہ گھر کی خواتین کا ساتھ ہوتو جگہ کا پرامن اور پر تحفظ ہونا ضروری ہے کیونکہ عورتیں اور بچے مشکل راستوں بلکہ پہاڑی راستوں پر سفر نہیں کرسکتے ۔ رہی بات دوستوں کی تو پھر انتخاب ذراہٹ کر ہوجاتاہے اور مقام کا خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ پیدل سفر، کچھ پہاڑوں پر چڑھنا بھی ہوتو زیادہ مزہ آتاہے۔ اس طرح پاکستان بھر کے سیاحوں نے نئے نئے مقامات کا کھوج لگارکھا ہے اور ہر طرح کے سیاح کے لئے ہر طرح کے مقام نہ صرف بتائے ہیں بلکہ وی بلاگر نے تو باقاعدہ ان کی ویڈیو بناکر پوری تفصیلات دی ہوئی ہیں ان میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ کہاں سے جارہے ہیں موٹروے اوراسلام آبادسے آگے کتنے کلومیٹر راستہ ہے کہاں سے جاناہے کونسا راستہ اختیار کریں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتادیا ہے کہ کون کون سے مقامات پر کھانے پینے کی ہر طرح کی اشیاء مل جاتی ہیں اور کون سے ایسے مقامات ہیں کہ جہاں اشیاء ضروریہ کے ملنے کا آخری مقام کونسا ہے اور سیاح حضرات وہاں سے ضروری سامان ساتھ لے لیں کیونکہ اس کے آگے مشکلات ہوسکتی ہیں۔
میں پہلے بھی بتاچکا ہوں کہ سیاحوں کارخ مری کی طرف کیوں تھا کیونکہ مری وفاقی دارلحکومت کے بہت ہی قریب ہے لہٰذا کم خرچ میں بہت پرفضاء مقام کے ساتھ ساتھ برف باری سے بھی لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صرف مری ہی نہیں بلکہ ایوبیہ، گلیات کے علاوہ ایبٹ آبادکے کئی علاقہ بھی اس ٹور کا حصہ ہوتے ہیںاس طرح اگر دیکھا جائے تو یہ سیاحت کم سے کم وقت میںبہت ساری چیزوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سستا ترین بھی ہے ۔دوسری اور بڑی وجہ یہ ہے وہاں کے ماحول کے بارے میں پاکستان بھر بالعموم اور بیرون ملک بالخصوص تقریباً ہر سیاح کو علم ہے کہ مری کا ماحول اسلام آباد کی طرح ہے یوں لوگوں کی اولین ترجیح مری ہی ہے ۔سیاحوں کی معلومات میں اضافہ کے لئے میں نے اپنے ایک کالم بعنواں ”سانحہ مری اور سیاحت کا مستقبل ”میں بتادیاتھا کہ اب خیبر پختونخوا کے علاقہ سوات میں بھی ماحول اور حالات بہت پرامن ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی ہر آنے والے کا دل موہ لیتی ہے۔
سوات و گردونواح کے لوگوں نے اب اس بات کی اہمیت کو سمجھ لیا ہے کہ سیاحوں کا یہاں آنا اب عام سی بات ہوچکی ہے حکومت نے بھی حتی المقدور سڑکیں بنائی ہیں اور گزشتہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد بحالی کا کام بھی پوری زور و شور سے جاری ہے۔ یہاں یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ مری واقعہ کے بعدسیاحت کے ادارے چاہے وہ حکومتی ہوں یا پھر نجی ادارے انہوں نے خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقامات کی طرف لوگوں کو راغب کرلیا ہے میں اپنے انہی کالموں میں لکھ چکاہوںکہ گزشتہ برس چھوٹی عید پر اور اس کے بعد گرمی کے موسم میں سیاحوں کا رخ مری کی بجائے خیبر پختونخواکی طرف تھا اور وہ کچھ حد تک موجودہ انتظامات سے خوش بھی ہیں۔اس سلسلے میں انتظامیہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں فیملیوں کے ان مقامات پر آنے کے دعوے کئے ہیں اور انہی کی زبانی یہ خاندان سیاحت سے نہ صرف لطف اندوز ہوئے ہیں بلکہ انتظامات سے بھی لوگ بہت خوش ہو کرگئے ہیں۔میں نے انتطامیہ کو انتباہ کردیا تھا کہ کسی قسم کی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے اور سیاحوں کی اتنی بڑی تعداد میں ان علاقوں میں آنے کے بعدان کی مہمان نوازی کے لئے ہر ممکن اقدامات کی ضرورت ہے۔ شاید ان انتظامات کو دیکھنے یا پھر شہرکا دھواں اور دھول نکالنے کے لئے گزشتہ روز میں بھی اپنے دفتر کے دوستوں کے ساتھ سوات گیا، دفتر کے ایک دوست کوزمہ داری سونپی گئی کہ وہ نیٹ پر کوئی نئی جگہ ڈھوندے ، اس نے ہمیں بتایا کہ ہمارااب کا پڑائو مینگورہ سوات سے٥٤ کلومیٹردور ”جارگو” یا ” جاروگو آبشار” ہے ۔یہاں ہم سے تھوڑی سی غلطی ہوگئی کہ ہم جون جولائی کی بجائے مارچ میں چلے گئے یوں برف باری کی وجہ سے آبشار تک نہ پہنچ پائے تاہم چند کلومیٹر پہلے ہی پڑائو ڈال کر دریا اور خوبصورت نظاروں سے بہت لطف اندوز ہوئے اور ہمارا یہ سفر بہت یادگاررہا۔

مزید دیکھیں :   حکومت کی انگڑائیاں، سیا سی اٹکھلیاں