خطوط کی خوشبو اور تاریخ

خطوط نگاری ادب کی قدیم ترین اصناف میں سے ایک ہے ‘ اردو زبان میں خطوط نویسی کا فن ارتقائی مراحل سے عربی اور فارسی زبانوں اور تاریخ سے ہو کر آیا ۔ خطوط نگاری کو انسانی تہذیب کی ترقی و معراج سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے ایک آدمی اپنے بہترین خیالات کا اظہار دوسروں تک تحریر کے ذریعے پہنچاتا ہے۔تاریخی طور پر خطوط نویسی کا تعلق عراق کے مشہور شہر بغداد کے ساتھ رہا ہے ۔ بغداد کے ایک مقام ٹیل اسمارنہ سے آثار قدیمہ کے ماہرین کو پختہ مٹی کی تختیاں ملیں جن کو تحقیق و تدقیق کے بعد ماہرین نے فراعنہ مصر کے نام خطوط قرار دیا ۔ کہا جاتا ہے کہ ان خطوط کا زمانہ تحریر تین ہزار سال قبل از مسیح کا ہے ۔ قرآن مجید میں بھی ایک خط کا ذکر ملتا ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے یمن کی ملکہ سباء کے نام لکھا تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حواریوں سینٹ پال ، سینٹ پیٹرس اور بعض دیگر خطوط بھی یونانی زبان میں تاریخ میںذکر ہیں ۔ اسلام کی آمد سے قبل عربوں میں کبھی خطوط نگاری کا رواج تھا۔ اسلام کے بعد باضابطہ خطوط لکھے جانے کا آغاز ہوا۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی خطوط لکھوائے جو آج بھی محفوظ ہیں۔ حضرت عمر فا ورق کے دور میں گورنروں کو ہدایات و احکامات اور اطلاعات وغیرہ کے لئے مکاتیب و خطوط لکھے جاتے تھے ۔ حضرت علی کے مجموعہ خطبات میں آپ کے مکتوبات بھی شامل ہیں۔
اردو زبان میں خطوط نویسی کا ارتقاء عربی اور فارسی مکتوب نگاری کے زیر اثر شروع ہواعام طور پر مشہور افسانہ نگار رجب علی بیگ سرور اور غلام غوث بے خبر کو اردو کا پہلا مکتوب نگارکہا جاتا ہے ۔ لیکن خطوط نویسی کا اولین لکھاری کہیں گردش ایام میں گم ہے ۔ سب سے پہلے مختلف زبانوں میں اس فن کو کس نے برتا ، اور کون تھا جس نے ”خط” کو آدھی ملاقات سے تعبیر کیا، سب ظنیات کی باتیں ہیںلیکن میرے ایک دور افتادہ گائوں میں خطوط نویسی کی تاریخ و ترسیل مجھے اب بھی یاد ہے ۔ اس زمانے میں پاکستان کے اکثر علاقوں میں جی ٹی ایس (گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس) کے ذریعے ڈاک کے تھیلے محکمہ ڈاک کے ذریعے بھجوائے جاتے تھے ۔ ہمارے سکول کے ایک ٹیچرجو ایک دلچسپ شخصیت کے مالک تھے، اضافی ڈیوٹی کے طور پر پورے گائوں اور اس کے مضافات کی ڈاک کی وصولی اور ترسیل کا کام کرتے تھے۔ ہم لوگ جی ٹی ایس کی آمد کے وقت سے پہلے ہی استاد کے ڈاک خانہ میں حاضر ہوکر پاک افواج اور دیگر محکموں میں ملازمت پیشہ رشتہ داروں کے خطوط کے انتظار میں ڈیرہ جما لیتے تھے ‘ اور جب اپنے رشتہ داروں کا خط وصول کرلیتے تو اسے بہت محبت انگیزنگاہوںسے دیکھتے کیونکہ رشتہ داروں کے خطوط سے ان کے حال و احوال سے آگاہی کے علاوہ لفافے کی مہک بھیجنے والے کی خوشبو بھی لئے ہوتی تھی۔اس زمانے میں جب کوئی نیا نیا بھرتی ہو کر سفر پر نکلتا یا چھٹی گزار کر واپسی کرتا تو گھروالے پتہ نہیں کتنی بار یہ جملہ دہرا تے ” منزل پر پہنچ کر خیریت سے آگاہی کے لئے خط لکھا نہ بھولئے گا۔
