احتجاج مگر دائرے کے اندر

پاکستان تحریک انصاف نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی تک ملک بھر میں پرامن احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ اس گرفتاری کے فورا بعد گذشتہ روز ہونے والے احتجاج کے دوران جلائو گھیرائو اور اہم عمارتوں میں توڑ پھوڑ جیسے مناظر دیکھنے کو ملے۔گذشتہ روز صورتحال اس وقت کشیدہ ہوتی محسوس ہوئی جب مشتعل مظاہرین نے فوجی املاک، جیسا کہ پاکستانی فوج کے ہیڈکوارٹرز یعنی جی ایچ کیو اور کور کمانڈر ہائوس لاہور کی عمارتوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔مشتعل مظاہرین نے راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر ایک کے باہر نعرے بازی اور توڑ پھوڑ کی اور چند مظاہرین جی ایچ کیو کی عمارت کی حدود میں داخل ہو گئے ۔ لاہور کنٹونمنٹ میں کور کمانڈر لاہور کی رہائش گاہ کو آگ لگا دی گئی جبکہ دیگر کئی علاقوں میں فوجی چھانیوں میں بھی جلاو گھرا کیا گیا۔فوجی املاک اور تنصیبات کو نقصان پہنچانے اور ان علاقوں میں ہنگامہ آرائی کے خلاف قوانین سخت نوعیت کے ہیں جن کے تحت سزائیں بھی سخت ہو سکتی ہیں۔سیاسی قائدین کی گرفتاری اور ان پرالزامات کی بھرمار کوئی انوکھی بات نہیں یکے بعد دیگرے ماضی میں سیاسی قائدین کو گرفتاریوں اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا خود معزول وزیر اعظم کے دور حکومت میں بھی نیب کی کارروائیاں کوئی راز کی بات نہیں بدعنوانی کے الزامات کے باوجود سیاستدانوں کے خلاف کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مصداق عملی کارروائی سے نیب کی تحقیقاتی اور عدالتی کارروائی پر سوالات اٹھنا فطری امر ہے ۔ تحریک انصاف کے قائد کی متوقع مگر ڈرامائی انداز میں گرفتاری کا اسلام آباد ہائی کورٹ کے سخت نوٹس کے بعد قانونی قرار دینے کے بعد اب مزید معاملات تحقیقاتی عمل اور سپرد عدالت ہو گئیں جس کے خلاف پرامن احتجاج کا تحریک انصاف کو حق حاصل ہے لیکن گزشتہ روز جس طرح کی صورتحال سامنے آئی اور اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے جذباتی کارکنوں نے پی ٹی آئی کی پہلے سے طے شدہ حکمت عملی پر عملدرآمد کرکے جو صورتحال پیدا کی وہ بطور سیاسی جماعت ان کے حق میں اچھا نظر نہیں آتا۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نے اس عمل کو براہ راست فوج سے نفرت اور تصادم کا موقع بنا کر جس طرز کا احتجاج کیا وقتی اورجذباتی طور پر تو وہ اس میںخود کو کامیاب سمجھتے ہوں گے لیکن اس کے سنگین قانونی نتائج کا جب آغاز ہوگا تو اس کا مقابلہ مشکل ہوگا۔ خیبر پختونخوا میں بھی مختلف علاقوں میں کارکنوں نے فوجی تنصیبات ‘ گاڑیوں اور املاک کونشانہ بنانے کا جو قدم اٹھایا ہے اگراس کی بجائے وہ ایک معمول کا مگر بھر پور و پرامن احتجاج کرتے تو وہ زیادہ موثر ہوتا توڑ پھوڑ اور جلائو گھیرائو کے بعد اب وہ عملی طور پر یہ باور کراچکے ہیں کہ ان کا احتجاج پرامن اور قانون کے مطابق نہیں لہٰذا پولیس طاقت کا استعمال کر سکتی ہے ویسے بھی دفعہ 144 کی کھلم کھلا خلاف ورزی قانون سے متصادم کی راہ اختیار کرنا ہے اس کے بعد گرفتاریوں کا جوسلسلہ شروع ہو سکتا ہے وہ کڑی آزمائش کاوقت ہوگا۔ایسا لگتا ہے کہ قیادت کے احتراز کے بعد اس سارے عمل کا بوجھ اب زیریں سطح کے کارکنوں کو ہی اٹھانا ہوگا خاص طور پر عسکری تنصیبات و مقامات پر حملہ اور توڑ پھوڑ کے عمل کی خاص طور پر قیمت چکانی پڑے گی الایہ کہ عسکری قیادت اس حوالے سے درگزر سے کام لے ۔ قبل ازیں بھی مختلف مواقع پر تحریک انصاف کے کارکنوں کے احتجاج کا رخ عسکری مقامات کی طرف ہوا کرتا تھا گزشتہ روز کے واقعے کے بعد اب اس میں شدت کے باعث جو خلیج حائل ہو گئی ہے وہ ایک واضح عمل ہے اس اقدام سے تحریک انصاف طاقتور ہیئت مقتدرہ کی عملی مخالف جماعت تو بن گئی ہے الایہ کہ اس کے قائدین کسی مرحلے پر سمجھوتہ نہ کریں۔اس خاص نکتے سے قطع نظر جس منظم انداز میں اس موقع پر احتجاج کیا گیا اور نجی و سرکاری املاک اور تنصیبات پر بلوائیوں کے جتھوں نے حملہ کیا وہ بے حد افسوس ناک ہے ۔ سیاسی قائدین کی جانب سے اس طرح کے عمل کی حوصلہ افزائی خطرناک رجحان ہے پرتشدد احتجاج سے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ اپنے قائد کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایسا ہونا خود ان کے لئے کوئی کامیابی کا باعث عمل نہیں بلکہ یہ الٹا ان کے مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہے سیاسی حلقوں کے گروپوں کو پریشر گروپ اور طاقت کا استعمال کرنے والے عناصر کا تاثر قائم نہیں کرناچاہئے تحریک انصاف کی قیادت کو چاہئے کہ وہ قانون کی پابندی اور قانون و عدالتی عمل پر بھروسہ کرے اور نقص امن کا باعث بننے والے اقدامات سے گریز کرکے سیاسی حالات کا سیاسی طریقے سے اور عدالتی و قانونی معاملات کا متعلقہ فورم پر مقابلہ کرے امن پسندی اور قانون کا احترام ہی جمہوریت پسندی ہے دوسری جانب حکومت کوبھی ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہئے جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کے قائد کے خلاف انتقامی کارروائی کا تاثر قائم ہو۔

مزید دیکھیں :   ترکی کی صدی کا خواب