کمیونٹی ٹیچرز کو تنخواہوں

کمیونٹی ٹیچرزکوتنخواہوں کی عدم ادائیگی،ہائیکورٹ نے رپورٹ مانگ لی

ویب ڈیسک: پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصررشید خان نے کہا ہے کہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ رمضان کے مہینے میں بھی اساتذہ کو تنخواہیں نہیں دی گئیں، وہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے بغیر تنخواہ کے کام کررہے ہیں کیونکہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران خود اپنی تنخواہیں لے رہے ہیں، انہیں ملازمین کی فکر نہیں۔ فاضل چیف جسٹس نے یہ ریمارکس کمیونٹی ٹیچرز کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیئے۔اس دوران ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سید سکندر شاہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ گزشتہ پیشی پر عدالت نے ان اساتذہ کی تنخواہوں سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی جبکہ محکمہ تعلیم کے نمائندے نے بتایا کہ یہ اساتذہ نیشنل کمیشن فار ہیومین ڈویلپمنٹ اور بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکول پراجیکٹ کے ملازمین تھے جو کہ صوبے کے حوالے کئے گئے۔
صوبوں کو دیتے وقت وفاق نے ان کیلئے کوئی فنڈز نہیں دیئے اور زبردستی ان ملازمین کو صوبے کے حوالے کیاگیاجس کی وجہ سے انکی تنخواہیں جولائی 2021 سے بند ہے ۔ان میں زیادہ تر کاکوالیفیکیشن کا بھی مسئلہ ہے کیونکہ اب قانونی طور پر ان کیلئے بی اے کی شرط رکھی گئی ہے جبکہ زیادہ تر اساتذہ میٹرک اور ایف اے پاس ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ لوگ اس وقت تک کیا کررہے تھے جب عدالت نے نوٹس لیا توآپ لوگوں کو ان کی کیٹیگری کا خیال آیا۔ یہ جولائی 2021 سے تنخواہیں نہیں لے رہے اور آپ لوگ آرام سے بیٹھے ہیں جس پر محکمہ تعلیم کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ خزانہ کو فنڈز کے اجراء کیلئے لکھا گیا ہے اور وہ بھی راضی ہیں جس پر فاضل بنچ نے ریمارکس دیئے کہ جب سیکرٹری ایجوکیشن بھی راضی ہے اور فنانس بھی فنڈز دے رہا ہے توآپ لوگ کیوں نہیں دے رہے ۔
اس سے تو ان اساتذہ کے مسائل اور بھی بڑھیں گے کیونکہ رمضان کا مہینہ ہے ۔ان کا کچھ خیال کریں ایک دن بھی بغیر تنخواہ کے گزارنا مشکل ہو جاتاہے اور یہ لوگ ڈیڑھ سال سے بغیر تنخواہ کے کام کررہے ہیں اور جو کام نہیں کررہے، انہیں بے شک نہ دیں مگر جو اساتذہ کام کررہے ہیں انہیں تنخواہیں ادا کی جائیں۔ بعد ازاں عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ اس حوالے سے مکمل رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔

مزید دیکھیں :   پشاور ہائیکورٹ نے ایک ماہ میں 1100مقدمات نمٹادیئے