اندرونی معاملات اور آئی ایم ایف

مہنگائی۔۔۔ دعوے اور حقائق

سرکاری سطح پراشیائے خورد ووش کی قیمتوں میں چالیس فیصد کمی آنے کے دعوے سامنے آئے ہیں تاہم اس حوالے سے دعوئوں اور زمینی حقائق میں کس حد تک ہم آہنگی اور کس حد تک بعد المشرقین کی صورتحال ہے’ اس حوالے سے وفاقی سطح پر قائم ادارہ شماریات کی جانب سے تاحال ٹھوس دعوے سامنے نہیں آئے بلکہ وہاں بھی ملی جلی کیفیت ہے یعنی بعض اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور بعض میں کمی کاتاثر ہے ‘ جبکہ یہاں یعنی صوبائی دارالحکومت پشاور میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے خبریں سامنے آئی ہیں جن کے مطابق مقامی طور پرتیار ہونے والا گھی 480 روپے کلو سے کم ہو کر 400 روپے ‘ برانڈڈ گھی 600 روپے سے کم ہو کر 560 روپے کلو ہوگیا ہے، چینی ہول سیل میں125 روپے سے 115 روپے اور 110 روپے کلو میں فروخت ہو رہی ہے’ اسی طرح چاول ‘ دال چنا اور مختلف دالوں کی قیمتوں میں بیس روپے سے ساٹھ روپے فی کلوگرام تک کی کمی کا بتایا جارہا ہے ‘ بیس کلو فائن آٹا اور سپیشل آٹا کی قیمتوں میں بھی کمی کے دعوئے کئے جا رہے ہیں یہ بھی دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی آگئی ہے تاہم زمینی حقائق مکمل طور پر ان دعوئوں کی تصدیق نہیں کر رہے ہیں اور ممکن ہے کہ تھوک مارکیٹ میں معمولی ردو بدل کی سی کیفیت ہو جبکہ عام پرچون دکانوں پر صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی دکھائی نہیں دیتی اور معمولی مقدار میں یہ اشیاء ضرورت کے تحت گھر لے جانے والوں کو یہ اشیاء اب بھی عمومی طور پر مہنگے داموں ہی فروخت کی جا رہی ہیں’ یہاں تک کہ یوٹیلٹی سٹورز پر بھی عوام کو ضرورت کے تحت گھی اور چینی کے حصول میں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ بلا ضرورت ان اشیاء کے ساتھ دوسری چیزیں بھی ضرور خریدیں حالانکہ اس حوالے سے کوئی قانونی پابندی نہیں ہے’ اس ضمن میں ایک عرصہ سے اس قسم کے الزامات بھی سامنے آرہے ہیں کہ یوٹیلٹی سٹورز کا عملہ مبینہ طور پر عام لوگوں کو تو سستی اشیاء مہیا کرنے کو تیار نہیں ہوتے مگر یہی اشیاء ملی بھگت سے تاجروں کو باہر ہی باہر سے فروخت کر کے کھلی مارکیٹ میں مہنگے داموں بیچنے سے اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ یہ تمام صورتحال بہرحال عوام کے مفاد میں نہیں اور عوام کو لوٹنے کی یہ کارروائیاں بند کرنے پر توجہ دینا ضروری ہے ۔