خطوط نویسی کے ساتھ میری دلچسپی کے کئی ایک اسباب تھے۔ پہلی بات یہ کہ خط کے ذریعے ہمارے رشتہ دار ہمیںیہ اطلاع فراہم کرتے کہ سو روپے کا منی آرڈر بھیج دیا ہے ، وصولی پر آگاہ کریں ۔ ”در سرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میں اپنے گائوں کے ان چنیدہ لوگوں میں شامل ہوں جنہوں نے اردو زبان میں خط نویسی کا فن بہت جلد اساتذہ کرام کی کرم نوازی کے طفیل سیکھ لیا تھا ۔اس فن کو میں نے 1971 ء میں بھارت میں قید اپنے گائوں کے فوجی جوانوں کو ان کی مائوں اوربیویوں کی طرف سے خطوط لکھنے میں ایک قومی فریضہ سمجھ کر خوب استعمال کیا ۔میں جب ان پڑھ مائوں بہنوں اور رشتہ داروں کی سادہ الفاظ میں بتائی ہوئی باتوں کو ادبی انداز میں مکتوب الیہ کو پہنچاتا توواپسی خطوط میں میرا شکریہ ادا کرنے کے علاوہ تسلیمات واداب بھی پیش کرتے ۔ مجھے آج بھی ایک ماں ، جن کا بیٹا (جواب بھی حیات ہے) بھارت میں قید تھا ، یاد ہے جنہوں نے پشتو ٹپہ گا کر مجھ سے کہا کہ یہ بھی لکھ دو ”دیدن پہ تورو غرو پناہ دے ‘ وریز خونہ یم چہ پہ غرودرڑانگہ شمہ” یعنی ملاقات میں سیاہ اونچے پہاڑ حائل ہیں ، میں کوئی بادل تو نہیں کہ پہاڑوں پر پھیل کر آپ کی زیارت کر لوں۔
واہ ‘وہ بھی کیا دن تھے ، جب خطوط سے اپنوں کی خوشبو آتی تھی ‘ اور خط واقعی آدھی ملاقات ہوا کرتا تھا ۔ خطوط نویسی کے اس دور میں ایک خاص روایت عید کارڈ بھی بھیجنے کی بھی تھی ،عید کارڈ کچھ تو والدین اور دوست احباب کے لئے ہوا کرتے تھے لیکن سب سے زیادہ عید کارڈ اور خطوط ہجر و ہجران کے مارے عشاق کی طرف سے شہر حسن کے حسن جفا کشی کو بھیجے جاتے تھے ایسے عید کارڈ تلاش کئے جاتے جس میں عاشق مہجور کے جذبات کی منظر کشی آسان ہوتی ‘ اور اس پر لکھنے کے لئے خاص اشعارکا بڑی ریاضت کے بعد انتخاب ہوتا تھا۔
اشعار میرے یوں تو زمانے کے لئے ہیں
کچھ شعر ان کو سنانے کے لئے ہیں
لیکن دکھ کے ساتھ کہنا پڑ ر ہا ہے کہ سائنس کی ترقی نے جہاں ہماری بہت ساری تہذیب و معاشرتی روایات کو متاثر کیا ‘ وہاں کتاب بینی اور خطوط نویسی بھی قصہ پارینہ بنتا چلا جارہا ہے اب تو قلم اور کاغذ کا رشتہ اتنا کمزور ہوتا جارہا ہے کہ نئی نسل میں تو ختم ہونے کے قریب ہے ۔ریٹائرڈ ہونے کے بعد کچھ کتب تو اپنے ادارے کی لائبریری میں چھوڑ آیا لیکن کچھ اہم اور ضروری کتابیں سرکاری گھر سے اپنے غریب خانہ لے آیا۔ لیکن بیگم اور بڑے برخوردار نے اس بات پر زچ کئے رکھا کہ یہ کتابیں کسی لائبریری کو کیوں وقف نہیں کرتے کئی بار کہا کہ ان میں ایسی کتابیں ہیں جن کے ساتھ میری بہت ساری یادیں وابستہ ہیں اور کچھ بار بار پڑھنے کی ہیں۔ اصل میں ہماری خواہش یہ ہے کہ اس جہاں فانی سے کوچ کے بعد اگرتصویر بتاں اور حسینوں کے خطوط نہ بھی نکلیں تو چند کتابیں توضرور نشانی کے طورپر نکلیں ۔ ہمارے بعد تو ویسے بھی ہمیں معلوم ہے کہ
