سیاسی حلقوں میں فکری تقسیم ؟

سانحہ9 مئی کے حوالے سے احتجاج کے ضمن میں ” ریڈ لائن” کراس کرنے کے نتائج ملکی سیاسی حلقوں کے مابین فکری تقسیم میں ڈھلتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوائیوں نے جس طرح ملک دشمنوں کی خواہش کو (شعوری یا غیر شعوری طور پر) پورا کرکے انہیں پاکستان کا عالمی سطح پر تمسخر اڑانے کا موقع فراہم کیا ‘ اس پر پوری قوم سکتے کی سی کیفیت سے دوچار ہے اور اگر قومی سلامتی کمیٹی نے ان ملک دشمن کارروائیوں میں ملوث افراد کو انفرادی یا اجتماعی طور پر قانون کے کٹہرے میں لانے کے حوالے سے ان پر مقدمات کو فوجی عدالتوں میں چلانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ دوسری طرف ملک کے اہم سیاسی رہنمائوں کی جانب سے تحریک انصاف پر پابندی لگانے کے مطالبات سامنے آرہے ہیں تو دوسری جانب بعض ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے اسی حوالے سے یعنی سویلین کورٹ مارشل اور تحریک انصاف پر بحیثیت سیاسی جماعت پابندی کی بھی مخالفت کی جارہی ہے’ اس ضمن میں ماضی میں جھانک کر دیکھا جائے تو بھٹو مرحوم کے دور میں سیاسی مخالفت ہی کی بناء پر نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) پر پابندی کی کارروائی کی گئی مگر اس کے نتائج سے ہر پاکستانی اچھی طرح آگاہ ہے اور جب ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ کر نیپ پر پابندی کا جائزہ لیا تو اس نے پارٹی رہنمائوں پر ”غداری” کا مقدمہ ختم کر دیا تاہم تب تک نیپ پہلے سردار شیر باز مزاری کی سربراہی میں ایک اور شکل میں اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع کر چکی تھی اور ولی خان کی رہائی کے بعد سابقہ نیپ نے اے این پی کے نام کا چولا پہن کر پھر سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا، جو آج تک جاری ہیں، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی سیاسی جماعت پر پابندی لگانے سے وہ مقاصد کبھی پورے نہیں ہوتے جن کو حاصل کرنے کے لئے پارٹی پر پابندی لگائی جاتی ہے جبکہ اس کے برعکس اگر مبینہ ملک دشمنی میں ملوث پارٹی کے متعلقہ رہنمائوں پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں ان کو سیاست سے ہمیشہ کے لئے خارج کر دیا جائے تو متعلقہ پارٹی کی صفوں میں سے ”سیاسی گند” کو صاف کیا جا سکتا ہے’ اسی طرح سیاسی ورکروں میں بھی تفریق کرکے صرف سنگین نوعیت کے جرم میں ملوث افراد پر ہی سویلین کورٹ مارشل کا قانون نافذ کیا جائے جبکہ دیگر عام کارکنوںکے خلاف عام سول عدالتوں ہی میں مقدمات چلائے جائیں تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہونے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں، بہر حال بہتر یہ ہے کہ اس حوالے سے تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز باہم گفت و شنید سے اس مسئلے کو حل کریں تو بہتر ہے۔

مزید دیکھیں :   رجب طیب اردوان کی تیسری مرتبہ کامیابی