پشاور کا پھر محاصرہ

(زاہد میروخیل ) عمران خان کی گرفتاری کے بعدپاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے اتنے شدید ردعمل کی توقع ارباب اختیار کو نہیں تھی۔ خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں جس طرح سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچا یاگیاہے اس پر صرف افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ منگل کے روز کا احتجاج کچھ حد تک پر امن تھا ۔ملک کے کسی اور حصے بالخصوص پنجاب میں کارکنوں کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا استعمال نہیں کیا گیا لیکن خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع بشمول پشاور میں پولیس کی جانب سے بے تحاشا شیلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں اب یہ احتجاج پر تشدد مظاہروں میں تبدیل ہورہا ہے ۔اس احتجاج کے نتیجے میں سب سے زیادہ پشاور شہر متاثر ہواہے ۔دو روزسے پشاور کا پی ٹی آئی کے چند سو کارکنوں نے محاصرہ کر رکھا ہے ۔حاجی کیمپ سے شیر شاہ سوری پل تک کارکن جی ٹی روڈ پر احتجاج کر رہے ہیںاور وققہ وقفہ کے ساتھ سڑکوں پر کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے شہر کے تمام بازار تقریباََ بند اور آمدورفت کا نظام معطل پڑا ہےَ پشاور سے تقریباََ تمام اضلاع کا زمینی رابطہ منقطع ہوا ہے یہاں تک کہ پشاور کے مختلف علاقوں تک بھی لوگوں کی رسائی مشکل ہوگئی ہے ۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی تعداد بہت کم ہے اور ان کی رہنمائی کیلئے بھی کوئی قیادت موجود نہیں ، کارکن بغیر کسی رہنما کے گھروں سے نکلے ہیں اور انہیں یہ معلوم نہیں کہ کیا کرنا ہے؟
سوال بھی پیدا ہورہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کا کوئی رہنما ان مظاہروں کی قیادت کیلئے موجود نہیں اور مواصلاتی ذرائع بھی منقطع کئے گئے ہیں تو پھر احتجاج میں شامل ان کارکنوں کو ہدایات کون دے رہا ہے؟ دیکھنے میں آرہا ہے کہ کارکن بغیر کسی رہنمائی کے سڑکوں پر نکل پڑے ہیں اور ٹولیوں کی شکل میں مختلف مقامات پر احتجاج کررہے ہیں ۔کارکنوں کی طرح پولیس اہلکاروں کی تعداد بھی کم ہے جس کی وجہ سے پولیس بھی ایک جگہ تک محدود نہیں اور مختلف حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے ۔اس لئے پشاور میں معدودے کم کارکنوں کو بھی روکنا مشکل ہورہا ہے منگل کی شام سے بدھ کے روز تک پشاور کے شہری یر غمال بنے ہوئے ہیں اور پولیس کے تشدد نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اگر ابتداء ہی میں پولیس کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ کیا جاتا تو شاید کارکن اس حد تک نہ جاتے اور یہ احتجاج پر امن رہتا۔
خیبرپختونخوا میںجہاں بھی کوئی واقعہ ہوتاہے صدرمقام ہونے کی وجہ سے پشاورہمیشہ سے اس کی لپیٹ میں آکر لہولہان ہوتاہے۔2007 سے رواں برس کے پشاور پولیس لائنز پر حملے تک سینکڑوں المیے اس شہر کے لوگوں نے دیکھے ہیں ۔اس کے علاوہ عام طور پر گذشتہ ایک عشرے سے پشاور میں پیر کا روز ہمیشہ سے شہریوں کیلئے بھاری ہوتا ہے۔ مختلف شہروں سے لوگ یہاں پر احتجاج کیلئے آتے ہیں اور سڑکیں بند کرکے50لاکھ آبادی والے شہر کے انسانی حقوق کو معطل کرتے ہیں۔ سرکاری ملازمین اور عام لوگ اپنے مسائل کیلئے پشاور کا رخ کرتے ہیں اور یہاں پر احتجاج اپنا حق سمجھتے ہیں۔ لیکن پی ٹی آئی کے احتجاج کے بعد یہ تیسرا موقع ہے کہ پشاورمیں پر تشدد مظاہرے رونما ہوئے ہو،1997میں جب اندرون شہرپشاورگنج گیٹ سے جاوید زرگر کو بھائی اور دیگر رشتہ داروں سمیت ضلع خیبر کے قبائلیوں نے اغوا کیا ۔تو اس کے خلاف شہری گھروں سے نکل آئے تھے اورجلائو گھیرائو کے ساتھ ساتھ سڑکیں بند کرکے پر تشدد احتجاج کیاتھا۔مظاہرین نے نعشیں سڑکوںپررکھ کرایک دن احتجاج کیاتھااوراس کے بعد کئی روزتک شہر کاماحول کشیدہ رہا تھا۔اس واقعے کے تقریباََ8سال بعدجب 2005 میں ناروے میں گستاخانہ خاکے شائع کئے گئے تو اس واقعہ کیخلاف پشاورکے ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکلے تھے اور توڑ پھوڑ کرتے ہوئے ڈائیووکمپنی کی گاڑیوں کو نذر آتش کردیاتھا۔اس وقت بھی پشاورمیں بہت خطرناک صورتحال تھی اور پولیس کی جانب سے بے تحاشا فائرنگ کی گئی تھی اور آنسو گیس کے گولے فائر کئے گئے تھے۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد بننے والی صورتحال بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ،دنگا فساد اتنا بڑھ گیاہے کہ پشاورمیں حالات کو کنٹرول کرناپولیس کے بس کی بات نہیں رہی،عام طورپر اس قسم کے واقعات میں پولیس مذاکرات کرتی ہے لیکن پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے احتجاج شہر میں پھیل گیا۔

مزید دیکھیں :   آئی ایم ایف پاکستانی عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ مزید بڑھانے پر بضد