اس گھر کا سب نظام ہے غیروں کے ہاتھ میں
باہر ہے میرے نام کی تختی لگی ہوئی
اب تو موبائل وکمپیوٹر فیس بک نے خطوط نویسی کو گزرے وقتوں کی کہانی اور نئی نسل کے لئے کار عبث بنا کر رکھ دیا ہے کیونکہ اب تو یاروں ‘ نازنیوں اورمہ جبینوں کے لئے لکھے گئے خطوط میل کے ان باکس میں ایسے محفوظ ہوتے ہیں کہ کوئی انہیں کھول نہیں سکتا۔
سوچتا ہوں وہ محبت بھرا زمانہ کتنا خوبصورت تھا کہ کسی خاص ہستی تک عید اور بعض دیگر مواقع پر خط پہنچانا ایک مہم جوئی سے کم نہ ہوتا تھا ‘ اب تو نہ قاصد و نامہ برکی منت سماجت کی ضرورت رہی نہ رسوائی اور بعض اوقات مار پیٹ کا خوف وڈر رہا کہ گوگل ‘ فیس بک ‘ وائس ایپ ‘ انسٹا گرام ‘ اسنیپ چیٹ اور نہ جانے اور کیا الا بلا ۔۔۔ آج کے شعراء سے اس ضمن کے سارے تلازمے اور صنائع و بدائع غارت ہو کر رہ گئے ۔ وہ دن بھی ہوا ہوئے کہ لوگ ہزار جتن کرکے محبوب یا منگیتر کی تصویر حاصل کرکے رکھا کرتے تھے اب تو ہر کسی کی تصویر سیل فون اور کمپیوٹر میں دستیاب ہے ‘ اور بقول منشی موجی رام
”کمپیوٹر” کے آئینے میں ہے تصویر یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
لیکن دل کی بات عرض کروں تو فون سیل یا کمپیوٹر کی سیاہ سپاٹ پردے میں وہ بات کہاں جو خط میں ہوتی تھی یار ‘ رشتہ دار اور محبوب کے خط کے چھونے میں جو ان کے لمس کی خوشبو اور قرب کا احساس ہوتا تھا وہ اب ان جدید ترقی کی چیزوں میں کہاں ‘ خط میں بالکل وہی روحانی جذبہ کار فرما تھا جوحضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے بینائی کی واپسی کا تھا ۔ یہ احساس کہ اس خط کو کسی نے خود تحریر کرکے اپنے ہاتھوں سے چھوا ہوگا اور بہت ممکن ہے کہ فرط جذبات میں چوما بھی ہو۔ خط و عید کارڈ وغیرہ کے فقدان سے اور اوپر سے مادیت کے سبب رشتے ناتے ‘ کچھ مصنوعی سے ہو گئے ہیں کیونکہ سیل فون کے ذریعے پیغامات کسی جذبے کی ملاوٹ کے بغیر روانہ کر دیئے جاتے ہیں۔ ہمارے زمانے (جوائی) میں کسی کو خط لکھنا یا عید مبارک دینا چاہتوں ‘ محبتوں اور جذبات میں گندھا ہوا ایک انمول معجون ہوا کرتا تھا ۔ جو اب فقط ا یک فاروڈنگ کلک پر مشتمل رہ گیا ہے ۔ سیاہ اسکرین کی اجارہ داری نے احساس محبت و مروت کو کچل کر ایک حقیقی قلبی تعلق کو مجازی و مصنوعی تعلق میں تبدیل کر دیا ہے ۔
ہے دل کے لئے موت مشینوںکی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

مزید دیکھیں :   نانبائیوں کے سامنے بے بس انتظامیہ