ڈاکٹروں کی بھی سنئے

پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلنے وا لے ہسپتالوں میں ہونیوالی مبینہ بے قاعدگی کی شفاف انکوائری اور مزید 58 ہسپتالوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا اشتہار منسوخ کرنے کا مطالبہ قابل توجہ ہے پی ڈی اے کا موقف ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا نظام ایم ٹی آئی سسٹم کی طرح فرسودہ نظام ہے اس لئے ان ہسپتالوں کو واپس ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے کنٹرول میں لیا جائے اور صحت سہولت پروگرام کے حوالے سے پرائیویٹ ہسپتالوں میں میگا کرپشن اسکینڈلز کی غیر جانبدارانہ اور شفاف انکوائری بھی کرائی جائے یہ پروگرام عرصہ دراز سے چند افراد کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔پی ڈی اے نے محکمہ صحت کے دیگر اداروں میں قائم بورڈ آف گورنرز کو بھی فوری طورپر تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ڈاکٹروں کی تنظیم اور سینئر ڈاکٹروں کی اکثریت شروع ہی سے ایم ٹی آئی نظام رائج کرنے کی مخالفت کرتی آئی ہے یہ نظام جن جن ہسپتالوں میں لایا گیا سوائے لاتعداد بھرتیوں کے ذریعے ہسپتال پر مالی بوجھ بڑھانے کیعلاوہ اس کی کوئی افادیت سامنے نہیں آئی ڈاکٹروں کی بڑی تعداد انتظامی افسران کو بلاوجہ کی جواب دہی سے احتراز یا پھر کام کے نامناسب ماحول اور انتظامیہ سے اختلافات کے باعث ہسپتال چھوڑنے کو ترجیح دی ۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال اس کی بدترین مثال ٹھہری جہاں سے سینئر ڈاکٹر یکے بعد دیگرے ملازمتیں چھوڑ گئے صحت کارڈ کی سہولت کے باعث عوام کو پرائیویٹ علاج کی سہولت میسر نہ آتی تو نجانے مریضوںکاکیا حال ہوتا ۔ اس کے باوجود آئے روز صوبے کے تینوں تدریسی ہسپتالوں سے مریضوں کو فٹبال بنانے کی شکایات آرہی ہیں حالیہ دنوں میں ایک بچی کا قصہ خاصا مشہور ہوا جس سے ان ہسپتالوں کے درون خانہ بد انتظامیوں کا اندازہ لگانا مشکل نہیں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی صورتحال بھی محولہ حالات و واقعات کے مماثل ہی ٹھہرتے ہیں اس ساری صورتحال میں ڈاکٹر برادری کی جانب سے ہسپتالوں کودوبارہ محکمہ صحت کے حوالے کرنے بارے مطالبے پرغور کی ضرورت ہے اس بارے اگر نگران حکومت کے اختیارات محدود اور قانونی طور پرسقم نہ ہو تو پھر پہلا قدم اٹھایا جانا چاہئے اگرچہ محکمہ صحت کے زیر اہتمام ہسپتالوں میں بھی علاج معالجے کی سہولتوں اور علاج و نگہداشت پرتنقید ہوتی رہی ہے لیکن بہرحال ایم ٹی آئی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے جھمیلوں میں الجھے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی عدم توجہ اور ہسپتالوں میں بھول بھلیوں میں الجھنے سے پرانا نظام ہی غنیمت نظر آتا ہے ۔

مزید پڑھیں:  تحریک انصاف پر پابندی ، چند چبھتے سوال