آئین کے راستے آئے تھے،اطمینان قلب کے ساتھ واپس جا رہے ہیں،شہبازشریف

ویب ڈیسک: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وقت اور ریکارڈ گواہی دے گا کہ مختصر ترین مدت میں پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، پاکستان کی ڈوبتی کشتی کو بدترین طوفانوں سے بچا کر پر امن ساحلوں کی طرف واپس لے آئے ہیں۔ قوم سے الوداعی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر راجا ریاض کی مشاورت سے انوار الحق کاکڑ کو نگراں وزیراعظم منتخب کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ امید ہے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد یقینی بنائیں گے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ سابق حکومت شرائط کی جن زنجیروں میں پاکستان کو جکڑ گئی تھی، وطن کو ان سے آزاد کروایا، صرف ماضی کی تاریکیاں ختم نہیں کیں، روشن مستقبل کے چراغ بھی روشن کر کے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ سابق حکومت نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف ) سے معاہدہ توڑ کر آنے والی حکومت کیلئے بارودی سرنگیں بچھائیں، وطن دشمن پاکستان میں وہ منظر دیکھنا چاہتے تھے، جو دنیا نے سری لنکا میں دیکھا تھا۔ شہباز شریف نے کہا کہ آئین کے راستے سے آئے تھے، ضمیر اور قلب کے اطمینان کے ساتھ واپس جا رہے ہیں، ملک کی باگ ڈور نگراں حکومت کے سپرد کر رہا ہوں، قومی مفادات پر آنچ نہیں آنے دی، دوست ممالک کا اعتماد بحال کیا، سیلاب متاثرین کا ہاتھ تھاما، معاشی مشکلات کے باوجود کمزور طبقے کو ریلیف دیا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ پانچ ہزار میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی، 100 انڈیکس 49 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا جو 6 سال کی بلند ترین سطح ہے، میڈیا کو آزادی دی اور میڈیا ورکرز کو حقوق دئیے۔ انہوں نے کہا کہ 3 کروڑ 30 لاکھ سیلاب متاثرین کو نقد اور اشیا کی صورت میں 100 ارب روپے تقسیم کیے
رمضان میں لاکھوں پاکستانیوں میں 70 ارب روپے کا مفت آٹا تقسیم کیا، دانش اسکول کا دائرہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا تک پھیلا رہے ہیں۔ شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ قرض لینا کوئی کامیابی نہیں، 16 ماہ کانٹوں پر چلنے کا سفر تھا، اس وقت اگر فوری انتخابات کر وا لیتے تو ہمیں سیاسی فائدہ ہوتا، ہم نے سیاسی خود غرضی نہیں کی قومی مفادات کو ترجیح دی، ایک طرف ریاست دوسری طرف سیاست تھی، ہم نے ریاست بچانے کا فیصلہ کیا، ہم نے اللّٰہ کا نام لے کر مشکل فیصلے کیے، اگر ملک دیوالیہ ہوجاتا تو کھانے پینے کی اشیا کی قلت ہوجاتی، اگر ملک دیوالیہ ہوجاتا تو نہ دوائی ملتی نہ پیٹرول صرف افراتفری اور ہنگامے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ وطن دشمن خوفناک مناظر دیکھنا چاہتے تھے، خود غرضوں کو صرف اپنی سیاست پیاری تھی، سب سازشیں ایک ایک کرکے ناکام ہوگئیں، مہنگائی ہوگئی لیکن اشیا کی قلت نہیں ہوئی۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ منصوبہ بندی کے تحت سرکاری عمارتوں کو جلایا گیا، فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، 9 مئی کا دن قوم کبھی نہیں بھلا سکے گی، قوم کو اپنے شہدا اور غازیوں پر فخر ہے۔

مزید پڑھیں:  جو بائیڈن کاملک کی سپریم کورٹ میں بڑی تبدیلیوں کا منصوبہ