اندرونی معاملات اور آئی ایم ایف

پاکستان کے اندرونی معاملات اور آئی ایم ایف

وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے آئی ایم ایف مشن چیف کے بیان کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا جو الزام عائد کیا ہے وہ بہت ہی چشم کشا ہے، یہ درست ہے کے آئی ایم ایف کا مینڈیٹ کسی ملک کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں ہے’ اس کا کام قرضے لینے کے خواہشمند ممالک کے اقتصادی اور معاشی معاملات تک ہی محدود ہے اور اگر اس حوالے سے آئی ایم ایف کے کنٹری مشن چیف کے تازہ بیان کو دیکھا جائے تو اس نے اپنی حدود سے تجاوز کرکے پاکستان کو اقتصادی طور پر بلیک میل کرنے کی کوشش کی ہے ‘ وزیر مملکت برائے خزانہ نے آئی ایم ایف چیف مشن کے بیان کو غیرمعمولی نوعیت کا بیان قرار دے کر آئی ایم ایف کے مقاصد کو طشت ازبام کر دیا ہے’ وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان قانون کے مطابق ہی چل رہا ہے’ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت آئی ایم ایف کا مینڈیٹ نہیں’ قرض پروگرام میں تاخیر پاکستان اور آئی ایم ایف دونوں کے مفاد میں نہیں ہے’ وزیراعظم نے ایم ڈی آئی ایم ایف کو شرائط پر عمل درآمد پروگرام مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے’ امید ہے نئے بجٹ سے پہلے سٹاف لیول معاہدہ ہوجائے گا’ انہوں نے کہا کہ 30 جون کو آئی ایم ایف پروگرام ختم ہو جائے گا’ آئی ایم ایف سے ڈیل نہ ہوئی تو وزارت خزانہ آنکھیں بند کرکے نہیں بیٹھی’ ہر وقت پلان بی بھی موجود ہوتا ہے’ ہماری ترجیح آئی ایم ایف پروگرام ہے جبکہ آئندہ بجٹ میں عوام کوریلیف دیا جائے گا، جہاں تک آئی ایم ایف کا تعلق ہے اس کا کام مختلف منصوبوں کاجائزہ لے کر قرض دینے سے پہلے اس بات کا جائزہ لینا ہوتا ہے کہ حکومت اس کے قرضوں کی بہ حفاظت واپسی کے لئے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے’ یعنی وہ قرض کی رقم ڈوبنے کے خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سے بچائو کی تدابیر کو قابل عمل ہونے کی تسلی کے بعد ہی قرض دیتی ہے’ اس حوالے سے حکومت ٹیکسوں کے نظام کی وضاحت کرنے کی پابندی ہوتی ہے جبکہ گزشتہ روز آئی ایم ایف کے مشن چیف نیتھن پورٹر نے پاکستان کے ساتھ قرضے کے حصول کے حوالے سے ممکنہ معاہدے پر ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کی سیاسی پیش رفت سے آگاہ ہیں’ دراصل یہی وہ نقطہ نظر تھا جسے وزیر مملکت نے غیر معمولی نوعیت کا بیان قرار دے کر اسے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا’ اس میں قطعاً شک نہیں کہ آئی ایم ایف کی سخت سے سخت شرائط پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کے عوام کی محاورةً ”چمڑی تک ادھیڑ لی گئی ہے” جبکہ ایک کے بعد دوسرے ٹیکس کے نفاذ کی ”خواہش” بھی آئی ایم ایف کے قدموں میں ڈھیر کی جاتی رہی’ مگر بقول وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار جب بھی پاکستان کی معیشت بہتر ہونے لگتی ہے کوئی سانحہ ہو جاتا ہے’ اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف کی وجہ سے ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں’ انہوں نے بھی کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے نویں جائزے کے لئے سب کچھ ہو چکا ہے’ گزشتہ حکومت کی وعدہ خلافی کی وجہ سے ملک کو نقصان پہنچا ‘ اسحاق ڈارکا اشارہ عمران حکومت کے آخری دنوں میں تحریک عدم اعتماد لائے جانے کے امکانات کی وجہ سے آئی ایم ایف معاہدے سے یوٹرن لینے کی جانب تھا جس کے بعد آئی ایم ایف نے موجودہ حکومت کے ساتھ نئے معاہدے میں کڑی شرائط عائد کرنے کا رویہ ہے’ حالانکہ حکومت نے آئندہ بجٹ کے حوالے سے تجاویز کامسودہ بھی آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کر دیا ہے اور وہ یہ امید لگائے بیٹھی ہے کہ بجٹ کے اعلان سے پہلے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے پایا جائے گا جس کے بعد دیگر ممالک سے بھی فنڈز کی دستیابی ممکن ہوجائے گی تاہم صورتحال کے حوالے سے جہاں آئی ایم ایف کا رویہ سخت سے سخت تر دکھائی دے رہا ہے اور مشن سربراہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امید ہے کہ آئین کے مطابق آگے بڑھنے کا پرامن راستہ تلاش کیاجائے گا تو اس کا سیدھا سادہ مقصد عمران خان کی جماعت کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر دبی زبان میں اظہار تشویش کے سوا کچھ بھی نہیں ہے’ خصوصاً تحریک انصاف کے رہنمائوں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات کے فوجی عدالتوں میں چلائے جانے کے فیصلے پر ”تنقید” کرنا ہے جو دراصل بعض عالمی قوتوں کی جانب سے برملا اعتراضات سے بچنے کی راہ تلاش کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے ذریعے اپنے مقاصدکی تکمیل ہے حالانکہ ابھی حال ہی میں امریکہ میں سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے اہم تنصیبات پرحملوں کے خلاف امریکی حکومت کے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تو کسی کو اعتراض نہیں ہے’ بہرحال آئی ایم ایف کے مشن چیف نے بقول وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کرتے ہوئے بلا ضرورت پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت کی ہے’ اس لئے اس اقدام کی مذمت ضروری تھی’ اس قسم کے غیر ضروری بیانات کا صرف ایک ہی مقصد دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان کو قرض دینے کے معاملے کو طول دے کر (خدانخواستہ) ڈیفالٹ کے خطرے سے دو چار کیا جائے تاہم وزیر مملکت نے واضح کر دیا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے پلان بی پر عمل کی راہ کھلی ہے’ امید ہے کہ آئی ایم ایف کے متعلقہ حکام اپنے رویئے پر نظر ثانی کریں گے اور نہ صرف کڑی شرائط کے سلسلے کو مزید طول دینے سے احتراز کرتے ہوئے قرض کے معاہدے کو حتمی شکل دیں گے بلکہ اپنی”مداخلت” کو اپنے مینڈیٹ تک ہی محدود رکھیں گے ۔