حیرت انگیز فیصلہ

ڈائریکٹر تعلیم کی سبکدوشی کے بعد بجائے اس کے کہ سینئر ترین انتظامی افسر کی تقرری کرکے خلاء کو پورا پورا کیا جاتا محکمہ تعلیم کی جانب سے ایک عجیب و غریب قسم کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کی حکمت کوسمجھنا اور سمجھانا مشکل ہے ۔ اس امر کی وضاحت ہونی چاہئے کہ حکومت کی جانب سے ایک ایسے غیر متعلقہ شخص کو جس کا تعلیمی امور کا تجربہ اور تعلق نہیں بنتا اس کو چارج کیونکر حوالے کیا جائے ۔ کیا یہ مذاق نہیں کہ اس اہم عہدے پر مقرر ہونے والا شخص انسٹرکٹر فزیکل ایجوکیشن ہیں اور نظامت تعلیم میں بطور ایڈیشنل ڈائریکٹر سپورٹس فائز ہیں جن کو عارضی طور پر ڈائریکٹر کی پوسٹ پر تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔۔اس سرکاری خط نے جہاں حکومت وقت کی ترجیحات اور تعلیم کے شعبے سے دلچسپی پر کئی سوالات اٹھائے ہیں،وہیں مینجمنٹ کیڈر کے افسران میں بھی بے چینی کی لہر دوڑجانا فطری امر ہے سکیل20کے مینجمنٹ کے آفیسرجو کہ اس وقت ڈائریکٹر یٹ کے ڈسپوزل پر ہیںاور سکیل19کے دیگر ایڈیشنل ڈائریکٹرز جو کہ مینجمنٹ کیڈر سے ہیں اور نظامت تعلیم میں ہی تعینات ہیں ان سب کو چھوڑ کے حکومت وقت کی نظر انتخاب ایک ایسے شخص پر کیوں پڑی جواس عہدے کے لئے کسی طور پربھی موزوں نہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ دیگر کیڈرز کا جاب ڈسکرپشن،اور سروس سٹرکچر مینجمنٹ کیڈر سے بالکل مختلف ہے اور معزز ہائی کورٹس کے اس حوالے سے فیصلے موجود ہیں جس میں حکومت کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ ایڈمنسٹریٹو پوسٹس پر صرف مینجمنٹ کیڈر کے لوگوں کو ہی تعینات کیا جائے امید ہے کہ حکومت وقت ان حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے درست سمت میں فیصلے کرے گی۔اس طرح کی کوئی تقرری اگر کسی سیاسی دور حکومت میں ہوتی تو اسے سیاسی مفادات یا پھر سیاسی کرداروں سے جوڑنے کی گنجائش تھی لیکن اس وقت صوبے میں ایک ایسی نگران حکومت قائم ہے جس کے اپنے اختیارات محدود ہیںجس کی ذمہ داری انتخابات ہونے تک صوبے کا ضروری انتظام سنبھالنا ہے اس دور میں بھی اس طرح کی حیرت انگیز تقرری سے نگران حکومت پرجانبدارانہ فیصلے کا الزام لگنا فطری امر ہوگا ۔ایک اوسط درجے کے عہدے پر تقرری میںجانبداری کا مظاہرہ کرنے سے پوری نگران حکومت کی غیر جانبداری پر سوال اٹھ رہا ہے جس کا جہاندیدہ اور تجربہ کار نگران وزیر اعلیٰ کو فوری نوٹس لینا چاہئے اور اس تقرری کی سفارش کو منسوخ کرکے میرٹ کے مطابق محکمہ تعلیم کے کسی سینئر افیسر کی تقرری کی جائے تاکہ مینجمنٹ کیڈر میں پھیلی ہوئی بددلی کا خاتمہ ہوسکے اور تعلیم کے معاملات کو احسن انداز میں چلایا جاسکے جو محولہ تقرری کی صورت میں کسی طور ممکن نظر نہیں آتی۔