بلوچستان میں دہشت گردی کا تازہ واقعہ

بلوچستان میں پاک ایران سرحد کے قریب دہشت گرد حملے میں معمول کی گشت پر مامور ایک افسر سمیت فوجی جوانوں کی شہادت پاک وطن کیلئے جان نچھاور کرنے کی قسم پورا کرنے والوں کی تعداد میں چھ کا مزید اضافہ ہے۔ حالیہ دنوں میں شمالی وزیرستان میں بھی دہشت گردوں کیخلاف کارروائی میںشہادت کے واقعات ہوچکے ہیں۔ اگرچہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کا تو خاتمہ ہوچکا ہے لیکن پاکستان میں ابھی اس کا خاتمہ نہیں ہوا، آئے روز کے واقعات اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان دشمن عناصر اور ان کے سرپرست ممالک کو پاکستان میں امن کی مکمل بحالی منظور نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جب بھی حریت پسندوں کا جذبہ حریت وشہادت معمول کی جھڑپوں اور جدوجہد سے ہٹ کر غیرمعمولی ہو جاتی ہے، بوکھلاہٹ کا شکار بھارت بلوچستان میں عموماً اور کراچی میں بھی دہشت گردی اور حالات خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک طویل لڑائی لڑنے اور اقدامات کے بعد کراچی میں 'را' کا نیٹ ورک اب مؤثر نہیں رہا، حال ہی میں سندھ پولیس کے ایک عاقبت نااندیش اے ایس آئی کو'را' کیلئے کام کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا جو اس امر کا ثبوت ہے کہ بھارت اب بھی کراچی میں حالات خراب کرنے کی سازش میں مصروف ہے۔ بہرحال اس سے قطع نظر اس وقت بھارت کی بوکھلاہٹ کا بڑا سبب مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کی بڑھتی سرگرمیاں اور بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کرنے کا غصہ ہے۔ حال ہی میں ایک ریٹائرڈ بھارتی میجر نے بھارتی ٹی وی کے پروگرام میں بلوچستان میں دس سے پندرہ دنوں کے اندردہشت گردی وتخریب کاری کا صریح لفظوں میں عندیہ دیا تھا، بلوچستان کا حالیہ واقعہ اس دھمکی ہی پر عمل درآمد ہے۔ بلوچستان میں ایک عرصے تک حالات کی خرابی اور کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ماضی بعید کی بات نہیں جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان میں ناراض عناصر کو بہکا کر بھارت کن مقاصد کے حصول کی سعی میں ہے۔ ریٹائرڈ بھارتی میجر کی دھمکی کے بعد بلوچستان میں فوجی دستے کیخلاف چوری چھپے کی بزدلانہ دہشت گردی وتخریب کاری کے واقعے پر پاکستان کو اقوام متحدہ میں پیش کر کے بھارت کیخلاف اقدامات کا مطالبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ حالیہ واقعے سے ایک مرتبہ پھر بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔پاکستان بھارت کے عزائم سے ہرگز بے خبر نہیں، وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر واضح طور پر اس امر کا اظہار کیا ہے کہ بھارت حملے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بھی کنٹرول لائن پر حالیہ بھارتی اقدامات اور دراندازی کا جواز طشت ازبام کرچکی ہے۔ بھارت کی انتہاپسند حکومت اور بھارتی فوج کی پالیسیوں سے نہ صرف مقبوضہ کشمیر آگ وخون کی لپیٹ میں ہے بلکہ بھارتی ریشہ دوانیوں سے پورے خطے کے استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔ بہتر ہوگا کہ بھارت اپنے گھر میں خود اپنے ہاتھوں لگی آگ کو بجھانے پر توجہ دے، اسے بھڑکا کر اور دوسروں پر الزام تراشی کا رویہ ترک کر دے، دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم وستم اور ہندوستان میں مسلم برادری کو اکثریتی ہندوانتہا پسندوں کی جانب سے نشانہ بنانے کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔ بھارتی عزائم اور اقدامات سے خطے میں مزید کشیدگی اور جنگ کے خطرات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں جس کے پیش نظر اولاً بھارت کو جنونی ذہنیت ترک کر کے ان اقدامات سے گریز کرنا چاہئے اور دوم اقوام عالم کو کورونا سے پیدا شدہ حالات کی اس سخت گھڑی میں بھارت کو خبر دار کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے اور پاکستان میں اپنے پٹھوئوں کے ذریعے حالات خراب کرنے سے عملاً باز آئے۔ پاکستان کو بھارتی دھمکی کے بعد پیش آمدہ واقعات کو ہر فورم پر اُٹھانا چاہئے اور بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر نے میں دوست ممالک سے بھی تائید وحمایت حاصل کرکے زیادہ مؤثر انداز میں عالمی برادری کو احساس دلانا چاہئے کہ ان کی مزید خاموشی سے خطے کا امن خطرے سے دوچار ہوگا۔ پاکستان اوربھارت دونوں کا مفاد اسی میں ہے کہ پراکسی وار سے گریز کیا جائے، دونوں ممالک جب تک پراکسی وار کے اثر سے باہر نہ آجائیں تو ان کیلئے یہ مشکل ہوگا کہ وہ اپنے داخلی ومعاشی مسائل پر پوری طرح توجہ دے سکیں۔ بھارت کو بلوچستان میں پراکسی وار لڑنے کی بجائے مقبوضہ کشمیر بالخصوص اور بھارت کے دیگر حصوں میں بالعموم انتہا پسندانہ سوچ اور تعاصب کے خاتمے پر توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے ورنہ بھارت کا وجودان تعصبات اور تشدد میں کہیں گم ہو کر رہ جائے گا اور جمہوری بھارت کا وجود ہی شاید باقی نہ رہے۔