بھارتی مظالم کے سامنے سینہ سپر اقلیتیں

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ بھارتی مظالم کے سامنے سینہ سپرکشمیری ہمارا فخر ہیں اور ان کی سفارتی حمایت جاری رہے گی ، اپنے ایک پیغام میں پاکستانی مندوب نے کہاکہ میں ان مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو یاد کرنا چاہوں گا جو آج بھی مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت میں ظلم وستم کا شکار ہیں۔ ہمیں اس دن پاکستان میں اپنے تمام بھائیوں اور بہنوں بالخصوص غریبوں پسماندہ کمزوروں کے حالات بہتر کرنے کیلئے پوری تندہی اور ایمانداری سے کام کرنے کا عزم کرنا چاہئے ۔ ادھر دوسری جانب لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے اور اطراف کا علاقہ خالصتان کے نعروں سے گونج اٹھا جہاں مظاہرین نے بھارت کے خلاف زبردست نعرے لگائے ، بھارتی پنجاب میں پولیس کے مظالم کے خلاف لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے ہزاروں سکھوں نے احتجاج کیا جس کیلئے پولیس کی مزید نفری طلب کرنا پڑ گئی۔ امر واقعہ یہ ہے کے بھارت ہندو توا کی حامی ہے بی جے پی کی حکومت نے جس طرح بھارتی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور سکھوں کے ساتھ ساتھ دلتوں اور عیسائیوں کے خلاف مظالم میں اضافہ کیا ہے اور خاص طور پر کشمیری مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں میں اضافہ کر رکھا ہے اس کی وجہ سے ہندو حکمرانوں کے خلاف اقلیتوں کے اندر غم و غصہ میں تیزی آرہی ہے ایک جانب کشمیری مسلمان اپنی جد و جہد آزادی کو مہمیز دے رہے ہیں تو دوسری طرف آزاد خالصتان تحریک دنیا بھر میں پھیل کر جمہوری اقدار پرایمان رکھنے والی اقوام میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے جبکہ اس سلسلے میں انگلستان میں سکھ برادری نے حال ہی میں آزاد خالصتان کے قیام کے حق میں عالمی سطح پر ریفرنڈم کا اہتمام بھی کیا جس نے بھارتی حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ مگر وہ پھر بھی باز نہیں آرہے ہیں اور بھارتی اقلیتوں کی زندگی روز بروز تنگ کئے چلے جا رہے ہیں تاہم اس صورتحال سے کب تک وہ آنکھیں موند سکیں گے اور ایک نہ ایک روز نہ صرف مظلوم کشمیر یوں بلکہ سکھوں کی آزادی کی ان تحریکوں کے سامنے اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبو ر ہو نا پڑے گا، عالمی برادری کوب ھی چاہئے کہ وہ بھارتی اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے ان مظالم کا نوٹس لے اور نہ صرف کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں تعاون فراہم کرے بلکہ آزاد خالصتان تحریک کی بھی حمایت کر کے جمہوری اقدارکا سر بلند کرے۔

مزید پڑھیں:  تحریک انصاف پر پابندی ، چند چبھتے سوال