اشتعال کیوں پھیلا؟

منگل کورات گئے تک پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے احتجاج کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سسٹم کو بند کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے سکیورٹی اداروں کو توقع تھی کہ لوگ سڑکوں پر نہیں نکلیں گے لیکن بدھ کے روز صبح سے ہی کارکن ہشت نگری میں جمع ہوگئے اور خیبر روڈ کی جانب پیش قدمی شروع کردی جس کو روکنے کیلئے پولیس کی جانب سے آنسوگیس کا استعمال کیا گیا۔ وقفے وقفے کے ساتھ پولیس کی جانب سے ہوائی فائرنگ کے ساتھ ساتھ سیدھی فائرنگ بھی کی گئی جس کی وجہ سے تین درجن سے زائد افرادزخمی ہوئے ہیں۔
آنسو گیس کے شیل لگنے کی وجہ سے بھی پی ٹی آئی کے کارکن زخمی ہوئے ہیں۔ جوابی کارروائی میں کارکنوں نے غلیل اور لاٹھیوں کا استعمال کیا اور پولیس پر پتھرائو بھی کیا ۔جس کی وجہ سے سڑکوں پر ہر جانب پتھر وں کے ڈھیر بن گئے ۔کارکن اتنے مشتعل تھے کہ راستے میں انہیں جو بھی نظر آیا۔ انہوں نے اس کو نذر آتش کردیا یہاں تک کہ کارکنوں کو طبی امداد کیلئے ہسپتالوں کو منتقل کرنے والی ایدھی ایمبولینس کو بھی آگ لگادی۔ پولیس نے کارکنوں کو اشتعال دلانے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی تھی ۔
کارکنوں پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیلئے پشاور پولیس لائنز سے اہلکاروں کو لایا گیا تھا جبکہ شہر کی حفاظت کیلئے پولیس کے دیگر تمام تھانہ جات کو بند کردیا گیا تھا اور پولیس اہلکار سڑکوں پر نظر نہیں آئے جبکہ پولیس کی موبائل گاڑیاں بھی غائب تھیں ۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے بچے بھی احتجاج میں شامل تھے جبکہ نوجوان کارکنوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔

مزید دیکھیں :   49 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری