سیاسی جماعتوں کی بہار اور تانگہ پارٹیاں

پاکستان کے لوگ اس قدر جمہوریت پسند ہیں بلکہ جمہوریت ان کی گھٹی میں یوں پڑی ہوئی ہے کہ ان کا بس چلے تو ہر شخص اپنی الگ سیاسی جماعت بنا کر میدان میں اترے’ یہ خاصیت انہیں متحدہ ہندوستان کے دور سے ایک طرح سے گویا وراثت میں ملی ہے جب انگریزوں نے غلام ہندوستان میں عوام کے اندر خوئے غلامی کو آسانی سے تسلیم نہ کرنے اور ہر لمحہ آمادہ بہ بغاوت رہنے کی خو بو محسوس کی تو انہیں یہ لگا کہ جلد یا بدیر انگریزوں کو یہاں سے بوریا بستر گول کرتے ہوئے انگلستان مراجعت پر مجبور ہونا پڑے گا تاہم وہ چاہتے تھے کہ واپسی سے قبل برصغیر میں انگریزی جمہوریت کی جڑیں مضبوط کر کے جائیں، جس کے کئی مقاصد تھے تاہم یہ ان کی تفصیل میں جانے کا موقع نہیں ہے’ بس سرسری سی ایک نظر اس دور کے معروضی حالات پر ڈالتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ برصغیر میں جمہوریت کی جڑیں استوار کرنے کے لئے انہوں نے انڈین نیشنل کانگریس کے نام سے ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی اور اس کے ذریعے ہندوستانیوں کو جمہوریت کا درس دینے لگے’ اس جماعت کی دیکھا دیکھی بعد میں مزید کئی جماعتیں قائم ہوئیں،1906ء میں مسلم لیگ معروض وجود میں آئی جو برصغیر کے مسلمانوں کی ہر طرح سے نمائندگی کا سمبل بن گئی’ اس کے ساتھ دیگر لاتعداد جماعتیں بھی قائم ہوئیں’ ان میں خاکسار تحریک جو نازی جرمنی سے خاصی متاثر تھی اور اس جماعت کے سربراہ علامہ عنایت اللہ خان المشرقی نے اپنے قیام انگلستان حصول تعلیم کے بعد واپسی پر نازی جرمنی کے لیڈروں سے ملاقات میں بہت کچھ سیکھا’ یہاں تک کہ انہی کی طرز پر خاکی وردی اور نازی جرمنی ہی کے نشان بیلچہ کو خاکسار تحریک کے کارکنوں کیلئے نہ صرف لازمی قرار دیا بلکہ باقاعدہ جیش بنا کر فوجی طرز کی پریڈ بھی ان کی تربیت کا حصہ تھا’ انگریز ان کی اس ”نازی نما سیاست”سے بہت خوفزدہ تھے اور ان کو ”پاگل” کے لقب سے یاد کر کے ان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے پر مجبور ہوئے’ بعد میں یعنی قیام پاکستان کے بعد بھی انگریز کی تربیت یافتہ بیورو کریسی اور بعض سیاسی حلقے اسی پروپیگنڈے کا شکار نظر آئے’ یہاں تک کہ تقسیم ہند کے وقت علامہ مشرقی نے بانی پاکستان کو مبینہ طور پر خبردار کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ ”لولا لنگڑا پاکستان مت لو” یہ ہندو تمہارا پانی بند کر دیں گے”۔ ان کے اس بیان کی حقانیت کیا ہے یعنی تب انہوں نے واقعی یہ الفاظ کہے تھے یا نہیں تاہم اگر کہے تھے تو آج ہم اسی صورتحال سے دو چار ہیں یعنی ہندوستان نہ صرف ہمارے حصے کے دریائوں پر بھی قابض ہو کر ان پر ڈیم بنا رہا ہے اور ہمارے دریا خشک کر کے ہمیں خشک سالی کا شکار بنا رہا ہے بلکہ جب چاہتا ہے اضافی پانی چھوڑ کر ہمارے دریائوں میں سیلاب لے آتا ہے، خیر یہ تو چند جملہ ہائے معترضہ تھے’ اصل مسئلہ تو انگریزوں کی پالیسی کے تحت سیاسی جماعتوں کی بھرمار ہے اور تقسیم برصغیر بلکہ پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ نہ صرف پاکستان کی تخلیق میں اہم کردار ادا کرنے والی آل انڈیا مسلم لیگ کے بطن سے مختلف ادوار میں بھی کئی نئی جماعتیں نکل کر اصلی مسلم لیگ ہونے کی دعویدار ہوئیں اس کی ابتداء ایوبی آمریت کے دور میں ہوئی جب ایوب خان نے مارشل لاء کے خاتمے کا اعلان کرنے سے پہلے ایک کنونشن بلوا کر متحدہ مسلم لیگ کے اندر سے ایک شاخ علیحدہ کی جسے بعد میں کنونشن مسلم لیگ کے نام سے یاد کیا جانے لگا جبکہ قدیم زعماء مسلم لیگ نے اپنی شاخ کو کونسل مسلم لیگ کا نام دیا’ اسی طرح دیگر سیاسی جماعتوں کے اندر بھی ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوا اور نیشنل عوامی پارٹی جیسی ایک اور ملک گیر جماعت میں بھی دو دھڑے بنے یعنی ایک مائو نواز جس کی قیادت ملکی سیاست میں جلائو گھیرائو کا نعرہ لگانے والے مولانا عبدالحمید بھاشانی کے ہاتھ آئی جبکہ ماسکو نواز نیپ خان عبد الولی خان کی قیادت میں سیاست کرنے لگی’ سقوط ڈھاکہ کے بعد دونوں ھڑے فطری طورپر اپنے اپنے حصے میں ہی رہ گئے جبکہ اس سے پہلے ایوب حکومت سے علیحدہ ہونے والے سابق وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی’ بھٹو مرحوم کو اقتدار سے محروم کرنے کے بعد آمر ضیاء الحق نے نہ صرف ملک میں جماعتی انتخابات پر پابندی لگائی بلکہ بعد میں غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد کروا کر (حیرت انگیز طور پر ) انہی اسمبلیوں کی کوکھ سے ایک بار پھر مسلم لیگ کے جنم کا ڈرامہ رچایا’ اس کے بعد سیاسی جماعتوں کی مزید تقسیم در تقسیم تاریخ کا حصہ ہے جو اتنی پرانی بھی نہیں کہ اسے دوہرایا جائے اور یہ سلسلہ آج تک نہیں رکا ‘ اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ سابق حکمران جماعت تحریک انصاف بھی ملکی سیاست میں روایتی تقسیم کے تحت دھڑے بندی کا شکار ہو رہی ہے اور جس طرح اس جماعت کو ”کہیں کی اینٹ ‘ کہیں کا روڑہ’ بھان متی نے کنبہ جوڑا” کے محاورے کو عملی شکل دیتے ہوئے اکٹھا کیا گیا تھا اب اس کا بھی دیگر کچھ سیاسی جماعتوں کے جیسا حشر ہو رہا ہے ‘ اور ”نائن فائیو” جسے پاکستان کے نائن الیون سے تشبیہ دی جا رہی ہے کے بعد پارٹی کے کئی رہنما اور دیگر”وفادار” جس طرح پارٹی کو چھوڑ کر جا رہے ہیں اس میں نیا تو کچھ بھی نہیں ہے بلکہ پاکستانی روایتی سیاست کا ایک تسلسل ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ نے ماضی کے حالات سے کوئی سبق نہ سیکھتے ہوئے جس طرح اس جماعت کو تخلیق کرکے ملک پر مسلط کیا اور اس جماعت نے خیبرپختونخوا میں نو سال جبکہ وفاق میں پونے چار سال کے عرصے میں جن حرکات سے پاکستانی معیشت کا کریاکرم کیا آج اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں، اگرچہ مسئلہ محولہ جماعت کی کارکردگی کے حوالے سے تجزیہ کرنا نہیں ہے جس کیلئے الگ سے کالموں کی ایک پوری سیریز کی ضرورت ہے بلکہ مسئلہ سیاسی جماعتوں کے اندر ٹوٹ پھوٹ اور مصنوعی طریقوں سے بنائی ہوئی سیاسی جماعتوں کے فطری انجام تک پہنچنے کے مراحل پر گفتگو کر کے اصل حقائق جاننے کا ہے اور انہی حالات کا شکار ہو کرجس طرح اب تحریک کی بقول مریم نواز” کرچیاں” بکھر رہی ہیں’ اسے جماعت کیلئے ”فطری انجام” ہی قرار دیا جا سکتا ہے’ بہرحال ملکی سیاست میں نہ یہ کوئی پہلی بار ہو رہا ہے نہ آخری قرار دیا جاسکتا ہے بلکہ پارٹیوں کی تعداد تو اس قدر زیادہ ہے کہ ان میں اکثر سیاسی جماعتوں پر تانگہ پارٹیوں کی پھبتی کسی جاتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ پھبتی بھی غنیمت ہے کہ کوئی جماعت تانگہ میں سما جانے کے قابل ہو’ یہاں تو موٹرسائیکل’ سائیکل بلکہ پیدل پارٹیوں کی بھی کمی نہیں جیسا کہ بھارت میں ”انا ہزارے” نے احتجاج کا ڈول ڈالتے ہوئے ہندوستان کے عوام کو جھنجھوڑ کر کھ دیا تھا’ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے ہاں کی تانگہ’ موٹرسائیکل اور سائیکل پارٹیوں کے اندر وہ جرأت نہیں جس سے عوام جاگ اٹھیں اور صورتحال بقول احمد مشتاق یہ ہے کہ
وہی گلشن ہے لیکن وقت کی پرواز تو دیکھو
کوئی طائر نہیں پچھلے برس کے آشیانوں میں