مقررہ وقت پر انتخابات کے انعقاد کا سوال

سیکرٹری الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے عام انتخابات تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔ نجی ٹی وی سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا آئین کے تحت الیکشن کمیشن 90 روز میں انتخابات کرانے کاپابند ہے لیکن مردم شماری کے نوٹیفکیشن کے بعد ہم نئی حلقہ بندیاں کرانے کے بھی پابند ہیں۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں میں 4 ماہ سے زیادہ وقت لگے گا جس کے باعث انتخابات زیادہ سے زیادہ ساڑھے 4 ماہ تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔سیکرٹری الیکشن کمیشن کے بقول معاملات کے علاوہ بھی اس ضمن میں دیگر مشکلات کا بھی تذکرہ ہو رہا ہے جس کے مطابق پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کے حال ہی میں نوٹیفائیڈ شدہ نتائج کے تحت ملک بھر کے اضلاع کے بڑھے اور کم ہوئے حصے میں بہت بڑی عدم مماثلت، صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے لئے نئی حلقہ بندیوں کی آئندہ مشق کو پیچیدہ ہوگی۔معروف انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق آبادی کے اعداد و شمار کے مکمل تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ قومی اسمبلی کی نشستوں کے برعکس، صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تازہ حد بندی درجنوں اضلاع کو متاثر کر سکتی ہے۔چونکہ قومی اسمبلی کی غیر موجودگی میں صوبائی اسمبلیوں کی مجموعی نشستوں کی تعداد میں اضافے کے لئے آئینی ترمیم ممکن نہیں اس لئے الیکشن کمیشن کو ہر ضلع کے کم یا زیادہ ہونے والے حصے کو ہر اسمبلی کی موجودہ تعداد میں شامل کرنا ہوگا۔قانون میں ایک حالیہ ترمیم جو الیکشن کمیشن آف پاکستان کو دو ملحقہ اضلاع کے حصوں کو ملا کر انتخابی حلقہ بندیوں کی اجازت دیتی ہے ممکنہ طور پر اس مشق کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔قومی اسمبلی کی نشستوں کے لئے الیکشن کمیشن ہر ضلع کے حصے کا تعین کرتا ہے اور ان کی مجموعی آبادی کو متعلقہ صوبائی اسمبلی کے کوٹے کے ساتھ تقسیم کر کے نوٹیفائیڈ کرتا ہے، 0.5 سے زیادہ کے حصے کو ایک نشست کے طور پر شمار کیا جائے گا اور 0.5 سے کم کے حصے کو نظر انداز کیا جائے گا۔ان تمام مشکلات اور اختلافات کے ہوتے ہوئے معاملات طے کرنے کا واحد فورم الیکشن کمیشن ہوتا نظر نہیں آتابلکہ تنازعہ کی صورت میں اگرمقدمہ عدالت چلاگیا تو عدالت کے فیصلے پھرنظرثانی کی اپیل اور عدالت عظمیٰ سے حتمی فیصلہ آنے تک کے قانونی معاملات کااگر الجھائو سامنے آیا تو انتخابات میں محولہ مدت سے کہیں زیادہ وقت لگ سکتا ہے ایسے میں جب ملکی حالات اور بڑی حد تک سیاسی جماعتیں اپنے اپنے حالات اور مفادات کے باعث انتخابات کے جلد انعقاد میں سرگرمی سے دلچسپی نہ رکھتے ہوں اولین مدت توکجا سیکرٹری الیکشن کمیشن کے بیان کردہ مدت میں بھی ان کا انعقاد مشکل نظر آتا ہے ایسے میں الیکشن کے بروقت انعقاد کی واحد صورت قومی سطح پر اور ادارہ جاتی دونوں سطحوں پراتفاق رائے ہی رہ جاتی ہے جس پرتوجہ دی جانی چاہئے۔