انتخابات کا کم سے کم وقت

ججزکااختلاف رائے،نئی قانونی بحث چھڑگئی،انتخابات کاکم سے کم وقت بتائیں،چیف جسٹس

ویب ڈیسک:سپریم کورٹ کے ججز کی آراء میں اختلاف نے ملک میں نئی قانونی بحث چھیڑ دی ۔بدھ کے روزسپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کے الیکشن کے کیس کی سماعت ہوئی جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ وزارت داخلہ اور وزارت دفاع سے کم سے کم وقت میں انتخابات کا پوچھ کر بتائیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتی کارروائی کسی کو فائدہ دینے کیلئے نہیں، گزشتہ روز شفاف الیکشن کیلئے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کا کہا لیکن کسی فریق نے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی یقین دہانی نہیں کرائی۔
اس پر پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ وہ عدالت کو مکمل یقین دہانی کرانے کیلئے تیار ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کون یقین دہانی کرائے گا یہ بتایا جائے۔سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس کوتین کے مقابلے میں چارججز نے مستردکیا،چیف جسٹس نے آرڈر آف دی کورٹ جاری ہی نہیں کیا تو صدر نے الیکشن کی تاریخ کیسے دی؟الیکشن کمیشن نے کیسے الیکشن شیڈول جاری کیا؟جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ چارججز کا فیصلہ ہی آرڈر آف دی کورٹ ہے۔
وکیل فاروق نائیک نے یکم مارچ کے فیصلے کی وضاحت کے لیے فل کورٹ بنانے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کے تقاضوں کے لیے ضروری ہے کہ یہ فیصلہ ہوکہ فیصلہ 4/3 تھا یا 3/2 کا، پورے ملک کی قسمت کا دار ومدار اس مدعے پر ہے جسٹس جمال نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے پوچھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس جب آرڈرآف دی کورٹ آیا ہی نہیں تو اس نے عمل کیسے کیا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ممکن ہے فیصلہ سمجھنے میں ہم سے غلطی ہوئی ہو۔
جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ یکم مارچ کے فیصلے میں کہیں درج نہیں کہ فیصلہ 4/3 کا ہے۔اگر اکتوبر میں الیکشن کروانا تھا تو الیکشن کمیشن نے صدر کو 30 اپریل کی تاریخ کیوں تجویزکی؟چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ 20 سال سے ملک میں دہشت گردی کا مسئلہ ہے، اس کے باوجود انتخابات ہوتے رہے ۔چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ عدالت کا مقصد سیاسی نظام کو چلتے رہنے دینا ہے، کوئی سیاسی جماعت سیاسی نظام کو آگے بڑھانے کی مخالفت نہیں کرتی، ایک مسئلہ سیاسی درجہ حرارت کا ہے،سیاسی درجہ حرارت اور تلخی کم ہونے تک انتحابات پرامن نہیں ہوسکیں گے ۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سیاسی قوتوں کے درمیان تنائو سے دیگر ریاستی ادارے متاثر ہو رہے ہیں، عوام میں اداروں کے بارے میں باتیں کی جاتی ہیں، ادارے بول نہیں سکتے اس لیے تحمل سے سنتے ہیں۔سپریم کورٹ نے مزید سماعت جمعرات کی صبح 11:30 بجے تک ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں:  ملک و قوم کی بقا کیلئے عوامی اتحاد حکومت کے گھٹنے ٹیک دیگی، مفتی محمد تقی